تجارتی راہ داریاں اور قرض

تحریر: رضوان عطا
مصر میں نہر سویز کی تعمیر سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی سامان کی آمدورفت تیز تر ہو سکتی تھی۔ یورپ کے سامراجی ممالک کے لیے ہزاروں میل کا سفر کم ہوسکتا تھا۔
نہر کی تعمیر کی منصوبہ سازی اور نگرانی فرانسیسیوں نے کی، اس کے لیے سرمایہ یورپی بینکوں سے ملا اور مصری محنت کام آئی۔ لاکھوں مصریوں نے کھدائی میں حصہ لیا۔ کام جبراً بھی لیا گیا۔
مصری حاکم (خدیو، محمد سعید باشا) کا خیال تھا کہ اس سے مصر جدید ہو گا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اب مصر افریقہ نہیں یورپ کا ملک بن گیا ہے۔ "تجارتی راہ داریاں اور قرض” پڑھنا جاری رکھیں

سامراجی ہوس کا پیدا کردہ شامی بحران

9069279588_4fb382429c_k
لبنان میں شامی مہاجر بچے۔

تحریر: نک کلارک

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ہزاروں افراد بمباری کے زد میں موت کے منتظر ہیں۔ وہ خونیں ردانقلابی وقتوں میں اثر و رسوخ کے لیےلڑی جانے والی پیچیدہ جنگ کے آخری اہداف میں سے ہیں۔

شام اور روس "غوطہپر زور دار فضائی حملے کر رہے ہیں۔ یہ باغیوں کے آخری محصور علاقوں میں سے ہے، جہاں چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی دوران کردوں کے زیرانتظام ملک کے شمالی حصے میں قومی آزادی کی لڑائی لڑنے والے جنگجو اقتدار کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ امریکی پشت پناہی میں کردوں کی تنظیم "وائی پی جیمغربی اتحادی ترکی سے لڑنے کے لیے شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔

"سامراجی ہوس کا پیدا کردہ شامی بحران” پڑھنا جاری رکھیں

ایران میں احتجاج "برہمی اور آزادی کی شدید خواہش” کا اظہار

تحریر: نِک کلارک

بے روزگاری، غربت اور بالائی سیاسی طبقے کے خلاف ایران بھر میں پھیلنے والے احتجاج کو حکومتی فورسز کی جابرانہ کارروائیوں کا سامنا ہے۔

ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں افراد کے احتجاج 2009 کے بعد بے چینی کی دوسری بڑی لہر ہیں۔ پولیس سے ٹکراؤ کے بعد سوموار تک کم از کم 15 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی تھی۔ احتجاجوں کے سلسلے کا یہ پانچواں دن تھا۔

احتجاج گزشتہ ہفتے جمعرات کو اس وقت شروع ہوئے جب شہر مشہد میں صدر حسن روحانی نے مجوزہ بجٹ پیش کیا جس میں کٹوتیوں (آسٹیرٹی) اور قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔

"ایران میں احتجاج "برہمی اور آزادی کی شدید خواہش” کا اظہار” پڑھنا جاری رکھیں

پناہ کی تلاش

رضوان عطا

سمندر اور زمین کے راستے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ رخت سفر باندھنے والوں کی اکثریت کاتعلق ان ممالک سے ہے جن میں خانہ جنگی، مذہبی شدت پسندی، غربت اور آمریت نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ان بدنصیب ملکوں میں شام، عراق، افغانستان اور بعض افریقی ممالک نمایاں ہیں۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی موج درموج آمد کے بعداسے دوسری جنگ عظیم کے بعد آنے والا سب سے بڑا پناہ گزین بحران قرار دیتے ہیں۔ "پناہ کی تلاش” پڑھنا جاری رکھیں

مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

"مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں” پڑھنا جاری رکھیں

سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز


تحریر: رضوان عطا

بعضوں کی جانب سے سٹالن کی حمایت میں جدوجہد، جو آج کل زیادہ تر سوشل میڈیا پر اُمنڈ آئی ہے، عجب رنگ ڈھنگ لیے ہوئے ہے۔ سٹالن کی حمایت میں ایک چھوٹا سا رجحان لینن کے ٹراٹسکی کے خلاف بیانات کے مخصوص حصوں کو سامنے لا لاکر اسے غلط اور قابلِ نفرت ظاہر کرنے کے درپے ہے۔ اس کے نزدیک لڑکھڑا کر چلنے والی ٹوٹی پھوٹی سٹالینی روایت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے اگر ٹراٹسکی کو نیچ اور گھٹیا اور سٹالن کو پاک اور عظیم ’ثابت‘ کردیا جائے۔  "سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز” پڑھنا جاری رکھیں