حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

مصطفیٰ عمر

جولائی 2014ء

یہ مضمون صرف “مصری صیہونیوں”کو دیا جانے والا جواب نہیں، چاہے وہ دائیں بازو کے نسل پرست ہیں جیسے لمیس جابر، جومطالبہ کررہی ہے کہ مصر فلسطینی عوام پر وحشیانہ اسرائیلی جنگ کی حمایت کرے اور مصر میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدر کرنےسے پہلے ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے۔۔۔ اس کی نسل پرستی اتنی واشگاف ہے کہ یہ مذمت سے زیادہ کی حق دار نہیں۔۔۔ یا چاہے وہ دائیں بازو کی حزب المصریین الاحرار (فری ایجپشیئن) کے محمد زکی الشیمی کی طرح کے لوگ ہیں، جو لکھتا ہے اسرائیل مصر کا دشمن نہیں۔ ان معنوں میں وہ درست ہے کہ مصر کا حکمران طبقہ، جو مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے امریکی سامراج کے مفادات پر انحصار کرتا ہے اسرائیل کو، جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار ہے، اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

نہ ہی یہ محض مصری بائیں بازو کے اس حصے سے بحث کرنے کی ایک کوشش ہے جو مصری ریاست کا حامی ہے۔ وہ اس سراب کے دفاع میں نئی گہرائیاں تلاش کیے جارہے ہیں کہ “سیکولر” فوجی اقتدار اسلام پسندوں سے بہتر ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس، جو فلسطینی مزاحمت میں مرکزی تحریک ہے، “مذہبی فسطائی” تحریک ہے۔ یہ دیگر رجعتی مذہبی تحریکوں، جیسے اخوان المسلیمین یا انتہائی رجعتی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس یا جبھت النصرہ اور آئی ایس آئی ایس کے جیسی ہے ۔
پڑھنا جاری رکھیں

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

22 جون، 2014ء

ہم، زیر دستخطی، وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران فاٹا میں ہونے والا چھٹا فوجی آپریشن ہے، سابق “فیصلہ کن” آپریشنوں کی مانند ہوگاجن کے نتائج فاٹا کے عوام کی ہلاکتوں اور تکالیف کی صورت میں سامنے آئے۔

شمالی وزیرستان میں موجودہ آپریشن ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں جو فاٹا کے عوام کی تکالیف میں محض اضافہ کرے گا۔ جنہوں نے فوجی آپریشن کی “مکمل حمایت” کے اعلان کا انتخاب کیا ہے وہ ماضی (اور حال) کو نظرانداز کرنے کے ذمہ دار خود ہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے مسئلے کو نہ عسکری طریقہ کار سے اور نہ شدت پسندی کو فاٹا میں مرکوز سمجھ کر نپٹا جاسکتا ہے۔ ہمارے مطالبات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فی الفور اور غیر مشروط طور پر روکا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ماھینور کی جانب سے ہم سب کو جیل سے بھیجا گیا خط

[مصری سوشلسٹ، وکیل اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی ماھینورکو حال ہی میں انصاف مانگنے کے ’جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔]

مترجم: رضوان عطا

جب سے میری سزا کی توثیق ہوئی ہے تب سے میں زیادہ نہیں جانتی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیکن میں اندازہ کرسکتی ہوں کیوں کہ ہمارے ’واقف کاروں کے حلقے‘میں سے جب کوئی گرفتار ہوتا ہے توانٹرنیٹ کی دنیا ”اسے رہا کرو۔۔“ ، ”جرأت مند ۔۔۔ کو رہا کرو“ جیسے جملوں سے لد جاتی ہے۔ تاہم دمنھر جیل کے سیل نمبر1 میں قید ہونے کے بعد، جو سرکاری مالی امور اور قرض سے متعلق جرائم کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے ،میں جو بات میں بار بار کہہ رہی ہوں وہ ہے ”سماجی طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد!“۔  پڑھنا جاری رکھیں

یوکرین: کریمیاکے سامراجی بحران میں پوٹن کا جوا

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

3 مارچ 2014ء

روس کا کریمیا پر فوجی قبضہ یوکرین کو خانہ جنگی کے دھانے پر لے آیا ہے۔ یہ بحران تین مختلف بحرانوں کے اکٹھے ہونے کا اظہارہے۔

اول، 1991ء میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے غالب بدعنوان اور بدمعاش اولیگارشی کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اندرونِ خانہ کشمکش چل رہی تھی۔
پڑھنا جاری رکھیں

نیم برہنہ جدوجہد

نیم برہنہ جدوجہد

رضوان عطا

حقوقِ نسواں کی دعوے دار تنظیمفیمنکی شہرت اس کےاحتجاج کےطریقہ کارکی بدولت ہے۔ چند برس قبل جب یوکرین سے ابتدا کرنے والی اس تنظیم کی چندکارکن عورتوں نےبرہنہ بالائی نصف کےساتھ ذرائع ابلاغ کاسامنا کیا تو انہیں بہت توجہ دی گئی،جس کا ملنا تھا کہ ان کے لیے یہ طریق احسن ٹھہرا۔ ایک یوکرینی فیمن کارکن کےمطابقہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں شنوائی کا یہی واحد طریقہ ہے۔

یوکرین میں جسم فروشی کا مسئلہ سنگین ہے۔ جب کسی سنگین مسئلے کو نمٹانے کا بندوبست نہ ہو رہا ہو تو انتہائی قدم بھی اٹھ جاتےہیں اور انوکھے راہیں بھی سدھائی دینے لگتی ہیں۔ لیکن راہ وہی درست ہوتی ہے جو منزل کی طرف جارہی ہو۔  پڑھنا جاری رکھیں

ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

رضوان عطا

وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے ہار گئے مگر اپنی 58 سالہ زندگی میں انہوں نے بہت کچھ جیتا۔ ملک کے دارالحکومت میں ان کے تابوت کے ساتھ عوام کا جم غفیر صاف پتا دیتا ہے کہ وہ ان کم یاب حکمرانوں میں سے تھے جنہیں عام لوگوں کی اکثریت دورانِ اقتدار پسند کرتی ہے۔ ان سے محبت کرنے والے وینزویلا تک محدود نہیں۔ لاطینی امریکہ یہاں تک کہ ساری دنیا میں ان کی پالیسیوں کے حامی موجود ہیں۔ شاویز کو ایک بین الاقوامی رہنما کا درجہ بھی حاصل تھا۔ اس کی وجہ ان کا سامراج بالخصوص امریکہ مخالف موقف، علاقائی تعاون پر زور، نیو لبرل معاشی پالیسیوں کی مخالفت اور غریب دوست اقدامات کی وکالت ہیں۔ انہوں نے یہ سب ایک منتخب جمہوری حاکم کی حیثیت سے کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جدوجہد کوئی دو چار برس کی بات نہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

“۔۔۔تو پھر انہیں کیوں مارا گیا”

ڈاکٹر علی حیدر اور مرتضیٰ حیدر کا قتل

۔۔۔تو پھر انہیں کیوں مارا گیا”

رضوان عطا

19 فروری کو لاہور میں ایک پچاسی سالہ باپ اور اسّی سالہ ماں نے اپنے بیٹے پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر اور پوتے مرتضیٰ حیدر کو قبروں میں اترتے دیکھا۔ ایک روز قبل پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر پر ایف سی کالج، لاہور کے قریب اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم اپنے بیٹے کے ساتھ ایچی سن کالج جا رہے تھے۔ بیٹے مرتضیٰ حیدر کو سر میں گولی لگی اور اس نے ہسپتال پہنچے سے پہلے ہی دم توڑ دیا جبکہ علی حیدر کو لگنے والی پانچ سے چھ گولیاں فوری موت کا باعث بنیں۔ پڑھنا جاری رکھیں