سیریزا اور ریاست

سیریزا اور ریاست

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

زیرِنظر تحریر میں مصنف نے یونان میں بائیں بازو کی بننے والی نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور اس کی طرف سے اپنائی گئی سٹریٹجی کے پسِ پردہ کارفرما نظریات کا جائزہ لیا ہے۔

یونان میں ریڈیکل لیفٹ جماعت سیریزا کی تاریخی کامیابی کی اہمیت کو کم ظاہر کرنا مشکل ہے۔ یونان میں بایاں بازو پہلے بھی اقتدار کے قریب آیا ہے۔ جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو جرمنوں کے ظالمانہ قبضے کے خلاف مزاحمت میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کی وجہ سے یہ تب قومی اتحاد کی قائد بنی۔ اس کے بعد بادشاہت کو دوبارہ مسلط کے لیے برطانیہ اور امریکا نے خونیں خانہ جنگی میں مداخلت کی۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں طلباکے احتجاج اور مزدوروں کی ہڑتالوں نے بادشاہت کے خلاف ایک عوامی تحریک کوجنم دیا۔ ایک بار پھر کمیونسٹ پارٹی (کے کے ای) بہت بااثر رہی۔ اپریل 1967ء میں بائیں بازو کی کامیابی روکنے کے لیے فوج نے مداخلت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اب ایک ایسی پارٹی اقتدار میں ہے جو کے کے ای سے علیحدہ ہونے والے مختلف دھڑوں میں سے ایک ہے۔ کیا یونانی اور بین الاقوامی سرمایہ اس کا اقتدار برقراررہنے دے گا جبکہ اس سے پہلے بائیں بازو کی تحریکوں کو کچل دیا تھا؟ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یوکرین: کریمیاکے سامراجی بحران میں پوٹن کا جوا

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

3 مارچ 2014ء

روس کا کریمیا پر فوجی قبضہ یوکرین کو خانہ جنگی کے دھانے پر لے آیا ہے۔ یہ بحران تین مختلف بحرانوں کے اکٹھے ہونے کا اظہارہے۔

اول، 1991ء میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے غالب بدعنوان اور بدمعاش اولیگارشی کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اندرونِ خانہ کشمکش چل رہی تھی۔
پڑھنا جاری رکھیں

ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟

مسلمان مخالفت، نسل پرستی یا ذہنی خلل

ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟

رضوان عطا

22 جولائی کو ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں ہونے والے دھماکے اور اس کے شمال میں واقع جزیرہ یٹویا میں یوتھ کیمپ پر فائرنگ سے ہونے والی تقریباً 93 ہلاکتوں نے ملک کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ ناروے کے وزیراعظم جینز سٹولن برگ کے مطابق جنگ عظیم دوم کے بعد سے کبھی بھی ہمارے ملک میں جرم کا اتنا بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ انسانی تاریخ میں یہ شاید اب تک واحد گن مین کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کے قتل اور دونوں حملوں کے ملزم آندرے بیرنگ بریوک کے خیالات کے سامنے آنے کے بعد اسے اچانک رونما ہونے والا اتفاقی واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی تہہ تک پہنچے بغیریہ ممکن نہیں ہوگا کہ ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جاسکے۔ پڑھنا جاری رکھیں

یونان کا امتحان

یونان کا امتحان

حکمران جماعت اور یورپی یونین سے عوامی رائے عامہ متصادم

رضوان عطا

تیس جون کو یونان کی پارلیمنٹ کا امتحان تھا۔ ملک میں وسیع پیمانے پر کٹوتیوں کے پروگرام کے بارے میں فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس پروگرام پر عمل درآمد کا مطلب ہے ٹیکسوں میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور نج کاری۔ پارلیمنٹ نے اس غیر مقبول فیصلے کی منظوری دے دی۔ اب 72 ارب ڈالر کے ریاستی اثاثے برائے فروخت ہیں۔

300 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کے 155 ارکان نے ان اقدامات کے حق میں ووٹ دیے جن کی مخالفت سروے کے مطابق 80 فیصد یونانی کر رہے تھے۔ حکمران جماعت سے اپنی بات منوانے کی خاطر ہزاروں ایتھنز کی گلیوں میں احتجاج کر رہے تھے اور کئی پولیس سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد … نیٹو کا مستقبل

ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد

نیٹو کا مستقبل

رضوان عطا

بیس فروری کو نیدر لینڈز کی حکومت گر گئی۔ حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی دو جماعتیں افغانستان سے منصوبے کے مطابق فوجیں واپس بلانے کے سوال پر کابینہ میں طویل بحث و مباحثے کے باوجود متفق نہ ہو سکیں۔ نیٹو کی درخواست پر حکمران اتحاد میں سب سے بڑی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک اپیل اس برس اگست میں فوجوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع کی خواہش مند تھی جسے دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی نے ماننے سے انکار کر دیا۔ گذشہ تقریباً آٹھ برس میں کسی نیٹو رکن ملک نے اپنی فوجیں افغانستان سے واپس نہیں بلائیں مگر اب اس کا حقیقی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

رضوان عطا

نومبر 2004ء کے اواخر سے لے کر جنوری 2005ء تک یوکرین میں ہونے والے مظاہروں، ہڑتالوں اور سیاسی احتجاج کے سلسلوں نے بالآخر حکومت کو دوسرے اور آخری مرحلے کے صدارتی انتخابات کو دوبارہ کرانے پر مجبور کیا۔ 26 دسمبر 2004ء کے ان انتخابات کے نتیجے میں جیت کے دعوے دار’ماسکونواز‘ سمجھے جانے والے امیدوار وکٹریانو کووچ ہارگئے اور ’مغرب نواز‘ سمجھے جانے والے وکٹریو شچنکو نے44 فیصد کے مقابلے تقریباً52 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرلی اور صدر بن گئے۔ ان انتخابات میں انہیں یولیاتیمو شینکو کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ آخری مرحلے کے انتخاب کے نتیجے کو جن میں’ماسکونواز‘ امیدوار کامیاب قرار دیا گیا تھا، مظاہروں، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کے اقدامات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر انعقاد پر مجبور کرانے کے بعد انتخابی نتائج کی تبدیلی کو ’نارنجی انقلاب‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پانچ سال بعد اس سال فروری میں ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں ’نارنجی انقلاب‘ کے اہم ترین رہنما وکٹریو شچنکو نے محض ساڑھے پانچ فیصد ووٹ لیے اور دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ دوسری اہم رہنما یولیاتیمو شینکو اس مرحلے تک پہنچیں اور ہارگئیں۔  پڑھنا جاری رکھیں

اٹلی میں برلسکونی کی جیت

رضوان عطا

دوسال سے بھی کم عرصہ اقتدار سے باہر رہنے کے بعد سیلویو برلسکونی اپنے اتحادیوں سمیت ایک بار پھر برسراقتدار آچکے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں حکمران اعتدال پسند بائیں بازو کو شکست دینے کے بعد دائیں بازو کے برلسکونی تیسری مرتبہ اٹلی کے وزیراعظم بنیں گے۔ ان انتخابات میں سیاسی سطح پر ملک اعتدال پسندبائیں بازو اور دائیں بازو کے مابین واضح طور پر تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتوں کے دوبڑے اتحاد والٹرولٹرونی کی ڈیموکرٹیک پارٹی اور برلسکونی کی پیپل آف فریڈم تقریباً 80 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کمیونسٹ اور سوشلسٹ پہلی مرتبہ اٹلی کی پارلیمنٹ سے باہر ہوگئے ہیں ۔ پڑھنا جاری رکھیں