سنکیانگ میں نسلی فسادات

سنکیانگ میں نسلی فسادات

رضوان عطا

چین کے شمال مغرب میں واقع ’سنکیانگ اوغر خود مختار علاقہ‘ نسلی فسادات کی زد میں ہے۔ ترک نسل سے تعلق رکھنے والے چین کے اوغر باشندوں اور ہن نسل کے چینیوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے نتیجے میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 156 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 800 سے زیادہ زخمی ہیں۔آخری اطلاعات تک علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سڑکوں اور گلیوں کا گشت کر رہی ہے۔ایک چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے کی خاطر بیس ہزار پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کے تصادم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 1,434 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس "خود مختارعلاقے کا دارالحکومت ارومچی ان فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ تعداد یہاں جمع ہے۔”ریڈیو فری ایشیا“ کے مطابق شہر کے مضافات میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بیجنگ اولمپک گیمز 2008 –

بیجنگ اولمپک گیمز 2008 –

تصویر کا دوسرا رُخ
رضوان عطا

اولمپکس کے اپنے ملک میں انعقاد کے لیے ایک طویل لڑائی لڑنی پڑتی ہے اور چین نے بھی بالآخر اپنے ہاں 2008ء میں اِس کے انعقاد پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو راضی کر لیا۔ بیجنگ کا سخت مقابلہ ٹورنٹو، پیرس، استنبول اور اوکاسا سے تھا۔ بیجنگ میں اولمپکس کے انعقاد کے فیصلے کے بعد چین کے نائب پریمیئر لی لینگ چنگ نے کہا ”2008ء کے اولمپکس کی بولی جیتنا چین کے سماجی استحکام، معاشی ترقی اور چینی عوام کی صحت مند زندگی کی بین الاقوامی سطح پر قدر شناسی کی ایک مثال ہے۔“ کثیر سرمایے سے تعمیر کیے گئے سٹیڈیم میں بیجنگ اولمپک گیمز کا آغاز ایک رنگا رنگ تقریب سے ہو چکا اور اب دنیا کے ہزاروں کھلاڑی میڈلز کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر چین کی پہچان اور قدر شناسی میں کھیلوں کے اِس سب سے بڑے ایونٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے، باوجود اِس کے لیے تبت، سنکیانگ، ماحول، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے معاملات بدستور زیر بحث ہیں۔ البتہ اہم سوال یہ ہے کہ چین کے اندر اولمپک گیمز کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور جس طریقے سے اِس ایونٹ کے معاملات کو چین میں چلایا جا رہا ہے کیا وہ حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری نظریے سے میل کھاتے ہیں؟ پڑھنا جاری رکھیں

چین میں زلزلہ

کم عمر سب سے زیادہ متاثر کیوں ہوئے؟

رضوان عطا

چین میں آنے والا زلزلہ بہت بڑی تباہی لایا۔ 18مئی کو چینی حکومت نے زلزلے کی شدت ریکٹرسکیل پر8 بتائی۔ اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ 7.8 کی شدت کا تھا۔12مئی کو چین میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے وزیراعظم ون جیا باؤ نے کہا عوامی جمہوریہ چین کی60 سالہ تاریخ میں یہ بدترین زلزلہ ہے۔ چین کو 1976ء میں بھی ایک تباہ کن زلزلے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں تقریباً 3 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، کچھ اندازوں کے مطابق اس زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، مگراس زلزلے کا زیادہ تر اثر ایک شہر تانگ شان پر ہوا تھا۔ سی چوآن میں آنے والے زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز سیچوان کی تبت اور چنگھائی صوبوں سے ملنے والی سرحد کے قریب تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں