ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد … نیٹو کا مستقبل

ڈچ حکومت کے انہدام کے بعد

نیٹو کا مستقبل

رضوان عطا

بیس فروری کو نیدر لینڈز کی حکومت گر گئی۔ حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی دو جماعتیں افغانستان سے منصوبے کے مطابق فوجیں واپس بلانے کے سوال پر کابینہ میں طویل بحث و مباحثے کے باوجود متفق نہ ہو سکیں۔ نیٹو کی درخواست پر حکمران اتحاد میں سب سے بڑی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک اپیل اس برس اگست میں فوجوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع کی خواہش مند تھی جسے دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی نے ماننے سے انکار کر دیا۔ گذشہ تقریباً آٹھ برس میں کسی نیٹو رکن ملک نے اپنی فوجیں افغانستان سے واپس نہیں بلائیں مگر اب اس کا حقیقی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

یوکرین کے انتخابات اور ’نارنجی انقلاب‘

رضوان عطا

نومبر 2004ء کے اواخر سے لے کر جنوری 2005ء تک یوکرین میں ہونے والے مظاہروں، ہڑتالوں اور سیاسی احتجاج کے سلسلوں نے بالآخر حکومت کو دوسرے اور آخری مرحلے کے صدارتی انتخابات کو دوبارہ کرانے پر مجبور کیا۔ 26 دسمبر 2004ء کے ان انتخابات کے نتیجے میں جیت کے دعوے دار’ماسکونواز‘ سمجھے جانے والے امیدوار وکٹریانو کووچ ہارگئے اور ’مغرب نواز‘ سمجھے جانے والے وکٹریو شچنکو نے44 فیصد کے مقابلے تقریباً52 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرلی اور صدر بن گئے۔ ان انتخابات میں انہیں یولیاتیمو شینکو کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ آخری مرحلے کے انتخاب کے نتیجے کو جن میں’ماسکونواز‘ امیدوار کامیاب قرار دیا گیا تھا، مظاہروں، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کے اقدامات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر انعقاد پر مجبور کرانے کے بعد انتخابی نتائج کی تبدیلی کو ’نارنجی انقلاب‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پانچ سال بعد اس سال فروری میں ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں ’نارنجی انقلاب‘ کے اہم ترین رہنما وکٹریو شچنکو نے محض ساڑھے پانچ فیصد ووٹ لیے اور دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ دوسری اہم رہنما یولیاتیمو شینکو اس مرحلے تک پہنچیں اور ہارگئیں۔  پڑھنا جاری رکھیں

نیٹو اعلیٰ سطحی اجلاس: روس امریکہ اختلافات ختم نہ ہو سکے

رضوان عطا

نیٹو (معاہدہ شمالی اوقیانوس تنظیم) کا بیسواں اعلیٰ سطحی اجلاس رومانیہ کے صنعتی مرکز بکارسٹ میں 2 تا4 اپریل ہوا۔ اب تک نیٹو کے سب سے بڑے ہونے والے اس اجلاس میں تنظیم میں شمولیت کی خاطر کروشیااورالبانیہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن یونان سے ملک کے نام پر چلنے والے تنازعے کی وجہ سے میسی ڈونیا کو نہیں بلایا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

نیٹو میں اختلاف

نیٹو میں اختلاف:

افغانستان میں امریکی منصوبوں کو بڑا دھچکا

رضوان عطا

امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزارائس اور ان کے برطانوی ہم منصب ڈیوڈملی بینڈ نے حال ہی میں افغانستان کاایک غیراعلانیہ دورہ کیا۔ یہ دونوں رہنما دورے سے قبل لندن میں ملے اور اس ملاقات کا مقصد جنوبی افغانستان میں جنگ کا بوجھ بانٹنے کے معاملے پر نیٹورکن ممالک کوراضی کرنے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔” سرد جنگ“ کے خاتمے کے باوجود اب تک قائم رہنے والا یہ اتحاد مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔  اس بات کا اندازہ امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کے اس حالیہ بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پر اختلافات کی وجہ سے نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ گیٹس نے اس موقع پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا”میںنیٹو اتحاد کے بارے میں بہت فکر مند ہوں کہ کہیں یہ دوصفوں والا اتحاد نہ بن جائے جس میں ایک طرف کے اتحادی لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑنے اور جان دینے پر راضی ہوں جبکہ دوسری طرف کے اتحادی ایسا نہ کریں“ ۔ پڑھنا جاری رکھیں