پناہ کی تلاش

رضوان عطا

سمندر اور زمین کے راستے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ رخت سفر باندھنے والوں کی اکثریت کاتعلق ان ممالک سے ہے جن میں خانہ جنگی، مذہبی شدت پسندی، غربت اور آمریت نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ان بدنصیب ملکوں میں شام، عراق، افغانستان اور بعض افریقی ممالک نمایاں ہیں۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی موج درموج آمد کے بعداسے دوسری جنگ عظیم کے بعد آنے والا سب سے بڑا پناہ گزین بحران قرار دیتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

مصطفیٰ عمر

جولائی 2014ء

یہ مضمون صرف “مصری صیہونیوں”کو دیا جانے والا جواب نہیں، چاہے وہ دائیں بازو کے نسل پرست ہیں جیسے لمیس جابر، جومطالبہ کررہی ہے کہ مصر فلسطینی عوام پر وحشیانہ اسرائیلی جنگ کی حمایت کرے اور مصر میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدر کرنےسے پہلے ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے۔۔۔ اس کی نسل پرستی اتنی واشگاف ہے کہ یہ مذمت سے زیادہ کی حق دار نہیں۔۔۔ یا چاہے وہ دائیں بازو کی حزب المصریین الاحرار (فری ایجپشیئن) کے محمد زکی الشیمی کی طرح کے لوگ ہیں، جو لکھتا ہے اسرائیل مصر کا دشمن نہیں۔ ان معنوں میں وہ درست ہے کہ مصر کا حکمران طبقہ، جو مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے امریکی سامراج کے مفادات پر انحصار کرتا ہے اسرائیل کو، جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار ہے، اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

نہ ہی یہ محض مصری بائیں بازو کے اس حصے سے بحث کرنے کی ایک کوشش ہے جو مصری ریاست کا حامی ہے۔ وہ اس سراب کے دفاع میں نئی گہرائیاں تلاش کیے جارہے ہیں کہ “سیکولر” فوجی اقتدار اسلام پسندوں سے بہتر ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس، جو فلسطینی مزاحمت میں مرکزی تحریک ہے، “مذہبی فسطائی” تحریک ہے۔ یہ دیگر رجعتی مذہبی تحریکوں، جیسے اخوان المسلیمین یا انتہائی رجعتی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس یا جبھت النصرہ اور آئی ایس آئی ایس کے جیسی ہے ۔
پڑھنا جاری رکھیں

ماھینور کی جانب سے ہم سب کو جیل سے بھیجا گیا خط

[مصری سوشلسٹ، وکیل اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی ماھینورکو حال ہی میں انصاف مانگنے کے ’جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔]

مترجم: رضوان عطا

جب سے میری سزا کی توثیق ہوئی ہے تب سے میں زیادہ نہیں جانتی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیکن میں اندازہ کرسکتی ہوں کیوں کہ ہمارے ’واقف کاروں کے حلقے‘میں سے جب کوئی گرفتار ہوتا ہے توانٹرنیٹ کی دنیا ”اسے رہا کرو۔۔“ ، ”جرأت مند ۔۔۔ کو رہا کرو“ جیسے جملوں سے لد جاتی ہے۔ تاہم دمنھر جیل کے سیل نمبر1 میں قید ہونے کے بعد، جو سرکاری مالی امور اور قرض سے متعلق جرائم کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے ،میں جو بات میں بار بار کہہ رہی ہوں وہ ہے ”سماجی طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد!“۔  پڑھنا جاری رکھیں

مصر کا سفر جاری

اخوان المسلمین، محمد مرسی اور انقلاب

مصر کا سفر جاری

(۲ دسمبر ۲۰۱۲)

رضوان عطا

اگر کسی نے یہ سمجھا کہ انقلابِ مصر اخوان المسلمین کو اقتدار دینے یا محمد مرسی کو صدارت کی کرسی پر براجمان کرنے کے لیے آیا تو اس کی غلط فہمی ملک بھر میں ہونے والے حالیہ احتجاج سے دور ہوجانی چاہیے۔ تحریرچوک، جہاں کبھی حسنی مبارک کے خلاف لوگ جمع ہواکرتے تھے، اب محمد مرسی اور ان کی جماعت فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی کے خلاف ہورہے ہیں۔27 نومبر کو یہاں اکٹھے ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ ملک کے بعض شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا جس سے سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب محمد مرسی نے اپنے ہاتھ میں آمرانہ اختیارات لینے کی کوشش کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

غزہ پر اسرائیلی حملہ

کیا فلسطینی تنہا رہ گئے؟

غزہ پر اسرائیلی حملہ

رضوان عطا

عام تاثر کے برخلاف یہ غزہ اسرائیل جنگ نہیں۔ 14 نومبر کو، صرف ایک دن میں، غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے جتنے اسرائیلی گزشتہ تین سالوں میں غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے ہوئے۔ اس سے ملتی جلتی، مگر بڑی، ایک یک طرفہ اسرائیلی کارروائی چار سال قبل ہوئی تھی جس میں 1400 کے قریب فلسطینی مارے گئے، اور اکثریت عام شہریوں کی تھی جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔

تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ تین اسرائیلی اور 52 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ غزہ کے آسمان سے ایف سولہ اور ڈرون آگ برسا رہے ہیں۔ نیا اضافہ اسرائیلی بحریہ کا ہے، جس نے میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی زمینی افواج ابھی داخل نہیں ہوئیں۔ البتہ ان کے داخل ہونے کا خدشہ ضرور ہے کیونکہ اسرائیل سے ملے جلے پیغامات آ رہے ہیں۔ ایسا ہوا تو فلسطینیوں کی ہلاکتیں اور مصائب کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ یہ پہلے بھی کچھ کم نہیں۔

  پڑھنا جاری رکھیں

القاعدہ، امریکا، جمہوریت اور عرب ابھار

القاعدہ، امریکہ، جمہوریت اور عرب ابھار

گلبرٹ آشکار

بیشتر غیر معروف زیرِ زمین دہشت گرد گروہوں کی طرح11 ستمبر کو القاعدہ کا حملہ وسیع پیمانے پر پھیلے سماجی اور سیاسی عدم اطمینانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش تھی۔ القاعدہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرے تاکہ اس کی تقلید کرنے والے بہت سے پیدا ہوسکیں۔ اس طرح کی مہمات صرف اس وقت ۔۔۔ مختلف سطحوں پر۔۔۔ کامیاب ہوسکتی ہیں جب بہت زیادہ عدم اطمینان پہلے سے موجود ہو۔ مثلاً جہاں بہت غربت، ناراضی، جابر حکومت، ناقابل برادشت سماجی عدم مساوات یا غیر ملکی قبضہ ہو۔ پڑھنا جاری رکھیں