قطبی ریچھ خطرے میں

رضوان عطا

14 مئی کو امریکہ کے محکمہ امور داخلہ نے قطبی ریچھ کو ان انواع میں شامل کرلیا جن کے وجود کو خطرہ ہے۔ امریکہ کے Endangered Species Act (ای ایس اے) کے تحت اب امریکی حکومت پر یہ لازم ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے اور نہ ہی کسی ایسے اقدام کو مالی معاونت فراہم کرے جو قطبی ریچھ کے وجود کو خطرے میں ڈالے یا اس کے رہنے کے مقام کو اس طرح تبدیل کرے کہ اس جانور کو نقصان ہو۔ پڑھنا جاری رکھیں

شور مہلک ہے

رضوان عطا

کانوں کو بہت سی آوازیں بھلی لگتی ہیں۔ دھیمی موسیقی ،سریلے نغمے اور چڑیوں کی چہچہاہٹ پسند کی جاتی ہے۔ مگر جب کوئی آواز ناگوار گزرے یا اتنی زیادہ ہو کہ انسانوں اور حیوانوں کی زندگی کو متاثر کرنے لگے تو ہم اسے شور کہیں گے۔ شور نے آج کل زور و شور سے ہماری زندگیوں میں گھر کر لیا ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں شور کی سب سے بڑی وجہ مشینیں ہیں چاہے یہ کسی کار، آٹو رکشہ یا بس کو چلا رہی ہوں یاکسی فیکٹری کو۔ جب سے آمدورفت کے لیے گاڑیوں کا استعمال شروع ہوا ہے،شور میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں نے شور کی حدوں کو انتہا پر پہنچا دیا ہے اور چونکہ ایسی گاڑیاں گنجان آباد شہروں میں زیادہ ہوتی ہیں اس لیے شہر اور شور لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عالمی حدت میں اضافہ اور انہونا "چکر”

عالمی حدت میں اضافہ اور انہونا "چکر"

رضوان عطا

گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی بہت سی تحقیقات اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عالمی حدت میں اضافہ آہستہ آہستہ اور ایک تسلسل کے ساتھ نہ ہوگا ، جیسا کہ ماضی میں سمجھا جاتا تھا، بلکہ معاملہ یوں ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہیں جہاں اس میں مزید اضافے کے لیے بہت سے خاموش عوامل متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حدت میں تھوڑا اضافہ مزید حدت کو پیدا کرتا ہے۔ اور ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں