ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

رضوان عطا

وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے ہار گئے مگر اپنی 58 سالہ زندگی میں انہوں نے بہت کچھ جیتا۔ ملک کے دارالحکومت میں ان کے تابوت کے ساتھ عوام کا جم غفیر صاف پتا دیتا ہے کہ وہ ان کم یاب حکمرانوں میں سے تھے جنہیں عام لوگوں کی اکثریت دورانِ اقتدار پسند کرتی ہے۔ ان سے محبت کرنے والے وینزویلا تک محدود نہیں۔ لاطینی امریکہ یہاں تک کہ ساری دنیا میں ان کی پالیسیوں کے حامی موجود ہیں۔ شاویز کو ایک بین الاقوامی رہنما کا درجہ بھی حاصل تھا۔ اس کی وجہ ان کا سامراج بالخصوص امریکہ مخالف موقف، علاقائی تعاون پر زور، نیو لبرل معاشی پالیسیوں کی مخالفت اور غریب دوست اقدامات کی وکالت ہیں۔ انہوں نے یہ سب ایک منتخب جمہوری حاکم کی حیثیت سے کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جدوجہد کوئی دو چار برس کی بات نہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

لاطینی امریکہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ

لاطینی امریکہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ

وینزویلا امریکہ کے لیے ایک چیلنج

رضوان عطا

15 جولائی سے، جب کولمبیا کے وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ وینزویلا دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے، لاطینی امریکا کی سیاسی فضا کشیدہ ہے۔ اسی کے ساتھ کولمبیا کے رخصت ہوتے ہوئے صدر الوارو اوریبے نے آرگنائزیشن آف امریکن سٹیٹس (اواے ایس) کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ 16 جولائی کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ” وینز ویلا کی سرزمین پر باغیوں کی ممکنہ موجودگی“ امریکا کو بھی تشویش کاشکار کررہی ہے۔ پس جب22 جولائی کو امریکا کا قدرے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والی تنظیم او اے ایس کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تو تنظیم میں کولمبیا کے سفیر نے ’گوگل میپ‘ کی مدد سے لی گئی تصاویر کی مدد سے شرکا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ مارکسی چھاپہ مار، جنہیں امریکا دہشت گرد گردانتا ہے، وینزویلا میں موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ’بین الاقوامی مداخلت‘ کی اپیل کی تاکہ کولمبیا کے دعوؤں کی تصدیق ہوسکے۔ البتہ اس دوران کولمبیا نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا کہ چھاپہ ماروں کی وینزویلا میں موجودگی کے”شواہد“ امریکا نے فراہم کیے ہیں۔  پڑھنا جاری رکھیں

ہنڈوراس میں کودیتا

ہنڈوراس میں کودیتا

مینویل زیلایا ہنڈوراس کی نئی حکومت کو تنہا کرنے میں خاصی حد تک کام یاب ہوئے ہیں۔

رضوان عطا

6 جولائی کو ہنڈوراس کی نئی عبوری حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا۔ دارالحکومت میں اس روز طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کرفیو نافذ تھا اور شہر کی سڑکیں پولیس اور فوج کی گرفت میں تھیں۔ مظاہرین ایک کودیتا کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کیے گئے صدر مینویل زیلایا کو خوش آمدید کہنا چاہتے تھے اور نئی حکومت طیارے کے ذریعے ان کی ملک آمد کو روکنا چاہتی تھی۔ پائلٹ نے ائیرپورٹ پر طیارہ اتارنے کا خطرہ مول نہیں لیا اور ایلسلو اڈور کا رخ کیا۔ زیلایا ابھی تک ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی قیادت کوسٹاریکا کے صدر اور 1987ء میں نوبل امن انعام حاصل کرنے والے اوسکر اریاس کر رہے ہیں۔ تاہم زیلایا، جن کی قائم حکومت کو پوری دنیا کے ممالک تسلیم کرتے ہیں، مذاکرات کی سست رفتار سے نالاں ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

وینز ویلا میں ریفرنڈم

وینز ویلا میں ریفرنڈم

رضوان عطا

وینزویلا کے باسیوں نے ریفرنڈم کے ذریعے ملکی آئین میں ایک اہم تبدیلی کر دی ہے۔ اب منتخب قیادت تاحیات دوبارہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں ہوگوشاویز اور ان کے حامیوں نے55 فیصدکے قریب ووٹ حاصل کئے ۔ اس جیت کے بعد ہوگو شاویز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حالیہ مدت صدارت کے بعد بھی اس عہدے پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ وینزویلا کے سوشلسٹ انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ریفرنڈم میں ایک کروڑ دس لاکھ رائے دہندگان نے حصہ لیا۔ وینزویلا میں کل ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔  پڑھنا جاری رکھیں

بولیویا امریکہ مخاصمت

بولیویا امریکہ مخاصمت

لاطینی امریکہ کے ممالک ایوامورالس کی حمایت کررہے ہیں

رضوان عطا

بولیویا میں امریکہ کے سفیر فلپ گولڈ برگ ستمبر کے دوسرے ہفتے اس الزام کے ساتھ ملک سے نکالے گئے کہ امریکی حکومت بولیویا کے مشرقی علاقوں میں مضبوط حزب اختلاف کی حمایت کررہی ہے۔ ایوامورالس کی حکومت کے اس فیصلے کے فوراً بعد وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے بھی اپنے ہمسایہ ملک سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر امریکی سفیر کو72گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ لاطینی امریکہ کے دو ممالک سے امریکی سفیروں کا نکالا جانا جہاں ایک طرف خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی گرفت کی نشاندہی کرتا ہے وہیں اس بات کا پتہ بھی دیتا ہے کہ وینز ویلا کے بعد بولیویا اب کھل کر امریکی پالیسیوں کی مخالفت پر اتر آیا ہے۔ بولیویا سے امریکی حکومت کی ناراضگی تو2005ء سے جاری ہے جب بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایوامورالس صدر منتخب ہوئے۔ بولیویا جیسے غریب ملک، جس کی سالانہ فی کس آمدنی مشکل سے1000ڈالر ہے ، کو امریکہ سے مخاصمت اور وینز ویلا سے دوستی کی بڑی قیمت بھی چکانا پڑسکتی ہے، سیاسی اور معاشی دونوں سطحوں پر۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا پیراگوئے وینز ویلا کے راستے پر چل پڑا ہے؟


رضوان عطا

لاطینی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک پیراگوئے میں سابق کیتھولک بشپ فرنانڈولوگونے حالیہ سیاسی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی جماعت کو انتخابی شکست سے دوچار کردیا۔ گذشتہ چالیس سال میں یہ سب سے زیادہ پر جوش، بھرپور اور کانٹے دار انتخابات تھے جس کے نتائج نے کولوراڈوپارٹی کے تقریباً61سالہ دورحکمرانی،جس میں جنرل الفرڈوسٹرو ایسٹر کی35سالہ آمریت بھی شامل ہے ، کا خاتمہ کردیا۔ ساٹھ لاکھ کے ایسے ملک میں کہ جہاں آبادی کا تیسرا حصہ غربت کی زندگی گزاررہا ہے، لوگو کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے بہتری کی امید دلانے کی بنا پرپر کشش تھے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ایکواڈور میں کولمبیا کی مداخلت

رضوان عطا

یکم مارچ کو کولمبیا میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چھاپہ مار تنظیم یرولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا (فارک) کے ایک مرکزی رہنما راول رئیز کولمبیائی افواج کے ایک حملے میں اپنے تقریباً 20 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ حملہ کولمبیا کی سرزمین پر نہیں ہوا بلکہ راول اوراس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے کولمبیا کی افواج نے ایکواڈور کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں کولمیبا لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک خصوصاً ایکواڈور اور وینز ویلا کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ پڑھنا جاری رکھیں