حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

مصطفیٰ عمر

جولائی 2014ء

یہ مضمون صرف “مصری صیہونیوں”کو دیا جانے والا جواب نہیں، چاہے وہ دائیں بازو کے نسل پرست ہیں جیسے لمیس جابر، جومطالبہ کررہی ہے کہ مصر فلسطینی عوام پر وحشیانہ اسرائیلی جنگ کی حمایت کرے اور مصر میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدر کرنےسے پہلے ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے۔۔۔ اس کی نسل پرستی اتنی واشگاف ہے کہ یہ مذمت سے زیادہ کی حق دار نہیں۔۔۔ یا چاہے وہ دائیں بازو کی حزب المصریین الاحرار (فری ایجپشیئن) کے محمد زکی الشیمی کی طرح کے لوگ ہیں، جو لکھتا ہے اسرائیل مصر کا دشمن نہیں۔ ان معنوں میں وہ درست ہے کہ مصر کا حکمران طبقہ، جو مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے امریکی سامراج کے مفادات پر انحصار کرتا ہے اسرائیل کو، جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار ہے، اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

نہ ہی یہ محض مصری بائیں بازو کے اس حصے سے بحث کرنے کی ایک کوشش ہے جو مصری ریاست کا حامی ہے۔ وہ اس سراب کے دفاع میں نئی گہرائیاں تلاش کیے جارہے ہیں کہ “سیکولر” فوجی اقتدار اسلام پسندوں سے بہتر ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس، جو فلسطینی مزاحمت میں مرکزی تحریک ہے، “مذہبی فسطائی” تحریک ہے۔ یہ دیگر رجعتی مذہبی تحریکوں، جیسے اخوان المسلیمین یا انتہائی رجعتی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس یا جبھت النصرہ اور آئی ایس آئی ایس کے جیسی ہے ۔
پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

غزہ پر اسرائیلی حملہ

کیا فلسطینی تنہا رہ گئے؟

غزہ پر اسرائیلی حملہ

رضوان عطا

عام تاثر کے برخلاف یہ غزہ اسرائیل جنگ نہیں۔ 14 نومبر کو، صرف ایک دن میں، غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے جتنے اسرائیلی گزشتہ تین سالوں میں غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے ہوئے۔ اس سے ملتی جلتی، مگر بڑی، ایک یک طرفہ اسرائیلی کارروائی چار سال قبل ہوئی تھی جس میں 1400 کے قریب فلسطینی مارے گئے، اور اکثریت عام شہریوں کی تھی جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔

تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ تین اسرائیلی اور 52 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ غزہ کے آسمان سے ایف سولہ اور ڈرون آگ برسا رہے ہیں۔ نیا اضافہ اسرائیلی بحریہ کا ہے، جس نے میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی زمینی افواج ابھی داخل نہیں ہوئیں۔ البتہ ان کے داخل ہونے کا خدشہ ضرور ہے کیونکہ اسرائیل سے ملے جلے پیغامات آ رہے ہیں۔ ایسا ہوا تو فلسطینیوں کی ہلاکتیں اور مصائب کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ یہ پہلے بھی کچھ کم نہیں۔

  پڑھنا جاری رکھیں

پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

پرچموں سے خون کے دھبے مٹانے چاہیے

غزہ انسانی آلام، جنگی رقہر اور سیاسی نارساہی کی داستان

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ ، بحریہ اور زمینی افواج کے حملے تادم تحریر جاری ہیں۔ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے نوسوسے زائد ہوچکی ہے اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً چالیس فیصد بچے اور عورتیں ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں ان کی تعداد نصف ہے۔ بنیادی انسانی ضروریات یعنی خوراک اور پانی کی کمی ہے۔ ادویات اور دیگر سامان کی کمی کی وجہ سے غزہ کے ہسپتال ہر لمحہ داخل ہونے والے زخمیوں کا پوری طرح علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کی تلاش ہے جو مل نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں نے جو قائم کیں ان میں جگہ نہیں۔ بے گھر ہونے والے بیشترافراد نسبتاً کم خطرناک علاقوں میں اپنے جاننے والوں یا رشتہ داروں کے ہاں جگہ ڈھونڈرہے ہیں۔ غزہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، سمندر میں جنگی بحری جہاز، فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹر، جاسوس طیارے اور ایف16، اردگرد ٹینک اور مسلح فوجی۔ تاحال جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات، اپیلیں اور قراردادیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔ کھلے آسمان تلے ایک وسیع جیل خانے کی صورت غزہ کے شہری اس جنگ کے زخم اٹھارہے ہیں۔ حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کی طرف سے اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو روکنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی غزہ کے قریب تقریباً40کلو میٹر تک واقع قصبوں اور شہروں پر مقامی سطح پر بنے، کم مہلک مگر خوف پیدا کرنے والے راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

غزہ جل رہا ہے

غزہ جل رہا ہے

اسرائیلی حملہ اور اس کے اثرات

رضوان عطا

اسرائیلی فضائیہ غزہ پر مسلسل بمباری کر رہی ہے اور حملے کے چوتھے روز اطلاعات کے مطابق بحریہ بھی شریک ہو چکی ہے۔ غزہ اسرائیل سرحد پر زمینی افواج آرٹیلری سمیت جمع ہیں اورحکام بالا سے احکامات کی منتظر ہیں۔ ہزاروں ریزروز کو بلا لیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس الزام کے ساتھ غزہ پر بمباری کا آغاز کیا کہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ اور مارٹر داغے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق ان کے حملے کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ کرنا اور حماس کی عسکری طاقت کو ختم کرنا ہے۔ البتہ 15 لاکھ آبادی پر مشتمل گنجان آباد غزہ پر بمباری سے عام شہری، جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں، کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو رہی ہے۔ بمباری کے چوتھے روزتک کم از کم 380 افراد ہلاک اور 1600 زخمی ہو چکے تھے۔ حملوں کے جواب میں حماس کی طرف سے غزہ کی سرحد پر واقع اسرائیلی قصبوں اور شہروں پر راکٹ داغنے کا سلسلہ بہت بڑھ چکا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور اس کے نتیجے میں 4 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں