ماھینور کی جانب سے ہم سب کو جیل سے بھیجا گیا خط

[مصری سوشلسٹ، وکیل اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی ماھینورکو حال ہی میں انصاف مانگنے کے ’جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔]

مترجم: رضوان عطا

جب سے میری سزا کی توثیق ہوئی ہے تب سے میں زیادہ نہیں جانتی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیکن میں اندازہ کرسکتی ہوں کیوں کہ ہمارے ’واقف کاروں کے حلقے‘میں سے جب کوئی گرفتار ہوتا ہے توانٹرنیٹ کی دنیا ”اسے رہا کرو۔۔“ ، ”جرأت مند ۔۔۔ کو رہا کرو“ جیسے جملوں سے لد جاتی ہے۔ تاہم دمنھر جیل کے سیل نمبر1 میں قید ہونے کے بعد، جو سرکاری مالی امور اور قرض سے متعلق جرائم کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے ،میں جو بات میں بار بار کہہ رہی ہوں وہ ہے ”سماجی طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد!“۔  پڑھنا جاری رکھیں

نیم برہنہ جدوجہد

نیم برہنہ جدوجہد

رضوان عطا

حقوقِ نسواں کی دعوے دار تنظیمفیمنکی شہرت اس کےاحتجاج کےطریقہ کارکی بدولت ہے۔ چند برس قبل جب یوکرین سے ابتدا کرنے والی اس تنظیم کی چندکارکن عورتوں نےبرہنہ بالائی نصف کےساتھ ذرائع ابلاغ کاسامنا کیا تو انہیں بہت توجہ دی گئی،جس کا ملنا تھا کہ ان کے لیے یہ طریق احسن ٹھہرا۔ ایک یوکرینی فیمن کارکن کےمطابقہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں شنوائی کا یہی واحد طریقہ ہے۔

یوکرین میں جسم فروشی کا مسئلہ سنگین ہے۔ جب کسی سنگین مسئلے کو نمٹانے کا بندوبست نہ ہو رہا ہو تو انتہائی قدم بھی اٹھ جاتےہیں اور انوکھے راہیں بھی سدھائی دینے لگتی ہیں۔ لیکن راہ وہی درست ہوتی ہے جو منزل کی طرف جارہی ہو۔  پڑھنا جاری رکھیں

مادرسری معاشروں میں عورت کامقام

مادرسری معاشروں میں عورت کامقام

رضوان عطا

مادر سری معاشرتی تنظیم کی ایک شکل ہے جس میں ماں خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور نسل و رشتہ داری اسی سے (ماں سے) شمار کی جاتی ہے مزید یہ کہ ایک معاشرہ جس میں ماں مرکزی قوت اور مقام رکھتی ہے، یا مادر سری سے مراد ایسی معاشرتی تنظیم ہے جس میں عورت کی حکمرانی ہو۔

اینگلس( خاندان، ریاست اور ذاتی ملکیت کا آغاز1884ء) نے دلائل پیش کیے کہ ابتدائی معاشرے شکاری اور خوراک جمع کرانے والے مادر سری معاشرے تھے ، اور یہ کہ پدر سری کا آغاز زراعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور دولت کے مرد کے اختیار میں جانے سے ہوا۔ اس نے اپنی بحث کی بنیاد با خونن پر رکھی جس نے دلائل پیش کیے کہ معاشرے مادری حق کی سطح سے جس میں کہ عورت طاقتور تھی، پدری حق یا پدرسری کی سطح تک آئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ثانیہ اور شعیب کی شادی میں آپ کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟

ثانیہ اور شعیب کی شادی میں آپ کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟


رضوان عطا

یہاں اگر کوئی دو اپنی مرضی سے شادی کرلیں تو مصیبت میں پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً اگر برادری یا قبیلہ دوسرا ہو۔ مارے بھی جا سکتے ہیں۔ بعض معاملات میں "سزاکم ہوجاتی ہے بس زبردستی علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ لڑکی کی شادی کہیں اور کر دی جاتی ہے اور لڑکے کو کسی اور کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی نظروں میں آگئے تو نتیجتاً ملنے والی "شہرتلڑکی کے قبیلے یا برادری کو مصیبت میں ڈال دیتی ہے۔ "انکی "شےکی واپسی کے امکانات معدوم ہوتے جاتے ہیں اور انگلیاں اٹھانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مگر اس شہرت سے جوڑے کے بچاؤ کے امکانات کچھ بڑھ جاتے ہیں بشرطیکہ دونوں کو بات کرنا آتی ہو۔ آخر رسمی تعلیم کی بھی تو ایک اہمیت ہے، جس بیچارے کو پڑھنے کا موقع نہیں ملا سمجھیں مارا گیا۔ یہ امکانات تب بھی بڑھ جاتے ہیں جب دونوں میں سے کسی ایک کا طبقہ مختلف ہو۔ مثلاً اگر لڑکا امیر ہے تو راضی نامے میں آسانی ہوتی ہے۔ لڑکی والوں کو ڈر ہوتا ہے کہ تعلقات والے ہوں گے کہیں نقصان زیادہ ہی نہ ہو جائے، پھر کوئی یہ بھی تو سمجھاتا ہو گا کہ لڑکی سکھی رہے گی، کچھ عرصے بعد بات آئی گئی ہو جائے گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

ترکی میں حجاب کا معاملہ

(یہ محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں )

رضوان عطا

9 فروری کو ترکی کی پارلیمنٹ نے یونیورسٹی کیمپسز میں حجاب پر ایک دہائی سے لگی سخت پابندی کو اٹھا دیا۔ 550 ممبران پر مشتمل پارلیمنٹ میں 441 قانون سازوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی طرف سے قانون میں کی جانے والی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ جس وقت پارلیمنٹ پابندی کو اٹھانے کے فیصلے کے عمل سے گزر رہی تھی وسطی انقرہ میں، پارلیمنٹ سے محض چند کلومیٹر دور، ہزاروں افراد سیکولرازم اور حجاب پر پابندی کے حق میں کمال اتاترک کی تصاویر اٹھائے مظاہرہ کر رہے تھے۔  اس مظاہرے کو منظم کرنے والی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق”۔۔۔ وہ (حکومت ) سیکولر اور جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں“۔ قانون میں اس ترمیم کے لیے 367 ووٹوں کی ضرورت تھی اور اگرچہ حزب اختلاف کی جماعت نیشنل ایکشن پارٹی(ایم ایچ پی) سے ایک معاہدے کے تحت حمایتی ووٹ حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی حد تک اے کے پی کو کوئی مسئلہ نہ ہوا لیکن پھر بھی ملک میں حجاب کے معاملے پر سالوں سے جاری بحث یا تضاد جاری رہے گا اور حکومت کسی حدتک الجھتی رہے گی۔ پڑھنا جاری رکھیں