عراق میں مزاحمت

(مضمون کے دوسرے اور آخری حصے میں مصنف نے عراق کے اندر قبضے کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا جائزہ لیا ہے)

رضوان عطا

عراق پر امریکی حملے سے لے کر آج تک امریکی سربراہی میں قبضہ کرنے والی افواج اور ان کے حامیوں کو جس مزاحمت کا سامنا رہا اس کی کئی جہتیں ہیں اور اس مزاحمت نے اپنی پانچ سالہ تاریخ میں کئی موڑ دیکھے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اتحادی افواج کے خلاف عراقی مزاحمت کے جس رخ کو عموماً پیش کیا جاتا ہے وہ مسلح ہے لیکن عراق کے اندر ہتھیاروں کے بغیر سیاسی و معاشی حقوق اور قبضے کے خلاف ایک ایسی لڑائی بھی لڑی جا رہی ہے جو آنکھوں سے عام طور پر اوجھل رہتی ہے ۔ 2003ء کے شروع میں جب عراق پر حملے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں پاکستان سمیت بہت سے دیگر ممالک میں عمومی رائے یہی تھی کہ صدام حسین کی قیادت میں عراقی افواج طویل عرصہ تک نہ سہی چند ماہ تک ضرور حملہ آوروں کو ملک میں گھسنے نہیں دیں گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

عراق جنگ کی مخالفت

رضوان عطا

(حصہ اول)

19 مارچ2003 کی رات امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ”آپریشن عراقی فریڈم“ کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن صبح5:30 بجے عراق پر بمباری کا آغاز کر دیا گیا۔ آج پانچ سال بعد جب بش کی مدتِ صدارت کے خاتمے میں صرف10 ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، ان کی مقبولیت کا گراف انتہائی نیچے ہے۔ کم و بیش 158,000فوجیوں کی موجودگی کے باوجود امریکی افواج پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں اور ویت نام کے بعد یہ جنگ امریکہ کی دوسری سب سے طویل جنگ بن چکی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معیشت جوزف سٹگٹس کے مطابق اس جنگ پر اب تک کم از کم تین ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

عراق میں انسانی بحران بد سے بدتر

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوجوں کے عراق پر قبضے کے پانچ سال بعد بھی عراق میں رہنے والے لاکھوں عراقیوں کو نہ تو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات۔ پڑھنا جاری رکھیں