ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements