مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز


تحریر: رضوان عطا

بعضوں کی جانب سے سٹالن کی حمایت کی جدوجہد، جوآج کل زیادہ تر سوشل میڈیا پر اُمنڈ آئی ہے، عجب رنگ ڈھنگ لیے ہوئے ہے۔ سٹالن کی حمایت میں ایک چھوٹا سا رجحان لینن کے ٹراٹسکی کے خلاف بیانات کے مخصوص حصوں کو سامنے لا لاکر اسے غلط اور قابلِ نفرت ’ثابت‘ کرنے کے درپے ہے۔ اس کے نزدیک لڑکھڑا کر چلنے والی ٹوٹی پھوٹی سٹالینی روایت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے اگر ٹراٹسکی کو نیچ اور گھٹیا اور سٹالن کو پاک اور عظیم ’ ثابت‘ کردیا جائے۔  پڑھنا جاری رکھیں

سیریزا اور ریاست

سیریزا اور ریاست

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

زیرِنظر تحریر میں مصنف نے یونان میں بائیں بازو کی بننے والی نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور اس کی طرف سے اپنائی گئی سٹریٹجی کے پسِ پردہ کارفرما نظریات کا جائزہ لیا ہے۔

یونان میں ریڈیکل لیفٹ جماعت سیریزا کی تاریخی کامیابی کی اہمیت کو کم ظاہر کرنا مشکل ہے۔ یونان میں بایاں بازو پہلے بھی اقتدار کے قریب آیا ہے۔ جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو جرمنوں کے ظالمانہ قبضے کے خلاف مزاحمت میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کی وجہ سے یہ تب قومی اتحاد کی قائد بنی۔ اس کے بعد بادشاہت کو دوبارہ مسلط کے لیے برطانیہ اور امریکا نے خونیں خانہ جنگی میں مداخلت کی۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں طلباکے احتجاج اور مزدوروں کی ہڑتالوں نے بادشاہت کے خلاف ایک عوامی تحریک کوجنم دیا۔ ایک بار پھر کمیونسٹ پارٹی (کے کے ای) بہت بااثر رہی۔ اپریل 1967ء میں بائیں بازو کی کامیابی روکنے کے لیے فوج نے مداخلت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اب ایک ایسی پارٹی اقتدار میں ہے جو کے کے ای سے علیحدہ ہونے والے مختلف دھڑوں میں سے ایک ہے۔ کیا یونانی اور بین الاقوامی سرمایہ اس کا اقتدار برقراررہنے دے گا جبکہ اس سے پہلے بائیں بازو کی تحریکوں کو کچل دیا تھا؟ پڑھنا جاری رکھیں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

مصطفیٰ عمر

جولائی 2014ء

یہ مضمون صرف “مصری صیہونیوں”کو دیا جانے والا جواب نہیں، چاہے وہ دائیں بازو کے نسل پرست ہیں جیسے لمیس جابر، جومطالبہ کررہی ہے کہ مصر فلسطینی عوام پر وحشیانہ اسرائیلی جنگ کی حمایت کرے اور مصر میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدر کرنےسے پہلے ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے۔۔۔ اس کی نسل پرستی اتنی واشگاف ہے کہ یہ مذمت سے زیادہ کی حق دار نہیں۔۔۔ یا چاہے وہ دائیں بازو کی حزب المصریین الاحرار (فری ایجپشیئن) کے محمد زکی الشیمی کی طرح کے لوگ ہیں، جو لکھتا ہے اسرائیل مصر کا دشمن نہیں۔ ان معنوں میں وہ درست ہے کہ مصر کا حکمران طبقہ، جو مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے امریکی سامراج کے مفادات پر انحصار کرتا ہے اسرائیل کو، جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار ہے، اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

نہ ہی یہ محض مصری بائیں بازو کے اس حصے سے بحث کرنے کی ایک کوشش ہے جو مصری ریاست کا حامی ہے۔ وہ اس سراب کے دفاع میں نئی گہرائیاں تلاش کیے جارہے ہیں کہ “سیکولر” فوجی اقتدار اسلام پسندوں سے بہتر ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس، جو فلسطینی مزاحمت میں مرکزی تحریک ہے، “مذہبی فسطائی” تحریک ہے۔ یہ دیگر رجعتی مذہبی تحریکوں، جیسے اخوان المسلیمین یا انتہائی رجعتی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس یا جبھت النصرہ اور آئی ایس آئی ایس کے جیسی ہے ۔
پڑھنا جاری رکھیں

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

22 جون، 2014ء

ہم، زیر دستخطی، وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران فاٹا میں ہونے والا چھٹا فوجی آپریشن ہے، سابق “فیصلہ کن” آپریشنوں کی مانند ہوگاجن کے نتائج فاٹا کے عوام کی ہلاکتوں اور تکالیف کی صورت میں سامنے آئے۔

شمالی وزیرستان میں موجودہ آپریشن ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں جو فاٹا کے عوام کی تکالیف میں محض اضافہ کرے گا۔ جنہوں نے فوجی آپریشن کی “مکمل حمایت” کے اعلان کا انتخاب کیا ہے وہ ماضی (اور حال) کو نظرانداز کرنے کے ذمہ دار خود ہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے مسئلے کو نہ عسکری طریقہ کار سے اور نہ شدت پسندی کو فاٹا میں مرکوز سمجھ کر نپٹا جاسکتا ہے۔ ہمارے مطالبات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فی الفور اور غیر مشروط طور پر روکا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ماھینور کی جانب سے ہم سب کو جیل سے بھیجا گیا خط

[مصری سوشلسٹ، وکیل اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی ماھینورکو حال ہی میں انصاف مانگنے کے ’جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔]

مترجم: رضوان عطا

جب سے میری سزا کی توثیق ہوئی ہے تب سے میں زیادہ نہیں جانتی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیکن میں اندازہ کرسکتی ہوں کیوں کہ ہمارے ’واقف کاروں کے حلقے‘میں سے جب کوئی گرفتار ہوتا ہے توانٹرنیٹ کی دنیا ”اسے رہا کرو۔۔“ ، ”جرأت مند ۔۔۔ کو رہا کرو“ جیسے جملوں سے لد جاتی ہے۔ تاہم دمنھر جیل کے سیل نمبر1 میں قید ہونے کے بعد، جو سرکاری مالی امور اور قرض سے متعلق جرائم کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے ،میں جو بات میں بار بار کہہ رہی ہوں وہ ہے ”سماجی طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد!“۔  پڑھنا جاری رکھیں

یوکرین: کریمیاکے سامراجی بحران میں پوٹن کا جوا

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

3 مارچ 2014ء

روس کا کریمیا پر فوجی قبضہ یوکرین کو خانہ جنگی کے دھانے پر لے آیا ہے۔ یہ بحران تین مختلف بحرانوں کے اکٹھے ہونے کا اظہارہے۔

اول، 1991ء میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے غالب بدعنوان اور بدمعاش اولیگارشی کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اندرونِ خانہ کشمکش چل رہی تھی۔
پڑھنا جاری رکھیں