ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

"لاپتہ” بلوچوں کی فہرست

"لاپتہبلوچوں کی فہرست

انجمن اتحاد مری نامی ایک بلوچ قوم پرست تنظیم نے بلوچستان کے مختلف علاقوں اور اندرون سندھ سے 1086 بلوچ "لاپتہ اسیرانافراد کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ان تمام لاپتہ افراد کی فرداً فرداً نام ،ولدیت،عمر،پیشہ،تاریخ گرفتاری،مقام گرفتاری اور مستقل پتے دیے گئے ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق جہاں تک کی رسائی ممکن ہوئی ہے "تنظیم نے لاپتہ بلوچ اسیران کے اغواء ہونے کے زمینی حقائق اور ورثا ء سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کی روشنی میں حکومت پاکستان کے [کی] ایجنسیوں کو تمام لاپتہ بلوچ اسیران کے اغواء کا ذمہ دار ٹھہرایا ہےتنظیم کے مطابق "بلوچ سیاسی اسیران کو بدترین تشدد کا نشانہ بناکر بعض لوگوں کو دوران تشدد شہید کیا گیا"۔ یہ فہرست بذریعہ ای میل ذرائع ابلاغ کو موصول ہوئی، جسے یونیکوڈ شکل میں پیش کر رہا ہوں۔ تنظیم نے اجرا کی تاریخ کا کہیں تذکرہ نہیں کیا تاہم یہ۹ فروری( ۲۰۱۰ ء )کو موصول ہوئی اور اس میں آخری "گمشدگی۲ فروری ۲۰۱۰ء بتائی گئی ہے۔

[نوٹ: نمبر شمار کے بعد

نام

ولدیت

عمر

پیشہ

تاریخ گرفتاری

مقام گرفتاری

اور آخر میں مستقل پتہ دیا گیا ہے۔ ہر نئے نمبر کے بعد اسی ترتیب کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہو گی۔ بعض جگہوں پر پیشے کی جگہ تنظیمی یا سیاسی وابستگی بتائی گئی ہے۔ ]

تنظیم کی جاری کردہ فہرست مندرجہ ذیل ہے:

پڑھنا جاری رکھیں

ناراض بلوچستان

ناراض بلوچستان

رضوان عطا

تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر بلوچ کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی خبر نے پورے بلوچستان میں شدید ردعمل کو پیدا کیا۔ غلام محمد بلوچ نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کی کاوشوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صوبے میں بلوچ آبادی کا کوئی بھی شہر ایسا نہیں جہاں احتجاج اور توڑ پھوڑ نہ ہوئی ہو۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری املاک اور غیر بلوچ آبادی پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ کم از کم تین روز تک بلوچستان میں زندگی مفلوج رہی۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ ردعمل نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی نسبت بڑا تھا۔ بلوچستان میں ہونے والے ردعمل کی شدت اور وسعت اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ اِس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور فوری طور پر ایسے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں جو بلوچ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کریں۔ پڑھنا جاری رکھیں