ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

پاک بھارت مذاکرات اور کشمیر

پاک بھارت مذاکرات اور کشمیر

رضوان عطا

1991ء سے منائے جانے والے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ سے ایک روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی کہ بھارت نے پاکستان کو خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بریفنگ میں روابط کی بحالی کے لیے ’کچھ تجاویز‘ کے موصول ہونے کی تصدیق تو کی لیکن ان کی تفصیل بتانے سے اس بنیاد پر انکار کیا کہ فی الوقت یہ مناسب نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے اور یہ کہ کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی بحالی کی خبروں کے ساتھ ساتھ کشمیر کا معاملہ بھی اُبھر کر سامنے آ گیا ہے، جس کی وجہ دونوں ممالک میں پیدا ہونے والی صورت حال کے ساتھ ساتھ بھارتی کشمیر میں ہونے والے احتجاج بھی ہیں۔ علاوہ ازیں مفاہت کے لیے عالمی دباؤ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

"لاپتہ” بلوچوں کی فہرست

"لاپتہبلوچوں کی فہرست

انجمن اتحاد مری نامی ایک بلوچ قوم پرست تنظیم نے بلوچستان کے مختلف علاقوں اور اندرون سندھ سے 1086 بلوچ "لاپتہ اسیرانافراد کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ان تمام لاپتہ افراد کی فرداً فرداً نام ،ولدیت،عمر،پیشہ،تاریخ گرفتاری،مقام گرفتاری اور مستقل پتے دیے گئے ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق جہاں تک کی رسائی ممکن ہوئی ہے "تنظیم نے لاپتہ بلوچ اسیران کے اغواء ہونے کے زمینی حقائق اور ورثا ء سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کی روشنی میں حکومت پاکستان کے [کی] ایجنسیوں کو تمام لاپتہ بلوچ اسیران کے اغواء کا ذمہ دار ٹھہرایا ہےتنظیم کے مطابق "بلوچ سیاسی اسیران کو بدترین تشدد کا نشانہ بناکر بعض لوگوں کو دوران تشدد شہید کیا گیا"۔ یہ فہرست بذریعہ ای میل ذرائع ابلاغ کو موصول ہوئی، جسے یونیکوڈ شکل میں پیش کر رہا ہوں۔ تنظیم نے اجرا کی تاریخ کا کہیں تذکرہ نہیں کیا تاہم یہ۹ فروری( ۲۰۱۰ ء )کو موصول ہوئی اور اس میں آخری "گمشدگی۲ فروری ۲۰۱۰ء بتائی گئی ہے۔

[نوٹ: نمبر شمار کے بعد

نام

ولدیت

عمر

پیشہ

تاریخ گرفتاری

مقام گرفتاری

اور آخر میں مستقل پتہ دیا گیا ہے۔ ہر نئے نمبر کے بعد اسی ترتیب کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہو گی۔ بعض جگہوں پر پیشے کی جگہ تنظیمی یا سیاسی وابستگی بتائی گئی ہے۔ ]

تنظیم کی جاری کردہ فہرست مندرجہ ذیل ہے:

پڑھنا جاری رکھیں

سنکیانگ میں نسلی فسادات

سنکیانگ میں نسلی فسادات

رضوان عطا

چین کے شمال مغرب میں واقع ’سنکیانگ اوغر خود مختار علاقہ‘ نسلی فسادات کی زد میں ہے۔ ترک نسل سے تعلق رکھنے والے چین کے اوغر باشندوں اور ہن نسل کے چینیوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے نتیجے میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 156 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 800 سے زیادہ زخمی ہیں۔آخری اطلاعات تک علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سڑکوں اور گلیوں کا گشت کر رہی ہے۔ایک چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے کی خاطر بیس ہزار پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کے تصادم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 1,434 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس "خود مختارعلاقے کا دارالحکومت ارومچی ان فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ تعداد یہاں جمع ہے۔”ریڈیو فری ایشیا“ کے مطابق شہر کے مضافات میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

تامل ٹائیگرز کی شکست

تامل ٹائیگرز کی شکست

رضوان عطا

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پکسے تامل باغیوں کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کرچکے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کی سڑکوں پر سنہالی اکثریت سے تعلق رکھنے والے جشن منارہے ہیں۔ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کے قائد ویلو پلئی پربھاکرن کی لاش کی ویڈیو سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے حامیوں کے اس دعوے کے بعد جاری کی جس میں پربھاکرن کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔17مئی کو تامل ٹائیگر کی حامی ویب سائٹ تامل ڈاٹ نیٹ پر ایل ٹی ٹی ای کے بین الاقوامی تعلقات خارجہ کے سربراہ ایس پتھاناتھن نے ایک بیان میں کہا” یہ جنگ اپنے تلخ انجام کو پہنچ چکی ہے“ اسی کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا” ہم نے اپنی بندوقیں خاموش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے“ ان کا یہ کہنا دنیاکی سب سے طاقتور اور منظم علیحدگی پسند تنظیموں میں سے ایک سمجھی جانے والی تنظیم کی عسکری شکست کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ تقریباًتین دہائیوں تک بھرپور انداز سے لڑنے والے تامل ٹائیگرز ہارگئے مگر کیوں؟ پڑھنا جاری رکھیں

ناراض بلوچستان

ناراض بلوچستان

رضوان عطا

تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر بلوچ کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی خبر نے پورے بلوچستان میں شدید ردعمل کو پیدا کیا۔ غلام محمد بلوچ نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کی رہائی کی کاوشوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صوبے میں بلوچ آبادی کا کوئی بھی شہر ایسا نہیں جہاں احتجاج اور توڑ پھوڑ نہ ہوئی ہو۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری املاک اور غیر بلوچ آبادی پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ کم از کم تین روز تک بلوچستان میں زندگی مفلوج رہی۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ ردعمل نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی نسبت بڑا تھا۔ بلوچستان میں ہونے والے ردعمل کی شدت اور وسعت اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ اِس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور فوری طور پر ایسے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں جو بلوچ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کریں۔ پڑھنا جاری رکھیں

تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

تامل ٹائیگرز پر بڑا حملہ

رضوان عطا

علحیدگی پسند تامل ٹائیگر(لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام) کا دارالحکومت کہلانے والا شہر کلینوچی اس کے بعد سری لنکا کی افواج کے قبضے میں ہے اور اب وہ ملک کے شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ بلاشبہ کلینوچی پر قبضہ تامل ٹائیگر کے لیے بڑا دھچکہ اور حکومت کے لیے اہم کامیابی ہے۔ افواجِ سری لنکا اب ساحلی شہر مولائتیوو اور ارد گرد کے علاقوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بمباری کی جا رہی ہے۔ ابھی تک دونوں طرف ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی تامل ٹائیگرز نے کلینوچی پر سرکاری افواج کے قبضے کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ وہ اب یہاں نہیں رہے۔ صدر مہندا راجاپکسے کی طرف سے اس کامیابی کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں