ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

فاٹا میں فوجی آپریشن بند کرو

22 جون، 2014ء

ہم، زیر دستخطی، وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران فاٹا میں ہونے والا چھٹا فوجی آپریشن ہے، سابق “فیصلہ کن” آپریشنوں کی مانند ہوگاجن کے نتائج فاٹا کے عوام کی ہلاکتوں اور تکالیف کی صورت میں سامنے آئے۔

شمالی وزیرستان میں موجودہ آپریشن ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں جو فاٹا کے عوام کی تکالیف میں محض اضافہ کرے گا۔ جنہوں نے فوجی آپریشن کی “مکمل حمایت” کے اعلان کا انتخاب کیا ہے وہ ماضی (اور حال) کو نظرانداز کرنے کے ذمہ دار خود ہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے مسئلے کو نہ عسکری طریقہ کار سے اور نہ شدت پسندی کو فاٹا میں مرکوز سمجھ کر نپٹا جاسکتا ہے۔ ہمارے مطالبات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فی الفور اور غیر مشروط طور پر روکا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور

یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور

طلبا پر تشدد، اساتذہ سے بدسلوکی

رضوان عطا

یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور میں اگر کسی طالب علم کو منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو یہ اندازہ کرنے میں زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ایسا کس نے کیا ہو گا۔

پنجاب یونیورسٹی میں محض ایک ہی تو طلبا تنظیم ہے جو وقتاً فوقتاً ایسا کرتی ہے۔ آمر پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد جماعت اسلامی نے جمہوریت کے قیام کے نعرے کو تو اپنی سیاست میں مرکزی حیثیت دی مگر طلبا تنظیم کو اسی روش پر چلنے دیا جو آمروں کی ہے۔ کیا پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے علاوہ کوئی دوسری تنظیم کام کر سکتی ہے؟ جی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا وہ جزیرہ ہے جہاں جماعت اسلامی کے شاگردوں کی خفیہ حکومت قائم ہے۔ اپنی اس جاگیر میں انہیں شعبہ فلسفہ سے شکایت رہی ہے کہ وہ ان کی بیعت نہیں کرتا۔ لہٰذا اسے سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

پیروکار

پیروکار

کیفے پیالہ کے ایک پیغام کی تلخیص اردو میں

میں نے وادیٔ تیرہ میں بظاہر ستر سے زائد شہریوں کی فوجی بمباری سے ہلاکت کی خبر کو پرنٹ اور الیکٹرونک ذرائع ابلاغ کی طرف سے عجب انداز سے دبانے پر لکھنا شروع ہی کیا تھا۔ لیکن دیکھا کہ فائیو روپیز (بلاگ) نے اسی موضوع پر پہلے ہی ایک اچھی تحریر ارسال کردی ہے۔ پس آپ کو وہاں جانا چاہیے اور اسے پڑھنا چاہیے۔ پڑھنا جاری رکھیں