افغانستان میں پُر تشدد مظاہرے

افغانستان میں پُر تشدد مظاہرے

امریکی مشکل میں اضافہ

رضوان عطا

امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے پر ہونے والے شدید احتجاج کے پانچویں دن ایک شخص نے دو (غیر ملکی) افسران پر گولیاں چلادیں۔ اس واقعے کا مرکزی مشتبہ ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ شخص وزارتِ داخلہ کے ساتھ خاصے عرصے سے منسلک تھا اور سکیورٹی انتظامات کا نگران تھا۔ اس واقعے کے بعد نیٹو، برطانیہ اور فرانس کی تقلید کرتے ہوئے جرمنی نے بھی افغانستان کی مختلف وزارتوں سے اپنے تمام اہلکاروں کو واپس بلالیا ہے۔ غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کو جلانے کے واقعے پر نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر جنرل جان آرایلن اور امریکی صدر باراک اوباما کی معافی بھی کوئی اثر نہ دکھا سکی اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر افغان صدر حامد کرزئی کی عوام کو پُر امن رہنے کی اپیل۔ اتوار کو احتجاج رکوانے کی خواہش کے ساتھ جب حامد کرزئی نے افغان عوام سے اپیل کی تو انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اب تک تقریباً29 افراد ہلاک اور200 زخمی ہوچکے ہیں۔ اس اپیل کے بعد صوبہ قندوز کے شہر امام صاحب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر مظاہرین نے ہینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا جس سے امریکی سپیشل فورسز کے سات اہلکار زخمی ہوگئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

افغان انتخابات کے بعد: جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

افغان انتخابات کے بعد

جمہوریت، جنگ اور مذہبی جنونیت

رضون عطا

20 اگست کو ہونے والے انتخابات میں ایک صدر اور420 کونسلر منتخب کرنے کے لیے لاکھوں افغانیوں نے ووٹ دیے۔ غیر حتمی ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور حتمی نتائج17ستمبر تک متوقع ہیں۔ تاہم انتخابات سے قبل حامد کرزئی کے خلاف دھاندلی اور ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے الزامات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ۔حامد کرزئی بھی الزامات لگانے والوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔ بڑے صدارتی امیدواروں خصوصاً عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کی شدت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کو کہنا پڑا کہ ”صبر“ کا مظاہرہ کیا جائے۔ افغانستان کے صدارتی امیدواروں کے مابین کشیدگی میں اضافہ اوباما انتظامیہ کے لیے پریشانی کا سبب ہے جس کا اندازہ اسے کم کرنے کی کوششوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں ایک طرف اوباما انتظامیہ، جس نے عراق کی بجائے افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا ہے، ایک قابل قبول اور معاون افغانی حکومت کی تشکیل کی خواہاں ہے وہیں طالبان انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے کٹر مخالف ہیں۔ انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی انہوں نے اپنے حملوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ طالبان کی طرف سے ووٹرز کو دی جانے والی دھمکیوں کے سبب کم لوگ ووٹ ڈالنے آئے تاہم 40 سے50 فیصد تک کہے جانے والے کم ٹرن آوٹ کی یہ بڑی مگر واحد وجہ نہیں۔ سیاسی عمل میں مختلف رجحانات کے درمیان تناو غیر معمولی بات نہیں لیکن افغانستان کے حوالے سے جہاں طالبان اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک منظم اور متحرک قوت بن چکے ہیں اور جہاں نسلی تفریق میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس نوعیت کے تناو کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

اتحادی افواج میں اضافہ، افغان جنگ اور خطے کی صورت حال

رضوان عطا

گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو ہونے والی دہشت گردی کے بعد پہلا حملہ افغانستان پر ہوا لیکن جلد ہی عراق جنگ نے توجہ حاصل کر لی۔ باراک اوباما کی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ خارجی معاملات میں ان کی رغبت عراق سے کہیں زیادہ افغانستان کی جانب ہے۔ اس سال جولائی میں جب باراک اوباما عراق، اسرائیلاور مغربی یورپ کے دورے پر نکلے تو کویت میں مختصر قیام کے بعد ان کا دوسرا اور نسبتاً طویل پڑاؤ افغانستان تھا۔ اکیس جولائی کو سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پروگرام ”فیس دی نیشن“ میں بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی توجہ افغانستان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس پروگرام میں انہوں نے کہا ”افغان حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں صورتحال خطرناک اور جلد اقدامات اٹھانے کی متقاضی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی ہماری توجہ کا مرکز ہونا چاہیے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”تقریباً ایک سال سے میں مزید دو یا شاید تین بریگیڈ بھیجنے کا کہہ رہا ہوں“۔  پڑھنا جاری رکھیں