لیبیا اور بحرین: احتجاج جاری

 

لیبیا اور بحرین

احتجاج جاری

رضوان عطا

توقع کے مطابق تیونس سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر مصر اور دیگر عرب ممالک میں پھیل گئی۔ 23 سال سے اقتدار پر براجمان بن علی کے بعد 30 سال سے موجود حسنی مبارک بھی جا چکے۔ تیونس اور مصر کے درمیان افریقہ میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے ملک لیبیا میں یہ لہر 68 سالہ معمر قذافی کے خلاف بالخصوص مشرقی حصوں میں عروج پر ہے۔ یمن، اردن، الجزائر، ایران، مراکش بحرین، لیبیا اور بعض دیگر ممالک میں پھیلی اس احتجاجی لہر میں سب سے زیادہ تشدد لیبیا میں دیکھنے میں آیا۔  پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کانگو میں خانہ جنگی

کانگو میں خانہ جنگی

قدرتی وسائل پر قبضے کی لڑائی نے 50لاکھ افراد کو موت کی وادی میں دھکیل دیا

رضوان عطا
رقبے کے اعتبار سے افریقہ کے تیسرے بڑے اور معدنی ذخائر سے مالا مال ملک جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں لڑائی حالیہ شدت کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کو تندہی کے ساتھ سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں وہیں مغربی و افریقی ممالک کے کئی اعلیٰ عہدیدار خطے کے دورے کر رہے ہیں جن میں برطانوی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون شامل ہیں۔ انسانی حقوق اور امدادی تنظیمیں لڑائی میں شریک تقریباً تمام دھڑوں پر تشدد، زنا بالجبر، قتل، لوٹ مار اور قتل جیسے سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔ 1996ء میں شروع ہونے والی اس لڑائی اور خانہ جنگی نے اپنی شدت کے حوالے سے کئی جوار بھاٹے دیکھے۔ 1998ء سے 2003ء کے دوران اس میں آنے والی شدت،جس نے کئی علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں شریک تھیں، 30 لاکھ انسانوں کی جان لی۔ البتہ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر آج کی صورتحال سے تقابل کیا جائے تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور برادری معاملے پر توجہ دینے سے بالکل ہی قاصر رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

زمبابوے:رابرٹ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ملاقاتیں کیا رنگ لائیں گی؟

زمبابوے:رابرٹ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ملاقاتیں کیا رنگ لائیں گی؟

سامراج مخالف بڑھک بازی کے باوجود موگابے بین الاقوامی اشرافیہ سے سمجھوتے کی راہ پر گامزن ہیں

رضوان عطا
رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف اور تحریک برائے جمہوری تبدیلی (ایم ڈی سی) کے دوڈھروں کے مابین ایک مفاہمی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے صدر تھابومبیکی، جو زانو پی ایف اور ایم ڈی سی کے درمیان صلح کرانے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کررہے ہیں،21 جولائی کو زمبابوے کے دارلحکومت ہرارے پہنچے ہوئے تھے تاکہ موگابے اور مورگن چنگرائی کی ایک دہائی میں ہونے والی پہلی ملاقات میں موجودہوں اور مفاہمی یادداشت پر دستخط کرسکیں۔ اس یادداشت کے مطابق مذاکرات دوہفتوں کے اندر مکمل ہو جانے چاہئیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو جلد ہی زانو پی ایف اور ایم ڈی سی مل کر زمبابوے کی باگ ڈور سنبھالے ہوں گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

جنوبی افریقہ میں غیر ملکیوں پر حملے

رضوان عطا

مختلف نسلوں،رنگوں اور زبانوں کے دیس جنوبی افریقہ میں11مئی سے شروع ہونے والے تشدد کے مناظر دنیانے دیکھے۔ ان مناظر میں کہیں انسانوں کو زندہ جلایا جارہا تھا، کہیں لوٹ مار ہورہی تھی اور کہیں گھروںکو آگ لگی تھی۔ سیاہ فام سیاہ فاموں کو ماررہے تھے اور لگتا نہیں تھا کہ یہ وہی جنوبی افریقہ ہے جو ایک طویل جدوجہد کے بعد 1990ء کی دہائی میں سفید فام اقلیت کی نسلی عصبیت پر مبنی حکمرانی سے نکلا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کینیا میں عدم استحکام

<!– @page { size: 8.5in 11in; margin: 0.79in } P { margin-bottom: 0.08in } –>

رضوان عطا

جب دسمبر 2007ءکو موائی کیبا کی نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں جیت کا اعلان کیا توساتھ ہی ان کے مقابل امیدوار رائلا اوڈ نگانے انتخابات میں بد عنوانی کا الزام لگایا اور کیباکی کی طرف سے اپنے عہدے کا دوسری مرتبہ حلف اٹھاتے ہی ملک پر تشدد ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا۔ ایک اندازے کے مطابق تشدد میں اب تک تقریباً ایک ہزارافرادھلاک اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان گذشتہ کئی دنوں سے کینیا میں ہیں تاکہ متحارب اطراف کے مابین مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور صلح کی طرف بڑھا جائے۔ ابھی تک اس میں کوئی بڑی کامیابی تو نہیں مل پائی البتہ دونوں اطراف ایسی کوششوں میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ کیباکی کی نئی حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ملک میں کوئی بحران ہے،اس کے باوجود وہ مذاکرات میں تعاون کے لیے کوفی عنان اور بعض دیگر عالمی رہنماؤں کی کوششوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں