محاصرہ

محاصرہ

احمد فراز

میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے

کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُس کے

فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر

کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُس کے

وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش

وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی

بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں

وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements