سامراجی ہوس کا پیدا کردہ شامی بحران

9069279588_4fb382429c_k
لبنان میں شامی مہاجر بچے۔

تحریر: نک کلارک

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ہزاروں افراد بمباری کے زد میں موت کے منتظر ہیں۔ وہ خونیں ردانقلابی وقتوں میں اثر و رسوخ کے لیےلڑی جانے والی پیچیدہ جنگ کے آخری اہداف میں سے ہیں۔

شام اور روس "غوطہپر زور دار فضائی حملے کر رہے ہیں۔ یہ باغیوں کے آخری محصور علاقوں میں سے ہے، جہاں چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی دوران کردوں کے زیرانتظام ملک کے شمالی حصے میں قومی آزادی کی لڑائی لڑنے والے جنگجو اقتدار کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ امریکی پشت پناہی میں کردوں کی تنظیم "وائی پی جیمغربی اتحادی ترکی سے لڑنے کے لیے شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔

"سامراجی ہوس کا پیدا کردہ شامی بحران” پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

ایران میں احتجاج "برہمی اور آزادی کی شدید خواہش” کا اظہار

تحریر: نِک کلارک

بے روزگاری، غربت اور بالائی سیاسی طبقے کے خلاف ایران بھر میں پھیلنے والے احتجاج کو حکومتی فورسز کی جابرانہ کارروائیوں کا سامنا ہے۔

ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں افراد کے احتجاج 2009 کے بعد بے چینی کی دوسری بڑی لہر ہیں۔ پولیس سے ٹکراؤ کے بعد سوموار تک کم از کم 15 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی تھی۔ احتجاجوں کے سلسلے کا یہ پانچواں دن تھا۔

احتجاج گزشتہ ہفتے جمعرات کو اس وقت شروع ہوئے جب شہر مشہد میں صدر حسن روحانی نے مجوزہ بجٹ پیش کیا جس میں کٹوتیوں (آسٹیرٹی) اور قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔

"ایران میں احتجاج "برہمی اور آزادی کی شدید خواہش” کا اظہار” پڑھنا جاری رکھیں

پناہ کی تلاش

رضوان عطا

سمندر اور زمین کے راستے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ رخت سفر باندھنے والوں کی اکثریت کاتعلق ان ممالک سے ہے جن میں خانہ جنگی، مذہبی شدت پسندی، غربت اور آمریت نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ان بدنصیب ملکوں میں شام، عراق، افغانستان اور بعض افریقی ممالک نمایاں ہیں۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی موج درموج آمد کے بعداسے دوسری جنگ عظیم کے بعد آنے والا سب سے بڑا پناہ گزین بحران قرار دیتے ہیں۔ "پناہ کی تلاش” پڑھنا جاری رکھیں

مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

"مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں” پڑھنا جاری رکھیں

سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز


تحریر: رضوان عطا

بعضوں کی جانب سے سٹالن کی حمایت میں جدوجہد، جو آج کل زیادہ تر سوشل میڈیا پر اُمنڈ آئی ہے، عجب رنگ ڈھنگ لیے ہوئے ہے۔ سٹالن کی حمایت میں ایک چھوٹا سا رجحان لینن کے ٹراٹسکی کے خلاف بیانات کے مخصوص حصوں کو سامنے لا لاکر اسے غلط اور قابلِ نفرت ظاہر کرنے کے درپے ہے۔ اس کے نزدیک لڑکھڑا کر چلنے والی ٹوٹی پھوٹی سٹالینی روایت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے اگر ٹراٹسکی کو نیچ اور گھٹیا اور سٹالن کو پاک اور عظیم ’ثابت‘ کردیا جائے۔  "سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز” پڑھنا جاری رکھیں

ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

رضوان عطا

ڈیڑھ دہائی ہونے کو ہے جب اسلم رحیل میرزا سے پہلی ملاقات ہوئی اور پہلی ڈانٹ کو بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ گزر چکا؛ “یہ مرزا کیوں لکھاہوا ہے، میں نے میرزا لکھا تھا؟” تب میں مزدور جدوجہد میں کام کرتا تھا۔ اپنے مضمون میں پروف کی غلطی رہ جانے پر ان کا شدید احتجاج ہوتا۔ وہ اکثر اپنی تحریر کی پروف ریڈنگ خود کرتے۔

منہ میں پان جو دانت نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہہ رہتا اور رومال سے بار بار صاف کرتے، نحیف سے مگر چاک و چوبند، سر پر لال گلابی ٹوپی، سادہ اور پرانے کپڑے اور ہاتھ میں تھیلا۔ میرزا صاحب تب تک کم و بیش روزانہ کچھ افراد اور دفاتر کا چکر لگانے نکلتے جب تک ایک سڑک کے حادثے میں ان کی ٹانگ نہ ٹوٹی۔ پھر انہیں چلنے پھرنے میں خاصی دشواری ہوتی تھی وگرنہ وہ بہت پیدل چلتےتھے۔
"ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا” پڑھنا جاری رکھیں