ایوبی ترقی

رضوان عطا

ترقی کا نام چین، کوریا، جاپان اور ایوب خان سے جڑا ہے۔ مانوس سا جملہ ہے؛ ایوب خان کے دور میں بڑی ترقی ہوئی۔

ترقی آخر تھی کیسی؟

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

پناہ کی تلاش

رضوان عطا

سمندر اور زمین کے راستے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ رخت سفر باندھنے والوں کی اکثریت کاتعلق ان ممالک سے ہے جن میں خانہ جنگی، مذہبی شدت پسندی، غربت اور آمریت نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ان بدنصیب ملکوں میں شام، عراق، افغانستان اور بعض افریقی ممالک نمایاں ہیں۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی موج درموج آمد کے بعداسے دوسری جنگ عظیم کے بعد آنے والا سب سے بڑا پناہ گزین بحران قرار دیتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز


تحریر: رضوان عطا

بعضوں کی جانب سے سٹالن کی حمایت کی جدوجہد، جوآج کل زیادہ تر سوشل میڈیا پر اُمنڈ آئی ہے، عجب رنگ ڈھنگ لیے ہوئے ہے۔ سٹالن کی حمایت میں ایک چھوٹا سا رجحان لینن کے ٹراٹسکی کے خلاف بیانات کے مخصوص حصوں کو سامنے لا لاکر اسے غلط اور قابلِ نفرت ’ثابت‘ کرنے کے درپے ہے۔ اس کے نزدیک لڑکھڑا کر چلنے والی ٹوٹی پھوٹی سٹالینی روایت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے اگر ٹراٹسکی کو نیچ اور گھٹیا اور سٹالن کو پاک اور عظیم ’ ثابت‘ کردیا جائے۔  پڑھنا جاری رکھیں

ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

رضوان عطا

ڈیڑھ دہائی ہونے کو ہے جب اسلم رحیل میرزا سے پہلی ملاقات ہوئی اور پہلی ڈانٹ کو بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ گزر چکا؛ “یہ مرزا کیوں لکھاہوا ہے، میں نے میرزا لکھا تھا؟” تب میں مزدور جدوجہد میں کام کرتا تھا۔ اپنے مضمون میں پروف کی غلطی رہ جانے پر ان کا شدید احتجاج ہوتا۔ وہ اکثر اپنی تحریر کی پروف ریڈنگ خود کرتے۔

منہ میں پان جو دانت نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہہ رہتا اور رومال سے بار بار صاف کرتے، نحیف سے مگر چاک و چوبند، سر پر لال گلابی ٹوپی، سادہ اور پرانے کپڑے اور ہاتھ میں تھیلا۔ میرزا صاحب تب تک کم و بیش روزانہ کچھ افراد اور دفاتر کا چکر لگانے نکلتے جب تک ایک سڑک کے حادثے میں ان کی ٹانگ نہ ٹوٹی۔ پھر انہیں چلنے پھرنے میں خاصی دشواری ہوتی تھی وگرنہ وہ بہت پیدل چلتےتھے۔
پڑھنا جاری رکھیں

سیریزا اور ریاست

سیریزا اور ریاست

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

زیرِنظر تحریر میں مصنف نے یونان میں بائیں بازو کی بننے والی نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور اس کی طرف سے اپنائی گئی سٹریٹجی کے پسِ پردہ کارفرما نظریات کا جائزہ لیا ہے۔

یونان میں ریڈیکل لیفٹ جماعت سیریزا کی تاریخی کامیابی کی اہمیت کو کم ظاہر کرنا مشکل ہے۔ یونان میں بایاں بازو پہلے بھی اقتدار کے قریب آیا ہے۔ جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو جرمنوں کے ظالمانہ قبضے کے خلاف مزاحمت میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کی وجہ سے یہ تب قومی اتحاد کی قائد بنی۔ اس کے بعد بادشاہت کو دوبارہ مسلط کے لیے برطانیہ اور امریکا نے خونیں خانہ جنگی میں مداخلت کی۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں طلباکے احتجاج اور مزدوروں کی ہڑتالوں نے بادشاہت کے خلاف ایک عوامی تحریک کوجنم دیا۔ ایک بار پھر کمیونسٹ پارٹی (کے کے ای) بہت بااثر رہی۔ اپریل 1967ء میں بائیں بازو کی کامیابی روکنے کے لیے فوج نے مداخلت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اب ایک ایسی پارٹی اقتدار میں ہے جو کے کے ای سے علیحدہ ہونے والے مختلف دھڑوں میں سے ایک ہے۔ کیا یونانی اور بین الاقوامی سرمایہ اس کا اقتدار برقراررہنے دے گا جبکہ اس سے پہلے بائیں بازو کی تحریکوں کو کچل دیا تھا؟ پڑھنا جاری رکھیں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں