ایوبی ترقی

رضوان عطا

ترقی کا نام چین، کوریا، جاپان اور ایوب خان سے جڑا ہے۔ مانوس سا جملہ ہے؛ ایوب خان کے دور میں بڑی ترقی ہوئی۔

ترقی آخر تھی کیسی؟

یہ اس دور کی کہانی ہے جب امریکی کیمپ میں داخلے کے طفیل مقتدر منظورِ نظر ٹھہرے تھے۔ امداد دینے والوں نے سخاوت کا مظاہرہ کیا تھا اور ملک کو بیرونی امداد کی لت لگائی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق فوجی آمر ایوب خان کے دور میں 1964ء تک امداد کل داخلی پیداوار کے پانچ فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

President_Lyndon_B._Johnson_meets_with_President_Ayub_Khan

ایوب خان کے وقت، بلکہ اس سے بھی پہلے، بین الاقوامی حالات سازگارتھے۔ سوویت یونین کے اثر کا مقابلہ کرنے کے مخالف کیمپ سرگرم اور اتحادیوں کا متلاشی تھا۔ ایسا ملک جس کا مشرقی ہمسایہ سوویت دوست ہو، شمالی کمیونسٹ اور مغرب میں کچھ ہی فاصلے پر دشمن بیٹھا ہو تو ایسے میں اس کی جانب دوستی کے ہاتھ کا بڑھنا سمجھ میں آتا ہے۔ پاکستان کے مقتدر نے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔

اس دور میں زراعت میں شرح نمو چار فیصد رہی۔ تب 80 فیصد آبادی دیہی تھی۔ مینوفیکچرنگ میں نمو 9 فیصد جبکہ تجارت میں 7 فیصد رہی۔

معاشی شرح نمو کے اعتبار سے پہلا نمبر ایوب خان کا نہیں، ضیاالحق کا ہے جنہوں نے سرد جنگ کے دوران افغانستان میں مداخلت کے عوض ملنے والی بیرونی امداد، مجاہدین، کلاشنکوف اور ہیروئن کی بہاریں دیکھیں۔

اچھی لوکیشن کا زیادہ کرایہ ایوب خان اور ضیاالحق دونوں ادوار میں ملا لہٰذا اگر ملک میں شرح نمو کے گراف پر نظر دوڑائی جائے تو بلند ترین یہی دو ادوار ہیں۔

ایوب دور میں ملنے والی امداد اور قرض سے صنعت کاری کو بڑا آسرا ملا اور کل داخلی پیداوار نے جست لگائی تھی۔ تب سیمنٹ اور آٹوموبائل جیسی بہت سی بڑی نئی صنعتوں نے پہلا قدم رکھا تھا۔

بیرونی امداد کیسے استعمال ہوئی، ترقی کیسی اور کہاں ہوئی؟ انہیں سوالات کے جوابات ان دنوں کی حقیقت واضح کردیتے ہیں۔

ایوب خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے آزاد سرمایہ دارانہ ترقی کی راہ کھولی۔ لیکن دراصل یہ ترقی ریاست کی پشت پناہی سے ہوئی جس نے صنعت کاروں کو دل کھول کر مراعات دیں۔

باقاعدہ پالیسی اپنائی گئی کہ منافع زیادہ ہو اور چند ہاتھوں میں رہے۔ پس مٹھی بھر صنعتکاروں کا منافع ناقابل یقین حد تک اوپر گیا۔ دولت تقسیم نہیں بلکہ مرتکز ہوئی۔ عدم مساوات انسانی اور علاقائی دونوں سطحوں پر بڑھی۔

ملک کی زیادہ تر دولت سات خاندانوں کے بینکوں میں پڑی تھی۔ اس وقت 43 خاندانوں کا صنعت، بینکنگ اور انشورنس پر کم و بیش قبضہ تھا۔ اور وہ ان خوش نصیب وقتوں میں ایک دوسرے کی دولت بڑھانے کے لیے ایک خاندان کی صورت اختیار کر گئے تھے۔

صنعتی انفراسٹریکچر کی ترقی پنجاب اور سندھ کے مخصوص علاقوں میں ہوئی۔ سبز انقلابسے زرعی پیداوار بڑھی لیکن زیادہ تر انہیں دو صوبوں میں، جہاں نسبتاً ترقی یافتہ زرعی ڈھانچہ موجود تھا۔

نتیجتاً دوسرے صوبوں میں احساس محرومی بڑھنے لگا۔ مشرقی پاکستان میں یہ احساس اس قدر بڑھا کہ بعد ازاں علیحیدگی کی آوازیں اٹھیں۔ آمر نے صرف اختیارات کی مرکزیت نہیں بڑھائی، اس نے ترقیکو بھی جغرافیائی لحاظ سے بھی محدود کیا۔

ایک وقت وہ آیا جب فوجی جُنتا کی پالیسیوں سے مشرقی پاکستان میں تیز ہونے والی علحیدگی کو بندوق کے زور پر لاکھوں فوجی جوان بھی نہ روک سکے۔

اس ترقیسے ملک میں مجموعی طور پر معیارِ زندگی کا زوال ہوا اورحقیقی اجرت میں کمی ہوئی۔

ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک بلاوجہ نہیں اٹھی۔ ترقیکے تضادات پھٹ پڑے تھے۔

طلبا، مزدور، کسان اور درمیانے طبقے کا بڑا حصہ نالاں تھا۔ مرکوز، ناہموار اور غیرمستحکم ترقی کی ضرورت عوام کو نہیں، خواص کو ہوسکتی ہے۔

اگر ترقی صنعت اور پیداوار میں اضافے سے منسوب کرلی جائے تو ایوب دور میں ترقی ہوئی۔ لیکن اگر عوام کے معیارِزندگی میں اضافے اور ان کی فلاح کو پیمانہ بنایا جائے تو نہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s