پناہ کی تلاش

رضوان عطا

سمندر اور زمین کے راستے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ رخت سفر باندھنے والوں کی اکثریت کاتعلق ان ممالک سے ہے جن میں خانہ جنگی، مذہبی شدت پسندی، غربت اور آمریت نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ان بدنصیب ملکوں میں شام، عراق، افغانستان اور بعض افریقی ممالک نمایاں ہیں۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی موج درموج آمد کے بعداسے دوسری جنگ عظیم کے بعد آنے والا سب سے بڑا پناہ گزین بحران قرار دیتے ہیں۔

مسئلہ عالمی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک جن افراد کو اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ان کی تعداد چھ کروڑ کے قریب ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسے افراد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ گویاارض پرجنگ اور افلاس نے جنگ عظیم کی سی تباہی مچارکھی ہے۔ جنگیں مال و متاع چھوڑکر بھاگنے والوں کی تعدادمیں حیران کن اضافہ کرتی ہیں۔

پناہ گزینوں کی یورپ آمد کی لہر کی ابتدا 2007ء سے ہوئی۔ افریقا اور مشرق وسطیٰ سے یہ افراد ترکی سے یونان اور پھر یورپ کے دوسرے ملکوں میں پہنچتے۔ اس سلسلے کو منقطع کرنے کے لیے یورپ نے طاقت اور خاردار تاروں کا سہارا لیا جس کے سبب اس زمینی راستہ سے جانے والوں میں2012ءتک خاطر خواہ کمی ہوگئی۔ زمینی راستوں کو روکنے کی ایک اور کوشش میں بلغاریہ نے بھی ترکی کے راستے داخل ہونے والوں کو روکنے کے لیے سرحدوں پر خاردارتاروں کے جال کو پھیلایا۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔

اسی دوران میں شمالی افریقا میں تیل کی دولت سے مالا مال ملک لیبیا کے آمر کرنل قذافی کو جب عوامی کی بجائے فضائی قوت نے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو ملک میں عدم استحکام اور خانہ جنگی نے ڈیرے ڈال لیے۔ انتشار کے باعث اب لیبیا ایسا راستہ قرار پایا جس کے پانیوں پر سفر کر کے یورپ کے ساحلوں تک پہنچا جاسکتا تھا۔

سمندر کا انتہائی خطرناک سفر اختیار کرنے والوں میں اکثریت انہیں کی تھی جنہیں بشارالاسد کے جبر اور اسلامی شدت پسند کی بربریت نے اپنے ملک میں رہنے کے قابل نہ چھوڑا تھا۔ شامی بڑی تعداد میں بحیرہ روم کے سمندری راستے سے یورپ پہنچے، لیبیا کا انتشار ان کا سہارا بنا۔ دنیا میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہر پانچواں شخص شامی ہے۔

گزشتہ برس بحیرہ روم نے تین ہزار سے زائد ایسے بحری مسافروں کو نگل گیا۔

خطروں اور اموات کے باوجودسلسلہ تھمنے والا نہیں۔اقوام متحدہ خبردار کرچکی ہے کہ عراق میں بڑھتا ہوا بحران پناہ گزینوں کی نئی لہر پیدا کرے گا اور ساتھ یہ بھی کہ روزانہ تقریباً آٹھ ہزار شامی اور عراقی پناہ گزینوں کی یورپ آمد کا امکان ہے۔

حالیہ برس کے پہلے9 ماہ کے دوران یورپی حدود میں داخل ہونے والوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

یورپ کا ردِ عمل کیسا ہے؟

نائن الیون، معاشی سست روی اور کٹوتیوں نے یورپ میں نسل پرستی، پناہ گزینوں کی مخالفت اور اسلاموفوبیا میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا سیاسی اظہار دائیں بازو یہاں تک کہ فسطائی جماعتوں کے مضبوط ہونے کی صورت میں ہوا جو نسل پرستی کو فروغ بھی دیتی ہیں اور اسی کے سہارے ووٹ بھی لیتی ہیں۔ ان کے نزدیک معاشی مسائل کی وجہ باہر سے آنے والے ہیں۔

یہ چند دہائی قبل کا وہ یورپ نہیں جہاں آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا تھا تاکہ کام کرنے والوں کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ آج ضرورت ختم تو نہیں ہوئی البتہ کم ہے۔ جن ممالک کو ضرورت زیادہ ہے وہاں زیادہ کو بسایا جارہا ہے۔لہٰذا پناہ گزینوں کی آمد کی حوصلہ شکنی کے ساتھ انہیں ایک حد تک داخلے کی اجازت بھی ہے۔

پس اب پناہ گزینوں کے حقوق کی بات کم اور ان کے غیرقانونی ہونے کی بازگشت زیادہ سنائی دیتی ہے۔ سمندروں پر پہرے بڑھ گئے ہیں اور آمد محدود کرنے کے لیے یورپی ممالک کے مابین اجلاس تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

حال ہی میں وسطی یورپ اور بلقان ریاستوں کے رہنماؤں نے ایک اہم ہنگامی اجلاس کے دوران پناہ گزینوں کی آمد سے نمٹنے کے لیے 17 نکاتی ایجنڈہ منظور کیا ہے۔ جس کا مرکزی نکتہ ہے کہپناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی پیش قدمی کے اقدام کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

یورپی ممالک پر دباؤ بہت ہے۔۔۔ ایک طرف پناہ گزینوں کے جتھوں کا جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ دوسرا انسانی حقوق سے متعلق ہوئے معاہدوں کی پاسداری کا اور تیسرا اس دائیں بازو کا جو اس آمد کا مخالف ہے۔

یورپ میں بچوں کی پیدائش میں کمی اور کام کی سکت نہ رکنے والے عمررسیدہ افراد کی بڑھتی تعداد نے بہرحال گہری رنگت والوں کو پناہ کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ جرمنی، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اس حوالے سے سخاوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

البتہ خیال رہے کہ پوری یونین نے جتنے پناہ گزینوں کو مستقبل میں بسانے کا ارادہ کیا ہے اس سے 50 گنا زیادہ یونین سے 100 گنا چھوٹے ملک لبنان میں موجود ہیں ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s