مشرق وسطیٰ میں سامراج اور نئی جنگیں


سیمون عساف

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کا زوال سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کاباعث بن رہا ہے۔ سیمون عساف اس خطے پر مزید گہرائی سے نظر ڈالتے ہیں جس پر تشدد اور غیر یقینی کے بادل اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

بہارِ عرب کے انقلابات کا جب عروج تھا تو  تبدیلی کی اس تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر آئے، جس سے خطے میں گہری تبدیلی کے امکانات پیدا ہوئے۔ ان انقلابات کی پسپائی سے جبر کی واپسی ہوئی اور خوفناک فرقہ واریت پھیل گئی۔

سعودی عرب کی  یمن پر شدید بمباری، شام کے باغی شہروں کی تباہی اور عراق میں شدید خانہ جنگی سب اسی کی دین ہیں۔ عجب اتحادوں نے جنم لیا ہے جو بظاہر متضاد ہیں۔ امریکا اور مغرب ایس آئی ایس کے سنی اسلامسٹوں کے خلاف  ایرانی وفادار شیعہ ملیشیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یمن میں اس کے برعکس امریکا حوثیوں کو روکنے کے لیے سعودی جنگ کی حمایت کررہا ہے۔ اس دوران میں وہ القاعدہ پر ڈرون حملے کررہا ہے جو حوثیوں کی کٹر دشمن ہے۔

ایک رجحان موجود ہے جو اس ابتری کو امریکا کے کسی عظیم منصوبے کے طور پر دیکھتا ہے اور امریکا کو واحد بڑی طاقت مان کر عالمی سامراج کو “یک قطبی” سمجھتا  ہے۔ البتہ سامراج صرف امریکی طاقت کے استعمال کا نام نہیں بلکہ ایک عالمی نظام ہے جس میں دوسری عالمی طاقتیں جیسے روس اور چین غلبے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، سامراج عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ مقابلے کا دوسرا نام ہے۔

امریکہ اکلوتی بڑی طاقت نہیں،  وہ یوکرین میں نیٹو کی توسیع پر روس سے شدید مخاصمت میں الجھ چکا ہے، اور چین کی بڑھتی معاشی قوت اور مشرق بعید میں بڑھتے اثر پر اسے گہری تشویش ہے۔ عراق میں ناکامی کے باوجود بھی بہت سے اس ناکام مہم جوئی کو امریکی کامیابی سمجھتے ہیں، اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ابتری کو کسی عظیم منصوبے کا حصہ۔

امریکا عراق میں اپنی فوجوں کے ذریعے برسرِپیکار ہونے سے گریز چاہے گا، یا ہم خیال مقامی عناصر کی مدد سے استحکام کا متمنی ہوگا۔ وہ عراقی حکومت کی صورت میں ناقابلِ اعتبار اور کوتاہ نظر اتحادی پر انحصار کرتے ہوئے واپسی نہیں چاہے گا۔

باراک اوباماکے حصے میں آنے والی جارج ڈبلیو بش کی میراث کا تقاضا کرتی ہے کہ امریکا کو کسی طرح ان مصیبتوں سے چھٹکارہ دلایا جائے۔ وہ دن گئے جب “نیو کان” بااعتماد ہوا کرتے تھے۔  شام پر عسکری کارروائی کے معاملے میں امریکا ہچکچاہت سے کام لے رہا ہے اور اسے سمجھ نہیں آرہی کہ عراق میں کیا انتظام کرے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ وہ ایران سے کوئی بڑی لڑائی مول نہیں لینا چاہتا۔  اس خارجہ پالیسی کو “اوباما ڈپلومیسی” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک حصہ کیوبا کے ساتھ 50 سالہ تنازعے کا تصفیہ ہے۔ اسی کے ساتھ نام نہاد پی 5+1(چین، فرانس، روس، برطابیہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکا، نیز جرمنی)کا ایران سے  نیوکلیئر معاہدہ ہے جس میں ان اقتصادی پابندیوں کو اٹھانے کا روڈ میپ ہے جنہوں نے ایرانی معیشت کو ہلا دیا ہے۔

جہاں کیوبا کے رہنما راہول کاسترو کے ساتھ ہاتھ ملانا اور دہائیوں پر محیط عداوت کا خاتمہ اوباما کی سفارت کاری میں آسان ہے وہیں ایران سے نیوکلیئر معاہدہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ اس معاہدے سے نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس ایران کا خطرہ نہیں رہے گا (اگرچہ یہ الزامات کہ وہ نیوکلیائی ہتھیار بنا رہا ہے زیادہ تر فضول ہیں) اور اس سے اسرائیل کے پاس جنگ کرنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔

اس کے بدلے ایران نیوکلیائی افزودگی کے عمل کو کم درجہ کرے گا تاہم نیوکلیائی توانائی کے حصول کے طویل المدت ہدف تک پہنچنا بھی ممکن رہے گا۔ یہ معاہدہ ابھی “طے نہیں ہوا” اور امریکی کانگرس اسے   ختم کر سکتی ہے۔ “نیو کانز” اس معاہدے کے خلاف ہیں اور اسی طرح اسرائیل اور بہت سے عرب ممالک بھی۔ یہ معاہدہ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کی دُکھتی رگوں کوچھیڑتا ہے کیونکہ بظاہر یہ ان کے مفادات کے خلاف ہے۔ تعلقات کی ترتیبِ نو میں ان کی حیثیت ثانوی ہوتی نظر آتی ہے۔

جیسا کہ واشنگٹن میں  ایک سابق گھر کا بھیدی فنانشن ٹائمز کو بتا تا ہے “طویل المدت منصوبہ ایران کے ہم رکاب ہونا نہیں بلکہ اس سے اتنے اچھے تعلقات رکھنا ہےکہ  سعودی عرب کے ہم رکاب ہونے کی ضرورت نہ رہے۔” امریکا اپنے اتحادیوں سے چھٹکارہ نہیں چاہتا بلکہ وہ انہیں حد میں رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ سب منصوبہ کے مطابق ہو نہیں پارہا۔

امریکا کو یمن میں سعودی عرب کے”آپریشن ڈیزرٹ سٹارم” میں کودنا پڑا اور حوثیوں کو مسلح کرنے کی مبینہ  ایرانی کوشش روکنے کے لیے بحری بیڑہ بھیجنا پڑا، گرچہ اسکے ثبوت ناکافی ہیں کہ باغیوں کو ایران نے اسلحہ بھیجا، یا وہ طاقت ور خلیجی بادشاہتوں سے پراکسی جنگ کے لیے اس ملک کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

چین:

امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں غلبہ فرانس اور برطانیہ سےورثے میں  ملا۔ جب ان کی سلطنتیں 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں رو بہ زوال ہوئیں تو اس نے آسانی سےبطور نئے نوآبادیاتی حکمران ان کی جگہ لے لی۔ اب جبکہ امریکا کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں دوسری طاقتوں کو جگہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔ سب سے نمایاں چین ہے جس کے خطے میں مفادات بڑھ چکے ہیں۔ جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین 2010ء میں دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔

چینی معیشت کی برق رفتار ترقی اور  خطے میں وسیع سرمایہ کاری اسے امریکا کے سامراجی جانشین کا درجہ دیتی ہے۔ اس حوالے سے اعدادو شمار کے انبار لگے ہیں۔ ایک طرف 2008ء میں شروع ہونے والے بحران نے امریکا اور مغرب کو کمزور کیا تو دوسری طرف اسی دوران میں چین سب سے بڑا برآمد کنندہ اور غیرملکی کرنسی کے ذخائر سے لبریز ملک بن گیا ہے۔ معیشت دانوں نےچین کے  امریکا کے برابر پہنچنے کے سال مختلف بتا ئے ہیں (گرچہ مستقبل میں معاشی انحطاط کے امکانات بھی موجود ہیں)۔ یہ سال 2023ء اور 2026ء کے درمیان بتلائے جاتے ہیں۔

اس معاشی ترقی کےوسیع جغرافیائی و سیاسی اثرات ہیں۔ چینی گہرے پانیوں کی  بہت سی بندرگاہیں تعمیر کررہے ہیں جو بحیرہ جنوبی چین سے بحیرہ عرب تک پھیلی ہیں۔ یہ اس کی “موتیوں کی مالا” پالیسی کا حصہ ہے۔ کچھ چینی رہنما اسی طرح سڑکوں کے جال کی بات کررہے ہیں جسے “نئی شاہراہ ریشم” کا نام دیا جارہا ہے۔ چین اپنی فوج کو بہتر کررہا ہے، جدید بڑی بحریہ تعمیر کررہا ہے اور پوری دنیا میں معاشی پھیلاؤ کررہا ہے۔

اس کے جواب میں ہوئی ترتیبِ نو میں اوباما نے  امریکاکی “ ایشیا پرمرکوز” خارجہ پالیسی کی ابتدا کی ہے تاکہ چین کی جانب سے بڑھتے چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکے۔ امریکا چین کی نسبت اسلحے پر دس گنا زیادہ خرچ کرتا ہے او ر مستقبل کے بڑے  منصوبوں کے ہوتے ہوئے بھی  اس میدان میں چین کا امریکا کے ہم پلہ ہونے کا امکان نہیں۔ چین کے پاس بڑی فوج ہے لیکن یہ کہیں جاتی نہیں۔ اس کی بجائے دوسری عالمی طاقتوں پر اس انحصار کرتے ہوئے یہ اپنا مفادات کی نگرانی کرتا ہے، بالخصوص خلیج سے آنے والے تیل کے لیے۔ عراق میں آئی ایس آئی ایس کے جارحانہ حملوں نے یہ واضع کردیا۔ عراق کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کے باوجود چین ان کا دفاع کرنے کے قابل نہیں۔ جوں جوں عراق میں خانہ جنگی بڑھتی جارہی ہے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے چین کا امریکا اور ایران پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ چین غیر محفوظ ہے اور اس حیثیت میں نہیں کہ امریکا کو کنارے لگاسکے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا طریق اس کے معاشی مفادات سے میل نہیں کھاتا۔  ایک مبصر سے یوں بیان کرتا  ہے “چین توقع سے کم کام کررہا ہے”۔

ورلڈ فنانشل ریویو کے مطابق “مشرقِ وسطیٰ میں چین  اپنے معاشی مفادات کو تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری  سے بھی آگے بڑھا چکا ہے۔ اس نے مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے ممالک سے  تجارت کرکے اور وہاں انفراسٹریکچر کی تعمیر کے ذریعے بذاتِ خود خاطرخواہ ترقی کی ہے۔ “ معاشی قوت میں یہ اضافہ چین کو  زیادہ خریداری کرنے صلاحیت دیتا ہے اور خطے سے اس کے اہم مفادات جڑجاتے ہیں۔ چینی سرمایے سے تعمیر ہونے والے  بڑے منصوبوں کی فہرست بڑھتی جارہی ہے۔ ان بہت سے منصوبوں میں سے  ایک تازہ ترین لڑکھڑاتے مصری ریل نیٹ ورک میں بہتری لانے کا ہے۔

نتیجتاً چین کا مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ فراہمی سعودی عرب کرتا ہے اور اس کے بعد ایران ہے، جہاں پابندیوں کے باعث اسے رعایت مل جاتی  ہے۔  اس کے برخلاف امریکا اپنی توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہوگیا ہے اور یہاں فرینکنک نے اس کی مدد کی، اور 1970ء کی دہائی کے بعد پہلی بار “تیل کے جھٹکے” میں تیل کا ایک بڑا  برآمدکنندہ بن  ہے۔

امریکا اور چین کے رنگ ڈھنگ میں فرق کا خلاصہ 2013ء کی سینڑ فار سٹریجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ “بظاہر ریاست ہائے متحدہ امریکا اور چین نے خطے پر تبصرے کے لیے جو اندازِگفتگو اپنایا  وہ صاف طور پر مختلف تھا: ریاست ہائے متحدہ امریکا نے “توانائی میں خودانحصاری” حاصل کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی “لَت کے خاتمے” کی بات کی۔ بیجنگ نے “توانائی کے باہمی انحصار”، “توانائی کے تحفظ” اور “سٹریٹجک شراکت” کی بات کی۔ امریکی اندازِگفتگو نے خلیجی رہنماؤں کو بے چین کیا جبکہ چینی زبان سے انہوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔”

چین کی خطے میں پالیسی ہے کہ ہر کسی کو ساتھ لیا جائے۔ یہ ایران سے نیوکلیئر معاہدے کی حمایت کرتا ہے، ساتھ ہی امیر خلیجی انویسٹمنٹ فنڈ میں اپنی مالیاتی منڈیاں کھولتا ہے۔ یہ شام میں امریکی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے لیکن عراق میں نہیں۔ یہ عرب ممالک میں بڑی سرمایہ کاری کرتا ہے اور ساتھ اسرائیل میں بھی۔ بہرحال عرب حکومتیں سمجھتی ہیں مستقبل میں ابھرتے چین کی خطے میں حیثیت مرکزی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ امریکا سے جلد الگ ہوجائیں گی لیکن طویل المیعاد خاکہ کشی  یہی ہے۔

امریکا کے نسبتاً انحطاط اور چین کی عدم مداخلت کے بیچ مقامی طاقتیں کشمکش میں ہیں۔ غلبے کی جدوجہد ایران اور سعودی عرب کے درمیان عسکری کُشتی کی  شکل اختیار کرلی ہے جس میں فرقہ وارانہ زبان کا استعمال ہورہا ہے۔ ماضی میں پڑنے والی د راڑیں، نئے ابھار اور پرانے تنازعوں کی ازسرِنو توضیح  شیعہ اور سنی مسلمانوں کے تفرقے کی صورت میں کی جاتی ہے، اور یہ ایران سعودیہ کی وسیع  مخاصمت کا حصہ بنا دی جاتی ہے۔ شامی بغاوت اور یمن کی خانہ جنگی کو اب فرقہ وارانہ رنگ میں رنگا جاتا ہے اور اس کے ماخذ، وجوہ اور حل کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ جریدے اکانومسٹ کے مطابق: “ریاض اور تہران کے مابین خطے میں مقابلہ نیا نہیں؛ البتہ ایرانی اثر میں اضافہ نیا ہے۔ پابندیوں کے باعث جہاں ایرانی معیشت گزشتہ دہائی میں زیادہ تر مشکلات سے دوچار رہی وہیں بڑھتی تیل کی قیمتوں سے سعود ی معیشت کو آسانیاں ملیں۔ تاہم بہارِ عرب سے پیدا شدہ افراتفری میں دونوں نے اپنے اثر کو پھیلانے کی کوشش کی، شاید ایرانیوں نے زیادہ کامیابی سے ایسا کیا۔ امریکا اور ایران کے مابین حقیقی مفاہمت، جس کا امکان گرچہ کم ہے، طاقت کےنازک  توازن میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

سعودیایران مخاصمت کی جڑیں اس نئی تشکیل میں پنہاں ہیں، اورجو ہمارے سامنے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ دونوں طاقتوں نے مقامی تنازعات سے اپنی مطابقت پیدا کی اور  کسی ایک یا دوسرے فریق کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہوئے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ خود کو ایسے محفوظ ہاتھ بنا کر پیش کیا جو عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حقیقت:

اس صورتِ حال میں دیگر علاقائی کرداروں، جیسے اپنے مخصوص فادات رکھنے والا ترکی، ساتھ ہی مصر اور اسرائیل کو شامل کر لیں تو الجھاؤ بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ ایلیکس کیلینی کوس نے حال ہی میں کہا، “اپنا سَر ادھر اُدھر مت کریں،ذمہ دار بیرونی حقیقت ہے۔”

مفادات اور مقابلے سے پیدا شدہ حالتِ انتشار  ذہنی الجھاؤ پیدا کرنے والا ہے۔ آئی ایس آئی ایس کو گرفت میں لانے کے لیے امریکی فضائیہ ایران اور حزب اللہ کی اتحادی شیعہ ملیشیا کی مدد کررہی ہے: کوبانی میں دولتِ اسلامی کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ترکی اپنے تاریخی دشمن “پی کے کے” کی مدد کررہا ہے؛ شام میں تحریکِ فلسطین کی خودمختاری کے لیےدوسروں کے علاوہ اسلامسٹ سب سے بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ دنیا کو صرف سلیمانی ٹوپی پہن کر سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال کا تعلق تحریکوں کی تاریخ، یا بغاوت کی روش سے کم اور سامراج کے بحران اور اثر بڑھانے کے لیے علاقائی طاقتوں کی جدوجہد سے  پیدا ہونے والے بحران سے زیادہ ہے۔ 2003ء سے پہلے کی نسبت امریکا کمزور ہے، تاہم یہ ابھی بھی مضبوط ہے۔ سٹریٹجی پر یہ اپنے اتحادیوں سے راضی نہیں، لیکن عالمی سطح پر تیل کی حفاظت کو ترجیح دینے کی پالیسی سے یہ دست بردار نہیں ہوا۔

غلبے کے لیے جدوجہد کا ایک بڑا اشارہ خلیج تعاون کونسل کے اخراجات میں ہونے والا ڈرامائی اضافہ ہے، جس میں بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ 2014ء کے اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب نے 54 ارب پاؤنڈ اسلحے پر خرچ کیے جو روس کے خرچ سے تھوڑے کم جبکہ برطانیہ سے زیادہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 15 ارب پاؤنڈ خرچ کیے جو 2006ء کی نسبت تین گنا زیادہ ہیں۔ قطر کے یہ اخراجات 2010ء میں 1.2 ارب پاؤنڈ تھے جو چار سال بڑھ کر 16 ارب پاؤنڈ ہوگئے۔ دیگر خلیجی ریاستیں بھی انہیں کی پیروی کررہی ہیں۔

خریداری کے زیادہ تر معاہدےاعلیٰ ترین اسلحے، جیسے گن شپ ہیلی کاپٹر، جدید ترین جنگی جہاز اور مزائیلوں کے نظام، کے لیے ہیں۔ یمن میں ان کا استعمال بہت تباہی پھیلا رہا ہے۔ اسی دوران میں روس ایران کو جدید ترین اینٹی ائیر کرافٹ دفاعی نظام فراہم کرنے پر راضی ہو گیا ہے جو جدید امریکی طیاروں کو گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ خطہ اسلحے کے سوداگروں کے لیے بڑی منڈی رہا ہے تاہم یہ حال ہی میں ہوا کہ اسلحے کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ ایک دفاعی تجزیہ نگار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ “خلیجی ممالک کی افواج کی حیثیت دفاع کے نشان اور بزمِ ہوابازی کے درمیان کی کسی شے جیسی رہی ہے۔ اب اچانک ان کا استعمال ہونے لگا ہے۔”

اس کے،  جسے بہت سے لوگ مشرقِ وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کہتے ہیں، نتائج کی پیشن گوئی کرنا ناممکن ہے۔ یمن پر جاری سعودی جنگ، عراق اور شام میں حملے اور جوابی حملے، اوران جنگوں کا  پھیل کر خلیجی بادشاہتوں اور ایران کے درمیان خونی تصادم کی راہ اختیار کرنے کا تازہ خطرہ خطے کے مستقبل کی تاریک تصویر پیش کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ جنگوں اور انقلاب کے بیچ میں سانسیں لے رہا ہے۔ بہارِ عرب کی پسپائی ردِانقلاب اور نئی اور زیادہ خبیث آمریتوں کولائی، اور فرقہ وارانہ تقسیم نمایاں ہوئی۔

البتہ ان تحریکوں کی یاداشت، جنہوں نے سیکورٹی فورسز سے مقابلے کیے، ہڑتالیں کیں، نئی یونینیں اور محلہ کمیٹیاں بنائیں، ابھی بھی تازہ ہے۔ اپنے عروج کے وقت بغاوتوں نے لاکھوں کو ایک مظاہرے میں اکٹھا کردیا۔ فرقہ پرستی کو دھکیل دیا گیا۔ ان انقلابات کی پسپائی کے ساتھ ہی ردِ عمل ہوا۔

جنگ کا جواب انقلاب ہے۔ یہ پیشین گوئی کرناناممکن ہے کہ یہ تحریکیں ایران سے مصر اور شمالی افریکا تک دوبارہ کیسے جنم لیں گی۔ لیکن وہ بنیادی وجوہ، جیسے بے روزگاری، غربت اور جبر، جن سے انقلابات کی راہ کھلی، اب بھی موجود ہیں۔

انگریزی میں تحریر:

http://socialistreview.org.uk/402/imperialism-and-new-wars-middle-east

مترجم: رضوان عطا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s