سٹالن سے اظہارِ محبت کے نئے انداز


تحریر: رضوان عطا

بعضوں کی جانب سے سٹالن کی حمایت کی جدوجہد، جوآج کل زیادہ تر سوشل میڈیا پر اُمنڈ آئی ہے، عجب رنگ ڈھنگ لیے ہوئے ہے۔ سٹالن کی حمایت میں ایک چھوٹا سا رجحان لینن کے ٹراٹسکی کے خلاف بیانات کے مخصوص حصوں کو سامنے لا لاکر اسے غلط اور قابلِ نفرت ’ثابت‘ کرنے کے درپے ہے۔ اس کے نزدیک لڑکھڑا کر چلنے والی ٹوٹی پھوٹی سٹالینی روایت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے اگر ٹراٹسکی کو نیچ اور گھٹیا اور سٹالن کو پاک اور عظیم ’ ثابت‘ کردیا جائے۔ 

سوویت یونین میں سٹالن کے طویل دورِ اقتدار میں ٹراٹسکی اور اس کے تصورات کے خلاف مواد کی تیاری پر خاص توجہ دی گئی اور یہ تھوک کے حساب سے پیدا ہوا۔ لینن کے بعد پوری دنیا میں تقسیم کی گئی سوویت کتابوں میں خاص ٹراٹسکی کے خلاف چھپنے والی کتب کے علاوہ دیگر میں بھی جہاں کہیں ٹراٹسکی اور اس کے خیالات کی وضاحت کی گئی اس میں سٹالن کے تصورات اور سرکاری تعصب کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ لہٰذا پاکستان میں سٹالن سے جذباتی لگاؤ رکھنے والوں کا جو نیا نحیف سا رجحان نظر آتا ہے اس کے پاس اس پرانے میں سے چُگنے کو بہت کچھ ہے۔ انٹر نیٹ نے دانہ دنکا تلاش کرنا مزید آسان کردیا ہے۔

کمزور بنیادوں والی کسی عمارت کی طرح سوویت یونین دھڑام سے گرگیا۔ یہ تجزیہ کرنا کہ ایسا کیوں ہوا سنجیدگی، ایمانداری اور مارکسزم کی درست سوجھ بوجھ کا تقاضا کرتا ہے اور یہ شخصیت پرستوں تنگ نظروں، ماضی میں عظمت تلاش کرنے والوں اورفرقہ پرستوں کے بس کی بات نہیں۔

سوویت یونین میں لینن کی شخصیت پرستی کو فروغ دیا گیا۔ سٹالن کے دورِ حکومت میں لینن کے جگہ جگہ مجسمے پرندوں کے بیٹھنے اور بیٹ کرنے کے کام تو آئے سو آئے لیکن یہ بنائے عام انسانوں کے لیے گئے تھے۔ یہ سوویت عوام کو شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا کرنے کا کام کرتے تھے۔ اور ایک پراپیگنڈا مہم اس کے لیے بنیاد فراہم کرتی تھی۔ لینن بلکل درست تھا، ہم لینن ازم پر عمل کررہے ہیں، ہم لینن اسٹ ہیں، پس جو مخالف ہے غدار ہے ، اسے ٹھکانے لگایا جائے، اسے کچلا دیا جائے۔ غداری کی سائنس سوویت یونین میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسی طرح کام کرتی تھی جیسے ہمارے پیارے ملک میں کرتی ہے۔ اس سب کے ساتھ جب کمیونزم اور مارکسزم کی بے روح جگالی کی جاتی تو سچ ماسکو میں رہائش پذیرمعلوم ہوتا۔

سٹالن کے دور میں جہاں انقلاب کے ”غداروں“ کوبڑے پیمانے پر موت کے گھاٹ اتارا گیا وہیں انہیں اذیتیں اورسزائیں دی گئیں اور جلاوطن کیا گیا۔ اسٹالینی انتہائی بے شرمی سے اس قتال اور جبر کو جائز اور درست قرار دیتے ہیں۔ یہ ٹینکوں پر چڑھ کر دوسرے ملکوں میں لائے گئے ”سوشل ازم“ کو درست مانتے ہیں۔

سوویت عوام کی محنت سے پیدا کردہ وسائل سے ان ”غداروں“ کے خلاف ملک کے اندر بھی اچھا خاصا مواد پیدا کیا گیا۔ ان میں ٹراٹسکی اور اس کے خیالات سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ نتیجہ یہ بھی نکلا کہ اس کے اصل حامیوں کے علاوہ خیالی حامیوں کو بھی مارا گیا۔ جب ٹراٹسکی کے حامی جبر کے نتیجے میں سوویت یونین میں تقریباً نا پید تھے، ’ٹراٹسکائیٹ‘ ہونے کے جرم میں سزائیں جاری تھیں۔ جب جب ٹراٹسکی اور اس کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کے بخار کی وبا پھیلے گی یہ مواد کام آتا رہے گا۔یہ ان افراد کے لیے کسی قیمتی اثاثے سے کم نہیں جنہیں شخصیات کے گرد حالات اور نظریات کو جانچنے کا مرض لاحق ہے۔

اب جبکہ دنیا بھر میں سٹالن نواز جماعتیں عموماً یا تو تحلیل ہو چکی ہیں یا ختم ہوچکی ہیں یا اصلاح پسندی کی انتہاؤں کو چھو رہی ہیں پاکستان میں سٹالن کے یہ جوشیلے”محافظ“ اس پر موضوع پر بات کرتے نظر نہیں آتے بلکہ تاریخ کی ”اصلاح“ کا فریضہ سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔

مختلف مطالبات اور مواقع پر ہونے والے مظاہروں میں سٹالن کی تصاویر اٹھانے کا ان کا خبط ایک طرح سے انہیں ”عظمتِ رفتہ“ کے سحر کا سرور بھی دیتا ہے، اظہارِ محبت کا اظہار بھی بنتا ہے اور علیحدہ پہچان کی نفسیاتی ’ضرورت‘ بھی پوری کرتا ہے۔ پنجابی کے اس محاورے کی طرح جس کا مفہوم ہے کہ بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں، جس کسی ملک میں سٹالن کی تصویر اٹھائے مظاہرین نظر آئیں یہ رجحان اسے ’شیئر‘ کرنا اپنی فرض عبادت نہ سہی نفلی ضرور سمجھتا ہے۔

یہ سٹالن کی حمایت میں چھوٹے، بڑے اور غیر معروف رہنماؤں کے بیانات کو ایسے چن چن کر سامنے لاتا ہے گویا ’دشمنوں‘ کے سینے پر اخروٹ توڑ رہا ہو۔ اس کے نزدیک ٹراٹسکی کے لینن کے ساتھ وقتاً فوقتاً ہونے والے اختلافات اور مباحث کے دوران جہاں جہاں لینن نے سخت زبان استعمال کی اسے نک چونے کی مددسے نکال کر پلیٹ میں پیش کرنا باعثِ راحت اور استقلال ہے۔ نیز اخروٹوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بھی۔ سیاق و سباق کو نظرانداز کرکے پیش کیا جانے والا یہ چناؤ تنگ نظری کی واضح مثال ہے۔

سٹالن کی سوچ سے مطابقت رکھنے والی بقیدِحیات ریاست شمالی کوریا کے آنجہانی رہنما کم اِل سنگ کی تصاویر بھی وارفتگانِ سٹالن اٹھانا پسند کرتے ہیں، لیکن سوال تو اٹھتا ہے کہ یہ کیا ستم ظریفی کہ بانیٔ شمالی کوریا کے پوتے کِم جونگ اُن کو، جو اب حکمران ہیں، نظرانداز کردیا جاتا ہے اور تصویر نہیں اٹھائی جاتی، نہ لگائی جاتی ہے۔ عصرِحاضر میں سٹالینی روایت کے سب سے مؤثر، جواں سال اور زندہ سلامت چشم و چراغ تو وہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ملک اور انقلاب بچانےکے لیے اپنی جماعت کے کئی ساتھوں کو سزائیں بشمول سزائے موت دے چکے ہیں، تاہم روایت شکنی کے مرتکب ہوتے ہوئے انہوں نے انہیں غدار ٹراٹسکائیٹ قرار دے کر نہ انہیں اندر کیا اور نہ اگلے جہاں پہنچایا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پوری دنیا کے چند افراد کے ہاتھوں میں ان کے تصویریں ہوتیں۔ اور یوں شمالی کوریا کی حقیقیکمیونسٹ اور نوجوان قیادت کو چار دانگ عالم کے چند کونوں میں جگہ بھی مل پاتی۔

سٹالن کی الفت میں سرشار افراد کا ایک حلقہ اس ’انقلابی‘ جماعت میں شامل ہے جو آج کل خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اس کارِ خیر میں جہاں ’انقلابی‘ کارکن بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں وہیں جماعتِ اسلامی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف بھی بائیں بازو کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ نہ کچھ حصہ ڈال رہے ہیں۔ ’انقلابی‘ جماعت نے عوامی سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے مذکورہ جماعتوں سے چند نشستوں پر ’اتحاد‘کیا ہے اور اگر یہ لفظ نامناسب لگے تو ’سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘ کی ہے۔ جماعت میں شامل سٹالن کی حمایت میں وقتاً فوقتاً ملاکھڑے کرنے والے پہلوانوں نے اس معاملے پر اپنی قمیض نہیں اتاری۔جماعت میں وہ بھی شامل ہیں جو آخری ملاقات ہونے تک سٹالن کو اور آخری اطلاعات آنے تک ٹراٹسکی کو کوس رہے تھے۔ اب یکجا ہیں۔ دائیں بازو سے اتحاد کی خبروں نے اتحاد میں رخنہ نہیں ڈالا۔ وہ بلب، جو کبھی سرکاری اور کبھی غیر سرکاری بجلی پر چلتا ہے، نے ایسی روشنی دی کہ منور۔۔۔ حسن والے قریب دکھائی دینے لگے۔

سٹالن ہو یا ٹراٹسکی شخصیت پرستی مارکسزم سے دوری کی علامت ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s