ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

ثابت قدم کامریڈ: اسلم رحیل میرزا

رضوان عطا

ڈیڑھ دہائی ہونے کو ہے جب اسلم رحیل میرزا سے پہلی ملاقات ہوئی اور پہلی ڈانٹ کو بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ گزر چکا؛ “یہ مرزا کیوں لکھاہوا ہے، میں نے میرزا لکھا تھا؟” تب میں مزدور جدوجہد میں کام کرتا تھا۔ اپنے مضمون میں پروف کی غلطی رہ جانے پر ان کا شدید احتجاج ہوتا۔ وہ اکثر اپنی تحریر کی پروف ریڈنگ خود کرتے۔

منہ میں پان جو دانت نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہہ رہتا اور رومال سے بار بار صاف کرتے، نحیف سے مگر چاک و چوبند، سر پر لال گلابی ٹوپی، سادہ اور پرانے کپڑے اور ہاتھ میں تھیلا۔ میرزا صاحب تب تک کم و بیش روزانہ کچھ افراد اور دفاتر کا چکر لگانے نکلتے جب تک ایک سڑک کے حادثے میں ان کی ٹانگ نہ ٹوٹی۔ پھر انہیں چلنے پھرنے میں خاصی دشواری ہوتی تھی وگرنہ وہ بہت پیدل چلتےتھے۔

سر پر پہنی ٹوپی کا راز اک دن انہوں نے خود ہی کھول دیا ورنہ اس کے لال سے رنگ کو ہم کمیونزم سے محبت کی کارستانی سمجھتے رہتے۔ مسکرا کر کہنے لگے یہ حضرت میاں میر کے مریدوں کی مخصوص ٹوپی ہے، جب مرید ملتے ہیں تو میری خوب آؤ بھگت کرتے ہیں۔ روزنامہ مساوات میں کام کے دوران کا ایک واقعہ مزے سے سنایا کرتے تھے۔ مبشر حسن نے سختی سے کہہ رکھا تھا کہ میری طرف سے دیکھی گئی تحریر میں کوئی ردوبدل نہیں کرنا۔ ایک بار ایک گالی چھپ گئی۔ مبشر حسن نے مجھے بلا لیا اور پوچھا۔ میں نے کہا آپ تو اسے دیکھ چکے تھے پھر ہم کیسے بدلتے! سعادت حسن منٹو کی تند مزاجی بھی ذکر کرتے تھے۔ ان کے اپنے مزاج میں بھی قدرے چڑچڑا پن تھا، مرحوم قمر یورش سے آخری عمر میں ناراض سے رہے۔ دونوں نے صلاح کی کئی کوششوں کو ناکام بنایا۔ شادی بھی نہ کی۔

اس وقت جب سوویت یونین کا نیا نیا انہدام ہوا تھا لاہور میں کمیونزم کی وکالت کرنے والے اور کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کا دم بھرنے والے دو تین لوگوں میں وہ شامل تھے۔ وہ سامراج مخالف تھے اور اکثر کہتے کہ یہ جو سی آر اسلم نے کہتا ہے کہ سامراج ختم ہوگیا ہے غلط ہے۔ عابد حسن منٹو کی کمیونزم سے دوری پر بھی تنقید میں نے ان سے سنی۔ تاہم بائیں بازو کے لوگوں سے میل ملاپ اور بات چیت رہتی۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے شیدائی تھے اور اس پارٹی کے زوال پر رنجیدہ بھی۔ایک بار ملک میں جب کمیونسٹ پارٹی کی ناکامیوں پر کوئی بات ہوئی تو کہنے لگے؛ آہ، کمیونسٹ پارٹی تو کبھی بن ہی نہیں پائی۔

ایک بار رسالہ “سوشلسٹ” ان کے ہاتھ آیا، شاید ساجد خاصخیلی کے لاہور آنے کے موقع پر۔ کہنے لگے کراچی سے کچھ لوگ بہت اچھا رسالہ نکالتے ہیں، ہوتا تو فوٹو کاپی کی شکل میں لیکن خوب ہے۔ خوش تھے کہ اس مشکل دور میں سوشلزم کا نام لینے والے موجود ہیں۔ پر کہنے لگے؛ ہیں تمھارے ٹراٹسکائیٹ۔ میں نے ان کے عمررسیدہ ہاتھوں میں سندھی جریدہ آدرش بھی دیکھا اور اس کی بھی انہوں نے تعریف کی۔

میرزا کے پاس سوویت یونین کے انحطاط کا ٹھوس تجزیہ نہیں تھا اور سیاسی تجزیات میں بھی سادگی اور دہرائی تھی۔ لیکن مقامی کمیونسٹوں اور بائیں بازو کے کارکنوں اور ان کے کاموں کو وہ خوب جانتے تھے۔ وہ ان نادر لاہوریوں میں سے تھے جو سندھی زبان جاننے تھے ورنہ زندہ دلان میں دوسری مقامی زبانیں سیکھنے کا چلن نہیں۔اس وجہ سے بھی مقامی تحریکوں کے بارے زیادہ علم رکھتے تھے۔

کتابیں اکٹھی کرتے اور طلب کرنے پر کچھ بیچ بھی دیتے۔ ان کے گھر میں کتابوں اور کاغذات بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا۔ میں نے بھی ان سے چند کتابیں خریدی ہیں۔ انہوں نے خود بھی کتابیں لکھیں اور تراجم کیے۔ان کے معاش کا سلسلہ بس یوں ہی چلتا رہتا۔ جب “کمیونسٹ” اور “لیفٹسٹ” انفرادی سطح پر یا گھروالوں کی مدد سے کاروبار اور، یا این جی اوز سنبھالنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے، ان کا طرز زندگی نہ بدلا۔ کیریئر کیسے بنانا ہے، سرمایہ کیسے اکٹھا کرنا ہے، سہولیات کیسے لینی ہیں؟ ان  سے دور تھے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں بھی نہیں ہوتا جو نظریات اور کیرئیر دونوں کو ساتھ ساتھ چلانے کا ہنر جانتے ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ سالوں تک ان سے ملاقات نہ ہوئی، بس چند جاننے والوں کے ذریعے ایک دو بار پیغام بجھوایا اور پھر ان کے انتقال کی خبر۔ کامریڈ میرزا ایک ثابت قدم اور باہمت انسان تھے۔ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو مشعلِ راہ ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s