سیریزا اور ریاست

سیریزا اور ریاست

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

زیرِنظر تحریر میں مصنف نے یونان میں بائیں بازو کی بننے والی نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور اس کی طرف سے اپنائی گئی سٹریٹجی کے پسِ پردہ کارفرما نظریات کا جائزہ لیا ہے۔

یونان میں ریڈیکل لیفٹ جماعت سیریزا کی تاریخی کامیابی کی اہمیت کو کم ظاہر کرنا مشکل ہے۔ یونان میں بایاں بازو پہلے بھی اقتدار کے قریب آیا ہے۔ جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو جرمنوں کے ظالمانہ قبضے کے خلاف مزاحمت میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کی وجہ سے یہ تب قومی اتحاد کی قائد بنی۔ اس کے بعد بادشاہت کو دوبارہ مسلط کے لیے برطانیہ اور امریکا نے خونیں خانہ جنگی میں مداخلت کی۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں طلباکے احتجاج اور مزدوروں کی ہڑتالوں نے بادشاہت کے خلاف ایک عوامی تحریک کوجنم دیا۔ ایک بار پھر کمیونسٹ پارٹی (کے کے ای) بہت بااثر رہی۔ اپریل 1967ء میں بائیں بازو کی کامیابی روکنے کے لیے فوج نے مداخلت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اب ایک ایسی پارٹی اقتدار میں ہے جو کے کے ای سے علیحدہ ہونے والے مختلف دھڑوں میں سے ایک ہے۔ کیا یونانی اور بین الاقوامی سرمایہ اس کا اقتدار برقراررہنے دے گا جبکہ اس سے پہلے بائیں بازو کی تحریکوں کو کچل دیا تھا؟

گزشتہ ہفتہ “گارڈین” میں پال میسن نے سیریزا کی کامیابی کو بڑی حد تک اس کے رہنما الیکسس سپراس کی کرشماتی شخصیت، اس کے “پروفیشنل ازم اور ڈسپلن” کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم سماجی اور سیاسی اتھل پتھل کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہوتی ہیں۔

یونانی سماج جب نیولبرل دور میں داخل ہوا تو وہ پہلے سے قبضے، خانہ جنگی اور آمریت کے صدموں سے ٹوٹا ہوا تھا۔ گزشتہ تیس برس میں اس نے سنٹر لیفٹ (پاسوک) اور سنٹر رائٹ (نیو ڈیموکریسی، این ڈی) کی حکومتوں کے دوران یورپ کی سب سے شدید سماجی جدوجہدوں کا تجربہ کیا۔

انیس سو دس اور بارہ کے دوران یہ نقطۂ عروج پر تھیں جب’مثلث‘ (’ٹرائیکا‘) کے حکم پر ظالمانہ چھانٹیوں (آسٹیرٹی)کو رائج کردیا گیا۔ یہ مثلث ہے یورپی کمیشن (ای سی)، یورپی مرکزی بنک (ای سی بی)، اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ۔

ہل چل

اس عرصہ میں بتیس کے قریب ہڑتالوں اور اس کے ساتھ شہروں کے چوکوں پر دھرنوں اور عوامی احتجاجوں نے یونان میں ہل چل پیدا کردی۔ صرف دو سال کے عرصے میں نسبتاً ایک چھوٹی جماعت کے حکومت کے مقابل کھڑے ہونے کا سبب یہ عوامی تحریکیں ہیں۔

پاسوک کی سماجی بنیاد، جو انیس سو اسّی کی دہائی میں غالب تھی، تحلیل ہوگئی۔ مئی اور جون دو ہزار بارہ کے انتخابات میں سیریزا شہری مزدوروں کی مرکزی جماعت بن کر ابھری۔ لیکن حالات سے خوف زدہ کرنے کی شدید مہمات چلا کر اینتونس سماراس کی قیادت میں این ڈی جماعت اس قابل ہوئی کہ سبقت لے اورچھانٹیوں کی حامی ایک اور حکومت بنالے۔

یونان میں چھانٹیوں سے جو مصائب برداشت کرنا پڑے انیس سو تیس کے بعد کسی بھی ترقی یافتہ سرمایہ دار ملک میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا۔یوں انتخابی پلڑا مزید بائیں جانب جھک گیا۔ اور کچھ جدوجہدیں ثابت قدم ہوئیں، جن میں گولڈن ڈان کے فسطائیوں کے خلاف اور سماراس کی طرف سے حکومتی نشریاتی ادارے ای آر ٹی کو بند کرنے کی کوشش کے خلاف جدوجہد شامل ہے۔

ریڈیکل بائیں بازو کا مشترکہ ووٹ 42.5 فیصد کے قریب تھا، بشمول “کے کے ای” اور سرمایہ داری مخالف لیفٹ فرنٹ (انتارسیا)، جن کا مزدوروں اور طلبا کی تحریکوں میں قابل ذکر اثر ہے۔

سیریزا نے ایسا پروگرام پیش کیا جس کا مقصدچھانٹیوں کے بد ترین اثرات کے خاتمے کے اقدامات کرنا ہے۔ لیکن(سیریزا کی) نئی حکومت کو سٹریٹجک مسئلے کا سامنا ہے۔یونان ”مفاہمت کی یاداشتوں“ کے تحت چھانٹیاں کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جس پر انیس سو دس تا بارہ کی یونانی حکومتوں اور’ای سی‘ نے دستخط کر رکھے ہیں۔ ابتدا میں سیریزا نے کہا کہ وہ ان یاداشتوں کو رد کرے گی البتہ یونان کو یورپی زون میں رکھے گی۔

حال ہی میں اس کے ترجمانوں، جیسے نئے وزیرِ مالیات یانس واروفاکس، نے یاداشتوں کو رد کرنے کے وعدے کو وفا نہ کرنے کی بات کی ہے۔ اس کی بجائے وہ ان شرائط پر، جن کے تحت یونان نے اپنا قرض واپس کرنا ہے،  ازسرِنومذاکرات کرنے کی بات کرتے ہیں۔بہت سے مین سٹریم معیشت دان ان خیالات کی حمایت کرتے ہیں۔ اسے بڑے پیمانے پر مانا جاتا ہے کہ یونان کا سرکاری قرض، جو قومی آمدنی کا 175 فیصد بنتا ہے، اتنا زیادہ ہے کہ اتر نہیں سکتا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ’ای سی‘ کے صدر یاں کلوڈ یونکر، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور یورپ کے دیگر نمایاں ناموں نے اس خیال کو سرے سے رد کردیا ہے۔ جرمنی کے حکمران طبقے کے لیے چھانٹیاں زیادہ برآمدات، کم افراطِ زر کا معاشی ماڈل برقرار رکھنے کا ایک طریقہ ہیں۔

ای سی بی کا کمیتی آسانی کو متعارف کرانے فیصلہ،یعنی یورپی زون کی معاشی بحالی کے لیے مؤثر انداز میں کرنسی چھاپنا ، مرکل کے لیے سیاسی شکست تھی۔ اسے پریشانی ہوگی کہ یونان کو رعایت دینے سے یورپ میں دوسر ی جگہوں سے چھانٹیوں میں رعایت دینے کے مطالبے ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔

پوڈیماس، جو اسپین میں ابھرتی نئی جماعت ہے ،سیریزا کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتی ہے۔ پرتگال، اٹلی، اور یہاں تک کہ فرانس میں بہت سے مین سٹریم سیاست دان یورپی زون پر جرمنی کی گرفت ڈھیلی ہوتے دیکھ کر خوش ہوں گے۔

پس سپراس کی حکومت پر بہت زیادہ بیرونی دباؤ ہے۔ وہ اس پر کیسے قابو پائے گی؟

مارکسی سیاسی نظریہ دان سٹاتھس کوویلاکس نے، جو سیریزا کے اندر بائیں بازو کا رجحان رکھنے والوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں،  حال ہی میں کہا ہے کہ یونان میں ”ہم نے حال ہی میں گرامچی _ پولانزاس حقِ انتخاب کے انداز کی توثیق ہوتے دیکھی ہے، جس میں اقتدار انتخابات کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، لیکن اس میں سماجی تحریک کی طاقت شامل ہوتی ہے۔“

گرفت

آگے بڑھتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ”ریاست کو اندر سے اور باہر سے، نیچے سے اور اوپر سے گرفت میں لینا چاہیے۔“نیکوس پولانزاس نے انیس سو ستر کی دہائی کے اواخر میں ”ریاست کے اندر جدوجہد“ کی وکالت کی تھی۔ تاکہ ”ریاست کے اندرونی تضادات کو تیز کیا جائے، اور ریاست کو جڑوں سے بدلا جائے“ جس کی مدد ” اساس میں موجود بلاواسطہ جمہوریت کے ڈھانچے“کریں۔

اس سٹریٹجی میں دو مسئلے ہیں۔ اول، ”ریاست کے اندرونی تضادات“ کی حدود ہوتی ہیں۔ بالخصوص زندہ سرمایہ دارانہ ریاست کو جبر کرنے کے آلات کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے فوج، پولیس، سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے، تاکہ موجود نظام کو برقرار رکھا جاسکے۔ انقلابی مارکسیوں، بشمول انتونیو گرامچی اور اسی طرح لینن یا ٹراٹسکی، نے ہمیشہ اس سے مختلف بات کی ہے۔ ریاست کے جبر کرنے کے مرکزے کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جدوجہدوں میں اقتدار یا طاقت کی متبادل شکلیں تعمیر کی جائیں جو مزدوروں کی تخلیق کردہ ہوں۔

یہیں سے دوسرا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ بائیں بازو کی حکومت کا مخصوص انداز یہ رہا ہے کہ وہ اس عمل کو روک دیتی ہیں، تاکہ اپنی اتھارٹی کو محفوظ کرسکیں اور حکمران طبقے سے سودے بازی میں اپنا وزن بڑھا سکیں۔ مثال کے طور پرچلی میں الواڈور الاندے کی پاپولر یونٹی حکومت نے ’کورڈونز‘_ جو مزدور طبقے کے کارکنوں کی تنظیمیں تھیں_ کی تشکیل کی حوصلہ شکنی کی جس سے ستمبر انیس سو تہتر کے فوجی کودیتا کی راہ ہموار ہوئی۔

انیس سو بارہ کی شروعات سے یونان میں مزدور طبقے کی ہڑتالوں میں بہت تیزی سے کمی آئی ہے کیونکہ محنت کش عوام سپراس حکومت کا انتظار کررہے ہیں۔ سیریزا نے مئی انیس سو بارہ میں اساتذہ کی ایک ملکی ہڑتال کو روک دیا جو چھانٹیوں کے خلاف تحریک کو ازسرِنو شروع کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔ کوویلاکس مانتا ہے کہ ”ہمارے پاس نچلے طبقات کی مضبوط اور مستحکم تنظیمیں جن سے ہم طویل مقابلہ کرسکیں۔۔۔ نہیں ہیں۔“

انڈیپنڈنٹ گریکس (انِل)، جو چھانٹیوں کی مخالف دائیں بازو کی جماعت ہے، سے (سیریزا کے) اتحاد کی غیرمعمولی بنیادپرجو نئی حکومت قائم کی گئی ہے اس سے بھی تحریکوں کو مزید نہتا کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔ میسن اس فیصلے کی توجیہہ یہ کہہ کر کرتا ہے کہ یہ ”سیریزا کی ایک مستحکم حکومت کے قیام“ کرنے کا ایک راستہ تھا۔ سیریزا کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے دو نشستوں کی کمی ہے۔ لیکن وہ اپنی ہی دلیل کی حیثیت کو اس وقت کم کردیتا ہے جب وہ یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ ”چھانٹیوں کے خلاف اقدامات کے لیے سیریزا پندرہ کمیونسٹ ممبران پارلیمنٹ کی حمایت یا رائے دہی سے گریز (آبسٹین) پر انحصار کرسکتی ہے۔“وہ مزید کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اتحاد بنانا غیر ضروری تھا بلکہ اس نے حکومت کو ”دائیں بازو کی جمعیت بنادیا ہے، ایسی جو ریاستی آلات کے ’مرکزے‘ کو محفوظ رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ “

اس (اتحادی) جماعت کا رہنماپانوس کامینوس، جو ہم جنسیت و یہود مخالف خبطی ہے، کے یونان میں بڑے جہاز مالکان سے تعلقات ہیں، اب بطور وزیرِدفاع اس ’مرکزے‘ کے ایک حصے کا قائد ہے۔اس کی موجودگی میں ”مقامی“ اور مہاجر مزدوروں کے درمیان اتحاد، جس کے لیے نسل پرست مخالف جدوجہد کررہے ہیں، اور بھی مشکل ہوجائے گا۔ پولیس کے بارے مشہور ہے کہ اس میں گولڈن ڈان کے بہت سے حامی ہیں۔ اس کے رہنما کے جیل جانے کے باوجود گولڈن ڈان ختم ہونے سے بہت دور ہے۔ 6.28 فیصد ووٹ لے کر یہ انتخابات میں تیسری پوزیشن پر آئی ہے۔ یہ انیس سو بارہ کی نسبت تھوڑے سے کم ووٹ ہیں۔

پس سیریزا کے اندر اور باہر طاقت ور مخالفین ہیں۔ اپنے وزرا کی کرشماتی شخصیت یا مذاکرات کرنے کے ہنر کے باعث یہ ان پر قابو نہیں پاسکتی۔یونان میں بائیں بازو کی طاقت کا انحصار انیس سو نو سے بارہ کے درمیان پھوٹ پڑنے والی عوامی تحریک کودوبارہ زندہ کرنے اور مزید وسعت دینے پر ہے۔انقلابی سوشلسٹوں کو نئی حکومت کی کامیابی کا جشن منانا چاہیے اور یہ جو ترقی پسندانہ اقدامات اٹھائے اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ لیکن پورے یونان کے ریڈیکل بائیں بازو کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ مزدور طبقے کی خود تنظیمی، ان کے اعتماد، اور لڑنے کی صلاحیت کو آگے بڑھانے میں وہ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔

اسی میں چھانٹیوں کا خاتمہ کرنے کی قوت پوشیدہ ہے۔

ذریعہ: http://socialistworker.co.uk/art/39884/Syriza+and+the+state

مترجم: رضوان عطا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s