ارشاد مستوئی کی یاد میں

ارشاد مستوئی کی یاد میں

رضوان عطا

جب ارشاد امین ہفت روزہ ہم شہری کے ایڈیٹر تھے، جہاں میں بھی کام کرتا تھا، تو انہوں نے ارشاد مستوئی کے بارے میں مجھے بتایا۔ ساتھ ان کی تحریر کا نمونہ بھی دیا جسے سراہا گیا تھا۔ پھر، شاید۲۰۰۸ء میں، میرا ان سے فون پر رابطہ ہوا جو کئی سال باقاعدہ رہا۔ ہم تقریباً ہر ہفتے نئی سٹوری پر بات کرتے۔ مجھے تھوڑے سے عرصے میں سمجھ آگئی کہ کوئٹہ کے اس صحافی کا مزاج کیا ہے۔

ارشاد کوئٹہ سے” ایک” طویل رپورٹ ارسال کرتے جس کے اندرمختلف رپورٹس ہوتیں جو صوبے کے بہت سے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتیں۔ اسے ایڈٹ کرنا چند وجوہ کی بنیاد پر قدرے دشوار ہوتا۔ مثلاً اس میں حکومتی مؤقف کے ساتھ بلوچ مزاحمت کاروں کا تفصیلی موقف لکھا ہوتا اور بلوچستان کے حالات کے بارے میں ارشاد کے بہت سے جملے اتنے تند و تیز ہوتے کہ انہیں زنگ آلود کرنا پڑتا۔

ارشاد کی میرے ساتھ سرائیکی میں بات ہوتی۔ ان کی زبان پر سندھی کا غلبہ ہوتا۔ یہ ان کے آبائی علاقے جیکب آباد سے تعلق کی وجہ سے تھا۔

کئی مرتبہ بلوچستان کے حالات پر گفتگو ہوتی جس پر ان کی فراہم کردہ معلومات سے میں مسفید ہوتا اور حالات پر بہتر رائے بنا پاتا۔ انہوں نے 2012ء میں ایک مرتبہ مجھے بلوچستان کے “لاپتا” افراد کی طویل فہرست بھیجی۔اس فہرست میں ایک ہزار سے زائد لوگ شامل تھے۔

ایک دن انہوں نے بری خبر سنائی کہ کہ میرا ایک ہاتھ کٹ گیا ہے۔ تفصیل پوچھی تو بتایا کی گوادر میں ہوٹل کی کھڑکی سے سگریٹ پھینکتے ہوئے ہاتھ بجلی کے تاروں سے جا ٹکرایا، جان بچ گئی لیکن ہاتھ چلا گیا۔ پھر وہ ایک ہی ہاتھ سے کی بورڈ پر کمپوزنگ کرتے تھے۔

ارشاد آزادیٔ اظہار کی وکالت کرتے رہے اور اسی لیے انہوں نے بلوچستان میں صحافیوں کے قتل اور ان پر دباؤ، چاہے اس کی ذمہ داری حکومت ہو یا کوئی اور، کے خلاف ڈٹ کر لکھا۔ انہوں نے بلوچستان میں اہلِ تشیع کے قتلِ عام پر خاصا لکھا۔ انہیں یہ بات ناپسند تھی کہ  دوسرے صوبوں سے شائع ہونے والے اخبارات اور جرائد میں بلوچستان کے حالات پر وہاں کے صحافیوں کی بجائے رپورٹس اور “ماہرانہ”آ را کہیں اور سے لی جائیں۔

ان کی تحریروں میں، جو مجھے موصول ہوتیں، کئی مرتبہ یہ جملہ لکھا ہوتا “درد مندوں کے دیس بلوچستان میں۔۔۔”۔ ارشاد مستوئی ایک درمند انسان تھے۔ میں نے ان سے کبھی ظالم کے حق میں کوئی بات نہیں سنی۔ وہ ایک بہادر انسان تھے۔ انہوں نے وہاں صحافت کی اور لوگوں تک سچ بات پہنچائی جہاں یہ سب سے مشکل کام ہے۔ میری ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی اور اب تو ہو گی بھی نہیں، کیونکہ انہیں تو سچ لکھنے کی بنا پر کوئٹہ میں شہید کردیا گیا ہے، لیکن ان کی یادیں میرے ساتھ ہیں۔ میں اکیلا نہیں ایسے ہزاروں ہیں جن کے لیے ارشاد کی موت ایک بڑا صدمہ ہے۔ اور میرے بہت سے ہیں جنہیں یہ فخر ہے کہ ارشاد ان کے دوست تھے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s