حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

مصطفیٰ عمر

جولائی 2014ء

یہ مضمون صرف “مصری صیہونیوں”کو دیا جانے والا جواب نہیں، چاہے وہ دائیں بازو کے نسل پرست ہیں جیسے لمیس جابر، جومطالبہ کررہی ہے کہ مصر فلسطینی عوام پر وحشیانہ اسرائیلی جنگ کی حمایت کرے اور مصر میں مقیم فلسطینیوں کو ملک بدر کرنےسے پہلے ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے۔۔۔ اس کی نسل پرستی اتنی واشگاف ہے کہ یہ مذمت سے زیادہ کی حق دار نہیں۔۔۔ یا چاہے وہ دائیں بازو کی حزب المصریین الاحرار (فری ایجپشیئن) کے محمد زکی الشیمی کی طرح کے لوگ ہیں، جو لکھتا ہے اسرائیل مصر کا دشمن نہیں۔ ان معنوں میں وہ درست ہے کہ مصر کا حکمران طبقہ، جو مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے والے امریکی سامراج کے مفادات پر انحصار کرتا ہے اسرائیل کو، جو خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا چوکیدار ہے، اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

نہ ہی یہ محض مصری بائیں بازو کے اس حصے سے بحث کرنے کی ایک کوشش ہے جو مصری ریاست کا حامی ہے۔ وہ اس سراب کے دفاع میں نئی گہرائیاں تلاش کیے جارہے ہیں کہ “سیکولر” فوجی اقتدار اسلام پسندوں سے بہتر ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس، جو فلسطینی مزاحمت میں مرکزی تحریک ہے، “مذہبی فسطائی” تحریک ہے۔ یہ دیگر رجعتی مذہبی تحریکوں، جیسے اخوان المسلیمین یا انتہائی رجعتی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس یا جبھت النصرہ اور آئی ایس آئی ایس کے جیسی ہے ۔

یہ مضمون وضاحت کے غرض سے ہے کہ ہم انقلابیوں کو، جو استحصال زدہ اور مظلوم عوام کی جدوجہد او ر تنظیم سے جمہوری سماج کی تعمیر پر یقین رکھتے ہیں،ان اسلام پسند تحریکوں کا تجزیہ اور ان سے معاملہ کیسے کرنا چاہیے (اور اسی طرح “سیکولر” تحریکوں سے) جو رجعتی اور یا سامراجی رجیمز کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں یا جدوجہد کرنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔

یہاں ہم بالخصوص حماس پر توجہ دیں گے، جو 1990ء کی دہائی سے فلسطینی مزاحمت کی قائد ہے۔ چونکہ مصر اور بین الاقوامی سطح پر حقیقی انقلابی قوتوں کا اس کے بارے میں مؤقف مبہم ہے اس وجہ سے رجعتی رجیمز اور سامراج کے خلاف ہماری جدوجہد کمزور ہوتی ہے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ واضح کرتے چلیں کہ ہمارا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلابی تبدیلی کی تحریک نہ صرف استحصالی طبقات کے خلاف بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہوتی ہے بلکہ مظلوموں کی جدوجہدیں اور ابھار بھی سرمایہ دارانہ نظام کو غیرمستحکم اور کمزور کرسکتے ہیں، چاہے یہ ریاست کے اندر مظلوم اقلیتوں کی جدوجہدیں ہوں، مثلاً مصر اور عراق میں اقلیتوں کی، یا امریکا میں سیاہ فاموں کی، یا سامراجی قوتوں کے نوآبادیاتی عوام، مثلاً عرب دنیا کے معاملے میں فلسطین۔

اس تناظر میں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ صیہونیت اور سامراج ، وہ جس نے شروع سے صیہونیت کی سرپرستی کی ہے( اور ابھی تک کیے جارہا ہے)، کے خلاف فلسطینی جدوجہد (بشمول اپنے تمام تر دھڑوں، اور ایک انقلابی کی حیثیت سے ان دھڑوں کی سیاست پر تحفظات کے باوجود) عالمی سامراجی نظام کو غیرمستحکم کرنے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اس سے عرب دنیا میں طبقاتی جدوجہد میں اضافے کی راہ ہموار ہوتی ہے، جیسا کہ 2000ء میں فلسطینی انتفادہ نے مصر میں جدوجہد کے ایک نئے دور کی راہ ہموار کی جس کا عروج 25 جنوری انقلاب تھا۔

حماس پر ایک انقلابی تناظر:

ہمارے تناظر میں یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا جاتا کہ مختلف ممالک میں مختلف وقتوں میں مختلف “اسلام پسند” تحریکیں ایک جیسی ہیں۔ اس کی بجائے ہم اسلام پسند تحریکوں کو اس تاریخی سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جہاں سے وہ اٹھیں، اور اس سماجی اور طبقاتی مواد، اور ان کے سیاسی مقاصد کے حوالے سے ہم ایساکرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہی کہ یہ تجزیہ کریں کہ آیا یہ تحریکیں رجعتی اور سامراجی رجیمز کی مزاحمت کررہی ہیں، غیر مستقل یا بگڑی شکل ہی میں  سہی، اور یہ بھی کہ کیسے رجعتی تحریکیں استحصال زدہ اور مظلوم عوام کی جدوجہدوں اور اتحاد کی مخالف ہیں، اور یوں سامراج اور رجعتی رجیمز کے مفادات کی خدمت کررہی ہیں۔

ان اسلام پسند تحریکوں کی مادی بنیادوں پر استوار ہمارا فہم، ایک طرف عوام سے، اور دوسری طرف رجعتی رجیمز اور سامراج سے ان کا تعلق، یہ سب ہمارے تجزیے میں ان تحریکوں کو مختلف طرح کی سمجھنے کی بنیاد ہے۔ ان کے بارے میں ہم اپنی سٹریٹجک اور ٹیکٹیکل پوزیشن کو وقت کے ساتھ ان تحریکوں میں ہونے والے بدلاؤ کے مطابق ترتیب دیتے رہتے ہیں، اور یہ سامراج کے خلاف مزاحمت کے وقت سے لے کر عوامی تحریکوں سے غداری تک کو دیکھ کر ترتیب پاتا ہے۔

مثال کے طور پر ہم اسلام پسند تحریکوں جیسا کہ شام اور عراق میں آئی ایس آئی ایس کو تہہ تک رجعتی سمجھتے ہیں، جن کی شیعہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نسل پرستی اور جرائم آمریت اور نوآبادیات کے خلاف مظلوموں کے اتحاد کے بنیادی تصور کو ڈبو دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی تحریکیں لازماً آمرانہ رجیمز اور سامراج کی خدمت کرتی ہیں اور ہم اصول پر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔

ہم آئی ایس آئی ایس جیسی بالکل رجعتی اسلام پسند تحریکوں اور حماس اور حزب اللہ جیسی اسلام پسند تحریکوں میں فرق کرتے ہیں۔ آخرالذکر دونوں تحریکیں سامراج کی مزاحمت میں وجود میں آئیں اور فلسطینی اور لبنانی عوام کے جائز حقوق کے دفاع میں صیہونیت اور سامراج کے خلاف کئی تصادمات اور جدوجہدوں میں شریک ہوئیں۔

ہم حماس کو، جو 1980ء دہائی کے اواخر میں پہلی فلسطینی انتفادہ کے بیچ وجود میں آئی اورجو صیہونی دشمن اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کو “فتح” کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں اور ان کے آگے سرِتسلیم خم کرنے کو رد کرکے اورغزہ پر ظالمانہ اسرائیلی حملے کے خلاف عسکری مزاحمت کرکے فلسطینیوں مقبول ہوئی، صیہونیت اور سامراج کے خلاف مزاحمتی تحریک سمجھتے ہیں۔

اس تناظر میں ہم حماس کی غیرمشروط حمایت کرتے ہیں جو کہ اسرائیل کے خلاف عسکری یا غیر عسکری جدوجہد کرتی ہے کیونکہ یہ صیہونی ریاست کو کمزور کرتی ہے اور عرب رجیمز اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کو خوف زدہ کرتی ہے، اور یوں اس سامراجی نظام کے خلاف عرب ریاستوں میں طبقاتی جدوجہد کے امکانات کو روشن کرتی ہے۔

البتہ حماس کے لیے ہماری غیرمشروط حمایت غیر ناقدانہ نہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیےاس تحریک کی جدوجہد کے لیے سٹریٹجیز ۔۔۔ ویسی ہیں جیسی “فتح” نے اختیار کیں اور فلسطینیوں نے اسے خیرآباد کہا۔۔۔ ناکام ہوئیں اور آئندہ بھی ہوں گی۔

حماس کی سٹریٹجی ہے کہ وہ خود کو چند عرب ملکوں سے منسلک کرے (یہاں تک کہ حال ہی میں مصر سے) اسی طرح غیر عرب رجیمز سے۔ جو کہ رجعتی ہیں اور اپنے ہی عوام کو کچلتے ہیں اور فلسطینی جدوجہد کو دبانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ ان رجیمز کو یہ احساس ہے کہ فلسطینی ہیروازم اور استقلال ان کے اپنے عوام کے لیے ، جو فلسطینی نصب العین کے فطری حامی ہیں،عمل انگیز ہوسکتا ہےاور وہ ان کے خلاف انقلاب لاسکتے ہیں۔ حماس کی سٹریٹجی، جو 1960ء کی دہائی سے “فتح” اور فلسطینی بائیں بازو کی سٹریٹجی کا پرتو ہے، فلسطین کو آزادی نہیں دے گی۔ عرب عوام کی جدوجہدوں، جن کا مفاد صیہونیت اور سامراج سے چھٹکارے میں ہے، کے ساتھ یکجہتی کی بجائے حماس ان رجیمز کے ساتھ اتحاد کی سٹریٹجی بڑھا رہی ہے جو سامراج اور صیہونیت سے تعاون پر راضی ہیں۔

دوسری طرف، حماس کے جنگجوؤں، جو بے حد مشکل حالات میں ہر اسرائیلی حملوں کے سامنے بہادری سے کھڑے ہوتے ہیں، کا عین اس وقت میں غیر معمولی ہیروازم جب بہارِ عرب شکست سے دوچار ہے، دنیا میں لاکھوں کروڑوں کے دلوں میں امید کے دیے روشن کرتا ہے۔ لیکن حماس فلسطینی عوام سے معاملات کرتے ہوئے ایلیٹسٹ طرز اپناتی ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس پرقبل ازیں “فتح” اور فلسطینی بائیں بازو نے فلسطینی عوام سے معاملات کرتے ہوئے انحصار کیا تھا،یعنی انہیں بطور آلہ استعمال کرنا جن کا کام مسلح جدوجہد کی حمایت اور انقلابی لیڈرشپ کی اطاعت تک محدود تھا، بجائے اس کے کہ انہیں مزاحمت کی سٹریٹجی کی تیاری اور فیصلہ سازی میں حصہ دار بنایا جاتا۔ یہ طرز بالآخر اس دشمن کے سامنے عوامی مزاحمت کی صلاحیت کو کمزور کردیتا ہے جس کے ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی روزبروز بڑھ رہی ہے۔

اس وجہ سے حماس اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت تنقیدی ہے اور ساتھ غیرمشروط بھی۔

اسی طرح ہم اسرائیل سے کسی بھی تصادم میں حزب اللہ کی حمایت کے ساتھ ساتھ شام میں قاتل بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہونے پرعرب انقلابات مخالف مؤقف پر اس کی مذمت کرتے ہیں۔

فلسطین میں مزاحمت کے لیے ہماری حمایت غیرمشروط ہے اس لیے کہ صیہونیت کے خلاف سامراج کے لیے یہ پریشانی کا منبع ہے، اس لیے کہ تمام نوآبادیاتی عوام کی طرح صرف فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ اس میں اپنی لیڈرشپ چننے کا حق اور مزاحمت کرنے کا حق، جو حالات کے پیشِ نظر جس طریقے سے مناسب سمجھی جائے، شامل ہے۔ تاہم ہماری حمایت تنقیدی ہے کیونکہ عرب دنیا میں انقلابی تبدیلی اور فلسطینی مزاحمت کا ایک دوسرے سے نامیاتی رشتہ ہے۔

فلسطینی عوام کی جدوجہد زندہ باد ۔۔۔ جو ہے چراغِ راہ عرب انقلاب کے لیے!

(مترجم: رضوان عطا)

انگریزی میں تحریر کا لنک: http://global.revsoc.me/2014/07/towards-a-revolutionary-perspective-on-hamas/

One thought on “حماس پر انقلابی تناظر کے بارے میں

  1. عامر حسینی کہتے ہیں:

    مصنف حماس کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے لیکن وہ حماس کی رجعت پسندانہ پالیسیوں ،غزہ کی پٹی میں عورتوں کی آزادی کو غصب کرنے اور زبردستی وہاں پر رجعتی ڈریس کوڈ کا نفاز کرنے اور روشن خیالی پر وزغن لگانے پر کوئی ریمارکس نہیں دیتا ،حماس ترکی ،قطر کی اتحادی ہے اور قطر اور ترکی خطے میں امریکی سامراج کے اتحادی ہیں اور سامراجی سرمایہ داری کے بهی سب سے بڑے سپورٹر ہیں شام کے اندر ترکی اور قطر کا جو رجعت پسندانہ اور مذهبی فرقہ پرست جنونیوں کی حمایت کرنے والا کردار ہے اسے یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اس مضمون میں فلسطینیوں کی مظلومیت کو حماس کی مظلومیت بنادیا گیا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s