ماھینور کی جانب سے ہم سب کو جیل سے بھیجا گیا خط

[مصری سوشلسٹ، وکیل اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی ماھینورکو حال ہی میں انصاف مانگنے کے ’جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔]

مترجم: رضوان عطا

جب سے میری سزا کی توثیق ہوئی ہے تب سے میں زیادہ نہیں جانتی کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، لیکن میں اندازہ کرسکتی ہوں کیوں کہ ہمارے ’واقف کاروں کے حلقے‘میں سے جب کوئی گرفتار ہوتا ہے توانٹرنیٹ کی دنیا ”اسے رہا کرو۔۔“ ، ”جرأت مند ۔۔۔ کو رہا کرو“ جیسے جملوں سے لد جاتی ہے۔ تاہم دمنھر جیل کے سیل نمبر1 میں قید ہونے کے بعد، جو سرکاری مالی امور اور قرض سے متعلق جرائم کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے ،میں جو بات میں بار بار کہہ رہی ہوں وہ ہے ”سماجی طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد!“۔ 

میرے کمرے کے زیادہ تر قیدی قرض ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے قید ہیں کیونکہ کسی نے رقم اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کردی تھی، یا کسی نے اپنے شوہر کے علاج پر، اور ایک ایسی بھی ہے جس نے دو ہزار پاؤنڈ قرض لیا لیکن اسے بعد ازاں معلوم ہوا کہ تیس لاکھ جرمانہ کردیا گیا ہے!

سیل سماج کی ایک چھوٹی تصویر ہے: امیروں کو وہ سب ملتا ہے جو وہ چاہتے ہیں اور غریب کو جیل میں بھی پیسوں کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ وہ ملکی حالات پر بھی بحث کرتے ہیں، ایک طرف وہ ہیں جو السیسی کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر وہ جیت گیا تو قرض کی بنیاد پر قید ہونے والوں کو معافی دے دے گا، ایسے بھی ہیں جو اس کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ”دہشت گردانہ“ مظاہروں کواس نے آہنی ہاتھوں سے روکا۔۔۔ باوجود اس کے کہ انہیں مجھ سے ہم دردی ہے اور ان کا خیال ہے کہ مجھے قید کرنا ناانصافی ہے۔ ایک وہ ہے جو حمدین (مصری سیاست دان ،حالیہ صدارتی انتخابات میں السیسی کا مدِمقابل امیدوار: مترجم) کی حامی ہے کیونکہ ان کا آبائی گاوٴں مشترک ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس نے قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے؛ دوسری اس پر چِلاتی ہیں کہ اس نے صرف سیاسی قیدیوں کہ رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ اور ایک ایسی ہے جس کے خیال میں یہ سب تماشہ ہے اور اگر وہ چھوٹ گئی تو(انتخابات کا) بائیکاٹ کرے گی۔

کمرہ حقیقتاً سماج کا ایک چھوٹا نمونہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے خاندان میں ہوں؛ یہاں سے رہائی کے بعدوہ سب مجھے مستقبل کی فکر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ میں انہیں بتاتی ہوں کہ عوام کی فکر کرنا بہتر ہے، اور ابھی تک ہم انصاف حاصل نہیں کرپائے اور ہم ایک بہتر سماج کی تعمیر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پھر مجھے خبر ملتی ہے کہ(حسنی) مبارک کو صدارتی محلات کے مقدمے میں تین سال کی سزا سنائی گئی ہے اورمیں ہنسی پڑتی ہوں اور انہیں بتاتی ہوں کہ ام محمد، جو آٹھ سال سے قید ہے اور ابھی اس کے چھ سال باقی ہیں اس نے پچاس ہزار سے بھی کم کے چیک میں گڑبڑ کی، رجیم اسے مبارک سے بڑا مجرم گردانتا ہے۔ جس سماج میں جگہ جگہ ناانصافی ہو وہاں وہ میرا کیسا مستقبل چاہتے ہیں۔ ۔۔ مبارک جس نے السیسی کی حمایت کی، کو یہ عورتیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہیں۔۔۔ اور پھر بھی یہ عورتیں سماجی انصاف اور طبقاتی ڈھانچے پر کسی مشکل کے بغیر بات کرتی ہیں۔ ۔۔

ہمیں اس لڑائی کے بیچ، جس میں ہم مسلسل اپنے دوستوں اور کامریڈز کو کھو رہے ہیں، اپنے اصل مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمیں ایسے ذیلی گروہوں میں نہیں بٹنا چاہیے جو انفرادی آزادی مانگیں اور اس عمل میں ان لوگوں کے مسائل بھول جائیں جو محض دو وقت کی روٹی چاہتے ہیں۔

مظاہروں پر بننے والے قانون کے خلاف مانگ کرنے کے ساتھ ساتھ طبقاتی ڈھانچے کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ہمیں خود کو منظم کرنے اور عوام سے تعامل کی ضرورت ہے؛ ہمیں ان سے غریبوں کے حقوق اور ان کے حصول کے لیے ہمارے پیش کردہ حل پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں غربأ کی آزادی کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام یہ نہ سمجھیں کہ ہم اس سے علیحدہ ہیں۔

اور آخر میں ، اگر ہم اکثر کسی کی رہائی کا مطالبہ تو پھر ہمیں سعیدہ، ہبہ اور فاطمہ کے لیے بھی مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہ وہ تین عورتیں ہیں جن سے میں سیکورٹی آفس میں ملی ، جن پر اخوان المسلمین، جس پر قتل جیسے بڑے الزامات ہیں، سے تعلق کا الزام ہے۔ انہیں اتفاقاً پکڑ لیا گیا ہے اورکسی جج کے سامنے پیش کیے بغیر جنوری سے ان کی قید کو مسلسل بحال رکھا جا رہا ہے۔

ام محمد کو رہا کرو جس نے آٹھ سال سے اپنے بچوں کو نہیں دیکھا؛ ام دینا کو رہا کرو جو اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے؛ نعیمہ کو رہا کروجس نے تھوڑی سی رقم کے لیے کسی غیر قانونی انٹرپرائز میں کام کیا تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے مگر سارا قصور اسی کا قرار دے دیا گیا۔ فرح، وفا، کوثر، سناء، دولت، سامیہ، ایمان، امل اور میرفت کو رہا کرو۔ ان کے مقابلے میں ہمارے دکھ اور تکالیف کچھ بھی نہیں؛ ہم جانتے ہیں ایسے لوگ موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً ہمیں یاد کریں گے، اور ہم سے جان پہچان ہونے پر فخر کریں گے۔ لیکن فخرکے ساتھ ان کی بات کرنے والاکون ہو گا؟ خاندانی محفلوں سے باہرتو ان کا ذکر تک نہیں ہوتا۔

پس طبقاتی ڈھانچہ مردہ باد! اوراگر ہم یہ بھول جائیں کہ جبر کا شکار کون ہے تو ہم اس کے خاتمے کااپنا مقصدکبھی حاصل نہیں کرسکتے۔

ماھینور المصری

کمرہ نمبر 8، سیل بلاک 1

دمنھور جیل

22 مئی، 2014ء

۔۔۔

ماھینور کی رہائی کے لیے بنایا گیا فیس بک پیج: https://www.facebook.com/freemahienour

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s