یوکرین: کریمیاکے سامراجی بحران میں پوٹن کا جوا

تحریر: ایلیکس کیلینی کوس

3 مارچ 2014ء

روس کا کریمیا پر فوجی قبضہ یوکرین کو خانہ جنگی کے دھانے پر لے آیا ہے۔ یہ بحران تین مختلف بحرانوں کے اکٹھے ہونے کا اظہارہے۔

اول، 1991ء میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے غالب بدعنوان اور بدمعاش اولیگارشی کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اندرونِ خانہ کشمکش چل رہی تھی۔

دوم، اب جلاوطن ہونے والے رہنما وکٹریانوکووچ کے خلاف ایک حقیقی عوامی تحریک چل رہی تھی۔ اس نے یوکرین کے سارے بالائی سیاسی طبقے کی بدعنوانی پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔

بدقسمتی سے اس تحریک نے یورپی یونین سے جھوٹی امیدیں وابستہ کرلیں۔ علاوہ ازیں یوکرینی بائیں بازو کی تاریخی کمزوریوں کی بدولت انتہائی دائیں بازو نے کیوو میں ’’یورومیڈن‘‘ دھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے باوجود جو لوگ یانوکووچ کے تختہ الٹنے کوایک ’’فسطائی قبضہ‘‘کہتے ہیں، ماسکو کے پراپیگنڈے کی نقالی کررہے ہیں۔ اس کی حکومت کا خاتمہ اس لیے ہوا کیونکہ اولیگارشی کا ایک حلقہ جو پہلے اس کی حمایت کر رہا تھا اب اس سے دست بردار ہوگیا۔

سوم، جو اَب سب سے اہم ہے، یوکرین پر روس اور مغرب کی باہمی سامراجی مخاصمت ہے۔ اس تنازعے میں یوکرین ریاست ہائے متحدہ امریکا یا یورپی یونین سے کہیں زیادہ روس کے لیے اہم ہے۔

ایسا یوکرین جو یورپی یونین اور نیٹو سے پوری طرح جڑا ہو ماسکو کے اس سب سے ڈراؤنے خواب کہ مغرب نے اس کے گرد گھیرا ڈال دیاہے، کی تکمیل کی جانب ایک قدم ہوگا۔ اسی ڈراؤنے خواب کو حقیقت بننے سے روکنے کے لیے 2008ء میں صدر ولادی میرپوٹن نے جارجیا سے جنگ کافیصلہ کیا تھا۔

یانوکووچ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد یوکرین کے مغرب کی طرف جھکاؤ کے جواب میں کریمیا پر قبضہ کیا گیا۔ یہ جزیرہ نما علاقہ ماسکو کے لیے عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اٹھارویں صدی سے بلیک سی میں روسی بحری بیڑے کا اڈہ ہے۔

پوٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین کے روسی زبان بولنے والوںجوکریمیا میں اکثریت میں ہیں اور جنوبی اور مشرقی یوکرین میں پھیلے ہوئے ہیںکے دفاع میں کارروائی کررہا ہے۔ لیکن علاوہ اس کے کہ کیوو میں واقع پارلیمنٹ جس نے روسی زبان کی سرکاری حیثیت کو ختم کردیا ہے، روسی بولنے والوں کو کسی حقیقی خطرے کے شواہد موجود نہیں۔

طاقت:

طاقت کے حصول کے لیے سامراج کی باہمی کشمکش میں پوٹن برسرِپیکار ہے۔ وہ حریف کی کمزوری پر انحصار کررہا ہے۔ شاید اس بارے میں وہ درست ہے۔ یورپی یونین ایک ’’اخلاقی طاقت‘‘ کے طور پر شیخی مارتی ہے اور اپنے مشرقی اور جنوبی مضافاتی علاقوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ لیکن اس نوع کے بحران امریکی فوجی صلاحیتوں پریوریی یونین کے انحصار کی قلعی کھول دیتے ہیں۔

اور امریکی نظریں بحرالکاہل مڑ گئیں ہیں۔ گزشتہ موسمِ خزاں میں جب باراک اوباما بشارالاسد کی شامی حکومت کے خلاف میزائل حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹاتو اس نے زور دیا کی یوروایشیا میں مزید زمینی جنگیں کرنے کی امریکا کی کوئی خواہش نہیں۔

اس کی انتظامیہ عسکری اثاثے مشرقی یورپ منتقل کررہی ہے تاکہ چین کی صورت میں سامنے آنے والے بڑے چیلنج کا سامنا کیاجاسکے۔ وزیرِدفاع چک ہیگل نے حال ہی میں امریکی فوج کو 566,000 سے440-450,000 تک کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلاشبہ واشنگٹن مغربی اتحاد کے نظام میں یوکرین کے جڑنے کے لیے بے تاب ہے۔ لیکن بائیں بازو میں بعضوں کی طرف سے اس خیال کا پیش کیا جانا کہ یوکرین کے بحران کے پیچھے امریکا کے نیوکنزرویٹوز کی روس سے جنگ کی خواہش کارفرما ہے خالصتاً احمقانہ ہے۔

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری نے پوٹن کو اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔ لیکن آخرالذکر کو یاد ہوگا کہ ایسی دھمکیاں 2008ء میں جارجیا پر بھی دی گئی تھیں مگر ان پر عمل کبھی نہیں کیا گیا۔ تب اور اب رو س کے لیے ترپ کا پتا روسی قدرتی گیس ہے جس پر یورپی یونین کا40 فیصدانحصار ہے۔

پوٹن کو سب سے بڑا خطرہ اپنے آپ سے ہے۔ کریمیا پر مؤثر کنٹرول کرنے کی کوشش میں وہ یوکرین کی تقسیم کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ملک کے مشرقی حصے پرقبضہ اسے روسی عراق بنا سکتا ہے۔ مغربی یوکرین میں طویل قوم پرستانہ روایات موجود ہیں جن کی آبیاری دونوں عظیم جنگوں کے دوران میں حصولِ آزادی کے لیے ہونے خونیں جدوجہدوں کی یادیں کرتی ہیں۔ یہ پھر سے سرگرم ہوسکتی ہیں۔

یوکرین میں سوشلسٹوں کو یقیناًیوکرین میں امریکا یا نیٹو کی کسی بھی عسکری مداخلت کی مخالفت کرنی چاہیے۔ لیکن یہ بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سامراج کو صرف امریکی غلبے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بڑی سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان معاشی اور جغرافیائی سیاسی مقابلہ ہے۔

ان میں سے کسی ایک کا دُم چھلا بننے کی بجائے ہمیں پورے نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ اس کا مطلب ہے یوکرین میں روسی مداخلت کی مخالفت کی جائے۔ یہ نعرہ ’’نہ واشنگٹن نہ ماسکو بلکہ بین الاقوامی سوشلزم‘‘ پہلے کبھی اتنا درست نہیں تھا جتنا آج ہے۔

مترجم: رضوان عطا

لنک: https://socialistworker.co.uk/art/37577/Putin+raises+the+stakes+in+imperialist+Crimea+crisis

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s