نیم برہنہ جدوجہد

نیم برہنہ جدوجہد

رضوان عطا

حقوقِ نسواں کی دعوے دار تنظیمفیمنکی شہرت اس کےاحتجاج کےطریقہ کارکی بدولت ہے۔ چند برس قبل جب یوکرین سے ابتدا کرنے والی اس تنظیم کی چندکارکن عورتوں نےبرہنہ بالائی نصف کےساتھ ذرائع ابلاغ کاسامنا کیا تو انہیں بہت توجہ دی گئی،جس کا ملنا تھا کہ ان کے لیے یہ طریق احسن ٹھہرا۔ ایک یوکرینی فیمن کارکن کےمطابقہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں شنوائی کا یہی واحد طریقہ ہے۔

یوکرین میں جسم فروشی کا مسئلہ سنگین ہے۔ جب کسی سنگین مسئلے کو نمٹانے کا بندوبست نہ ہو رہا ہو تو انتہائی قدم بھی اٹھ جاتےہیں اور انوکھے راہیں بھی سدھائی دینے لگتی ہیں۔ لیکن راہ وہی درست ہوتی ہے جو منزل کی طرف جارہی ہو۔ 

ذرائع ابلاغ کو ذریعہ بنا کر عوام الناس کی  توجہ کا حصول فیمن اور ان کے حامیوں کو مقصد کی طرف بڑھتا ہوا قدم چاہے محسوس ہوتا ہو، ان پر ہونے والےاعتراض کرنے والے ہرگز ایسا نہیں سمجھتے۔ نہ ان کی تعداد کم ہے اور نہ ہی ان کی دلیل بے وزن۔ اعتراضات ان کے طریقہ کار اور فکر دونوں پر ہیں۔

ابتدائی سوال تو یہ بنتا ہے کہ عورت کی نیم برہنہ حالت کیمرے کی توجہ آخر کیوں جلد حاصل کرتی ہے اور ذرائع ابلاغ ایسے ہیجان خیز واقعات کے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں؟ کیا ایسا ہونا عورتوں کی کم تر سماجی حیثیت اور اس کے بدن کے بطور جنس استعمال سے جڑا نہیں؟

ابتدا میں فیمن کے احتجاج مغربی دنیا میں ہوئے لیکن پھر اس نے مسلمانوں کا رخ کیا۔ فیمن سے متاثر تیونس کی امینہ کی نیم برہنہ تصویر جب سماجی میڈیا پر نمودار ہوئی تو ملک میں سے عموماً اسے ناپسند کیا گیا۔ اسلام پسندوں کا ردعمل شدید تھا۔ خاندان اور رشتہ داروں کے دباؤ نے اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

چار اپریل فیمن نے امینہ کی حمایت میں یورپ اور  بعض دیگر ملکوں میں متنازعہ عنوان “ٹاپ لس جہاد ڈے” کے تحت منایا۔ اس موقع پر مساجد کے باہر بھی احتجاج ہوا اور مسلمانوں کی عبادات کی نقل بھی اتری گئی۔ اس عمل سے مغرب کی فضاؤں  نسل پرستی کی بو میں اضافہ ہی ہوا ہو گا، کمی نہیں۔ 

امینہ کی گرفتاری کے بعد فیمن نے اظہارِیکجہتی کرتے ہوئے اپنے تین یورپی کارکن پہلی بار عرب دنیا روانہ کیے، جہاں وہ نیم برہنہ ہونے سے باز نہ آئے۔ وہ گرفتار کرلیے گئے اور  انہیں  سزا ملی، جو نہیں ملنی چاہیے تھی۔ تاہم امینہ اور فیمن کی خوب تشہیر ہوئی۔ امینہ نامور ہونے پر بلاشبہ خوش ہیں!

فیمن کے رہنما ابھی تک مربوط انداز میں یہ نہیں واضح کر پائے کہ وہ اس نظام کو کیسے بدلیں گے جو عورت کے استحصال کا باعث ہے۔ وہ پدرسری کا علاج بتانے سے قاصر ہیں۔ وہ مسلمان عورتوں کی آزادی مذہب اور لباس سے آزادی میں خیال کررہی ہیں۔ اس نوع کی جدوجہد کو “فاسٹ فوڈ فیمن ازم” کا نام بھی دیا گیا ہے۔

مسلمانوں اور اسلام کو ہدف بنانے پر مسلمان عورتوں اور دیگر کی تنقید بھی سامنے آنے لگی ہے۔ ایک مثال فیس بک پیچ مسلم ویمن اگینسٹ فیمن ہے جس کے تعارفی کلمات میں فیمن کو اسلاموفوبک اور سامراج نواز کہا گیا ہے ۔

فیمن کی رہنما انا شیوچنکو کا “ٹاپ لس جہاد”مظاہروں پربالخصوص مسلمان عورتوں کی جانب آنے والے رد عمل پر جو جواب شائع ہوا اس میں ان الزامات کی تردید کی گئی لیکن ان کی طرف سے  آج کی مسلمان عورت کے لیے “حرم” کا نامعقول حوالہ اور یہ کہنا کہ لاکھوں کروڑوں عورتوں کو اس لیے قتل کیا گیا کہ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل نہیں کیا، یہ پتا دیتا ہے کہ وہ حقیقت سے کتنی دور ہیں۔ ان کی یہ باتیں “حرم” پر بنائی گئی اٹھارویں صدی کی یورپی پینٹنگز کی طرح حقیقت سے دور ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  مسلمان عورتوں کے بارے میں مغرب میں جو مسخ شدہ تصور موجود ہے، وہ اس کے بہت قریب ہیں۔ اس تصور کے ابھار میں اسلاموفوبیا کا حصہ خاصا ہے۔

مشرق” میں عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہ آج بھی جاری ہے، لیکن فیمن اس سے جڑنے اور اسے آگے بڑھانے کی بجائے اس جدوجہد کو  معاشرے سے بیگانہ کرنے راہ بتا رہی ہے۔

فیمن عورتوں کو آزادی دلانا چاہتی ہے لیکن اس کا طرز عمل تیسری دنیا کے مسلم ممالک میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والوں کے لیے مشکلات لائے گا۔ یہ کام لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، یہ انہیں دور کرکے نہیں کیاجاسکتا۔ ایسا عمل جو کہنے کو تو اچھے مقصد کے لیے ہو لیکن اس سے اس مقصد کے خلاف نفرت پیدا ہو تو وہ وسیع جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ محض “تشہیر” سے کیا حاصل؟ ۔ مسلم دنیا میں حقوق نسواں کے کارکن پہلے ہی مغربی ایجنٹ ہونے کا طعنہ سنتے ہیں۔

روایتی لباس اور پردے کا پیچھا نیا نہیں۔ اس کی مخالفت محض عورت کے حق کی لیے نہیں بلکہ غلبے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی میں الجزائر پر قابض فرانس اسی طرح عورت کو آزادی دلانا چاہتا تھا جس طرح آج امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں چاہتےہیں۔ الجزائر کی تحریک آزادی کے پرُجوش حامی اور دانشور فرانز فینن نے اپنی تصانیف میں قابضین کے اس کردار کی نشاندہی کی ہے۔ اس نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیوں قابض فرانسیسی الجزائری عورتوں کے نقاب اتارنے میں دلچسپی رکھتے تھے اور کیسے یہ ان کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا۔ ہر مقام پر نقاب کا کردار ایسا نہیں، سیاق و سباق کو نظر میں رکھنا اہم  ہے، فیمن کے معاملے بھی یہ سچ ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s