ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

ہیوگو شاویز دنیا سے رخصت

رضوان عطا

وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے ہار گئے مگر اپنی 58 سالہ زندگی میں انہوں نے بہت کچھ جیتا۔ ملک کے دارالحکومت میں ان کے تابوت کے ساتھ عوام کا جم غفیر صاف پتا دیتا ہے کہ وہ ان کم یاب حکمرانوں میں سے تھے جنہیں عام لوگوں کی اکثریت دورانِ اقتدار پسند کرتی ہے۔ ان سے محبت کرنے والے وینزویلا تک محدود نہیں۔ لاطینی امریکہ یہاں تک کہ ساری دنیا میں ان کی پالیسیوں کے حامی موجود ہیں۔ شاویز کو ایک بین الاقوامی رہنما کا درجہ بھی حاصل تھا۔ اس کی وجہ ان کا سامراج بالخصوص امریکہ مخالف موقف، علاقائی تعاون پر زور، نیو لبرل معاشی پالیسیوں کی مخالفت اور غریب دوست اقدامات کی وکالت ہیں۔ انہوں نے یہ سب ایک منتخب جمہوری حاکم کی حیثیت سے کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جدوجہد کوئی دو چار برس کی بات نہیں۔

پہلی مرتبہ کرنل ہیوگو شاویز فروری 1992ءمیں ملک کے قومی ٹیلی ویژن پر ایک مختصر پیغام کے طفیل منظرعام پر آئے۔ یہ ناکام فوجی کودیتا کا اعتراف تھا جو جمہوری مگر حد درجہ بدعنوان کارلوس آندرے پیریز کی حکومت کے خلاف کرنے کی کوشش ہوئی، جس نے بقول شاویز ”آئی ایم ایف کی آمریت“ قائم کر رکھی تھی۔ اس پیغام میں شاویر نے بہرحال یہ ضرور کہا کہ منصوبوں کو ”فی الحال“ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً ملنے والی قید سے رہائی کے بعد شاویز نے انتخابی سیاست کے ذریعے تبدیلی لانے کی راہ کا چنا کیا۔

1998ءکا انتخابی معرکہ ”نئی جمہوریہ کی بنیاد رکھنے“، بڑی جماعتوں کے غلبے کو ختم کرنے اور غریبوں اور محنت کشوں کے لیے بڑے پیمانے پر سماجی و معاشی اصلاحات نافذ کرنے کے وعدوں کے ساتھ لڑا اور پھر جیتا گیا۔ 56 فیصد سے زائد ووٹ لے کر شاویز فاتح رہے۔ 1999ءمیں صدارت کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد شاویز نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اپنے حامی گروہوں اور جماعتوں کو اہم حکومتی عہدوں تک پہنچایا لیکن ساتھ ہی دائیں بازو کے اور درمیانہ رو رجحانات کو بھی جگہ دی۔ عوام دوست اصلاحات کا آغاز کیا اور پھر نئے آئین کو ریفرنڈم کے ذریعے منظور کرایا۔ بائیں بازو کی جانب جھکاو¿ کے باوجود اس عرصے میں شاویز نے کوشش کی کہ بالائی طبقوں کو زیادہ ناراض نہ کیا جائے۔ بہرکیف نیو لبرل معاشی پالیسیوں کے دور میں یہ ا±لٹی گنگا بہانے کی کوشش تھی۔ وینزویلا میں آنے والی تبدیلیاں دنیا کی نظروں سے اس وقت تک اوجھل رہیں جب تک شاویز حکومت کو زبردستی گھر بھیجنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اپریل 2002ءمیں وینزویلا کے دائیں بازو کے فوجی افسران نے بعض امرا کی مدد سے فوجی کودیتا کی کوشش کی، جسے امریکی حکومت کی حمایت بھی حاصل تھی۔ شاویز کے صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے کھلے تضاد کا اس موقع پر بھرپور اظہار ہوا۔ دارالحکومت کراکس کی سڑکوں پر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے امڈ آئے اور انہوں نے اس مقام کا گھیراو¿ کر لیا جہاں صدر کو قید کیا گیا تھا۔ نجی ذرائع ابلاغ عوامی ردِعمل کی خبریں چھپاتے رہے، مگر بے سود۔ شاویز کو گرفتار کرنے والوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ کودیتا ناکام ہوا۔ بمشکل 48 گھنٹے گزرے ہوں گے کہ شاویز پھر عوام کے درمیان تھے۔

اسی سال شاویز حکومت کو سرنگوں کرنے کے لیے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی حیثیت رکھنے والی تیل کی صنعت میں منیجرز اور پروفیشنلز کی جانب سے ہڑتال کی گئی۔ حکومت کے لیے یہ بہت کڑا وقت تھا۔ عوامی حمایت نے اسے بھی ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد اس عمل، جسے ”بولیویرین انقلاب“ کا نام دیا جاتا ہے، نے زیادہ ریڈیکل شکل اختیار کر لی۔ تیل کی صنعت کو براہِ راست ریاستی اختیار میں دیتے ہوئے اس کے منافع کا رخ سماجی و معاشی اصلاحات کی طرف مزید موڑ دیا گیا۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بہت سے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔

حقائق تبدیلی کا پتا دیتے ہیں۔ 1995ءمیں 55 فیصد کنبے غربت کا شکار تھے جبکہ 2009ءمیں یہ 26.4 فیصد رہ گئے۔ انتہائی غربت، جو 1999ءمیں 57.6 فیصد تھی 2011ءمیں کم ہو کر 7 فیصد کے قریب رہ گئی۔ شاویز نے جب صدارت کا عہدہ سنبھالا تو بے روزگاری کی شرح 15 فیصد تھی۔ 2009ءکے وسط تک یہ 7.8 فیصد رہ گئی۔ صحت پر 2000ءمیں کل داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کا 1.6 فیصد خرچ کیا جاتا تھا جو 2006ءمیں بڑھ کر 7.7 فیصد ہو گیا۔ مناسب خوراک کی فراہمی اور حصول کے لیے خصوصی کوششیں کی گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2003ءکے مقابلے 2012ءمیں خوراک کے صرف میں 94.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک سے ناخواندگی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔

اپنے اقتدار کے 14 برسوں میں شاویز نے مختلف نوع کے 14 انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 13 میں کامیابی حاصل کی۔ اب رہا سوال منصفانہ اور شفاف انتخابات کا تو دنیا بھر میں 92 انتخابات مانیٹر کرنے والے نوبل انعام یافتہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے بقول یہ انتخابات ”دنیا میں بہترین“ تھے۔

ملک کی حزبِ اختلاف دولت کی مالک ہونے اور ذرائع ابلاغ میں اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود شاویز کا سحر توڑنے میں ناکام رہی۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نہ صرف شاویز پر کڑی تنقید کرتے رہے بلکہ انہوں نے مبالغہ سے بھی کام لیا۔ ایک معروف امریکی سوشل ڈیموکریٹ معیشت دان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”وینزویلا وہ ملک ہے جس کے بارے میں سب سے زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔“ جب فوجی کودیتا کی ایک کوشش میں شاویز کو گرفتار کر لیا گیا تو نیویارک ٹائمز نے ایک مقام پر اسے ”استعفیٰ“ لکھا۔ اس کے مطابق اب وینزویلا کی جمہوریت کو ممکنہ آمر سے خطرہ نہیں رہا۔ 2009ءکے اواخر میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس کا تقابل اٹلی کے اور جرمنی کے فاشسٹ حکمران مسولینی، ہٹلر اور سوویت آمر سٹالن سے کیا گیا۔ رواں سال شائع ہونے والے واشنگٹن پوسٹ کے ایک اداریے میں دعویٰ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ شاویز نے اپنے اس ملک کو برباد کر دیا جو کبھی خوشحال ہوا کرتا تھا۔

شاویز کی موت پر بھی ان کے ہاں جلی سڑی باتیں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ”دی اکانومسٹ“ نے شاویز کی موت پرلکھی گئی تحریر سرخی جمائی ہے ”ہیوگو شاویز کی بوسیدہ میراث“۔ نیویارک پوسٹ نے صفحہ اوّل پر لکھا ”وینزویلا کا ضدی مر گیا۔“ ایسوسی ایٹڈ پریس کی بزنس رپورٹر پامیلا سمپسن نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاویز نے سماجی پروگراموں پر تیل سے ہونے والی آمدنی خرچ کر کے اسے ضائع کیا۔ اس کے خیال میں مشرق وسطیٰ کے ممالک نے بلند و بالا عمارتیں بنا کر اس کا بہتر استعمال کیا۔

شاویز نے ملک کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے ایک طرف علاقائی تعاون کو عملی شکل دی تو دوسری طرف روس، چین، لیبیا، شام اور ایران جیسے ممالک سے قربت اختیار کی۔ یہ ان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پڑنے والے دباؤ کا ایک جواب تھا۔ تاہم اس عمل میں وہ اپنے حامی ممالک کے اندر حقوق کے لیے اٹھنے والی کسی تحریک کا ساتھ دینے سے گریزاں رہے اور انہوں نے ان حکومتوں کی غلط پالیسیوں پر بھی تنقید نہ کی۔

نیو لبرل ازم کے خلاف طاقت ور آوازہیوگو شاویزکا ظہور بہت حد تک ان حالات کا مرہون منت ہے جن کا بالخصوص لاطینی امریکہ شکار تھا۔ 1930ء کی دہائی میں قومیانے کی اور مقامی صنعت کے تحفظ کی پالیسی کی بدولت لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں معاشی نمو اچھی رہی لیکن 1960ء میں یہ معیشتیں عالمی معیشتوں سے زیادہ جڑنا شروع ہوئیں۔ بیرونی سرمایہ کاری لانے اور برآمدات کے لیے مال تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔ یہی وہ وقت تھاجب لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں فوجی جنتا اقتدار پر قابض ہوئی۔ آہستہ آہستہ یہ معیشتیں عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں تلے آتی گئیں اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کی ہدایات پر عمل درآمد ان کی مجبوری بنتا گیا۔ کٹوتیوں اور نج کاری کی پالیسیوں نے غربت میں اضافہ کر دیا۔ 1980ء سے 1999ءکے دوران لاطینی امریکہ کی 15 فیصد آبادی ان غربا کی صفوں میں جا شامل ہوئی جو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر تھی۔ یہی وہ برس ہیں جب آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف خطے میں احتجاج اور ”فسادات“ بھی ہوتے رہے۔

1994ءمیں میکسیکو میں خطے میں آزادانہ تجارت کے معاہدے ”نارتھ امریکہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ“ (نافٹا) کے خلاف مقامی آبادی کی تحریک ”زیپاتستا“ وجود میں آئی جس نے مسلح مزاحمت کی۔ ایکواڈور کا ایک صدر حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کے خلاف عوامی ردِعمل کے نتیجے میں 2000ءمیں گھر چلا گیا، دوسرا بھی نیو لبرل پالیسیوں کی وجہ سے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بولیویا میں پانی کی نج کاری کے خلاف تحریک شاویز کے اتحادی ایوا مورالیس کو اقتدار میں لے آئی۔ 1999ءمیں امریکی شہر سیاٹل میں نیو لبرل پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں نے عالمی سطح پر نئی عالمگیریت مخالف تحریک کی بنیاد رکھی۔ خود شاویز کو ”کراکازو” نے بے حد متاثر کیا تھا۔ فروی 1989ءمیں جب عالمی مالیاتی اداروں کے ایما پر اس وقت کی وینزویلا کی حکومت نے راتوں رات تیل کی قیمتیں دگنا کر دیں تو کراکس سمیت کئی شہروں میں احتجاج پھوٹ پڑا۔ حکومت نے جبر کے ذریعے اسے خاموش کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ بہت سے عام شہریوں کی موت کی صورت میں نکلا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعدار تین سو سے کم ہے لیکن بعد ازاں ملنے والی اجتماعی قبروں نے انہیں مشکوک کر دیا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق یہ تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔ احتجاج اور فسادات کی اس لہر کو کراکازو کا نام دیا جاتا ہے جس کے ردِعمل میں فوجی کودیتا کی وہ کوشش ہوئی جس کا شاویز حصہ تھے۔

آج وینزویلا کے بارے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا ”بولیویرین انقلاب“ جاری رہے گا؟ شاویز جیسی کوئی شخصیت موجود نہیں۔ وہ اپنے پیچھے جو سیاسی جماعت چھوڑ گئے وہ مقبول ضرور ہے مگر اس کی مضبوط تنظیمی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ ملک کی معیشت کا زیادہ انحصار تیل کی آمدنی پر ہے اور اس کی قیمتوں میں اتار اسے متاثر کر سکتا ہے۔ مستقبل کا فیصلہ وینزویلا کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔

خود کو سوشلسٹ کہنے والے شاویز جو وینزویلا چھوڑ کر گئے ہیں وہ غیر طبقاتی سماج نہیں مگر پہلے سے کہیں زیادہ مساوی اور بہتر سماج ہے۔ ایسا کرنے میں ان کے کلیدی کردار کی وجہ سے انہیں بہت دیر تک یاد رکھا جائے گا۔

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری 15 مارچ 2013ء

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s