پنجاب میں….جوڑ توڑ کی سیاست

پنجاب میں….

جوڑ توڑ کی سیاست

رضوان عطا

حالیہ دنوں مسلم لیگ (ن) کو ایک بڑی ”کامیابی“ نصیب ہوئی ہے۔ 11 حکومتی ارکانِ پارلیمان پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کا ساتھ چھوڑ کر اس کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں۔ وفاداری بدلنے والوں میں پیپلزپارٹی کے 9 ارکان پنجاب اسمبلی ہیں جبکہ دو ارکان قومی اسمبلی کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے۔ پیپلزپارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا پنجاب کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت ہو گی۔ ان کی اہلیہ عظمیٰ بخاری اس عمل میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ نصف کے قریب ارکان کا تعلق صوبے کے جنوبی حصے سے ہے۔

کچھ ہی عرصہ قبل پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اسی طرح کی ”کامیابیاں“ حاصل کی تھیں۔ اس نے ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ (ن) سے گہری وابستگی رکھنے والے کھوسہ سردار خاندان میں دراڑ ڈالی۔ سردار ذوالفقار کھوسہ کے فرزند پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ جب سیف الدین کھوسہ نے شاید زندگی میں پہلی مرتبہ جیے بھٹو کا نعرہ لگایا تو ان کے ادھیڑ عمر والد نے پہلی مرتبہ ایک پریس کانفرنس میں اپنے بیٹے کے پارٹی بدلنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ اس ”کامیابی“ سے قبل جہلم سے راجا افضل اور ان کے دو بیٹے پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ اس وقت پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کے مطابق بہت سے دیگر افراد بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ تیاریاں دوسرا کیمپ بھی بھرپور کر رہا ہے۔ جب لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات میں نئی وفاداریوں کا اعلان ہوا تو قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ پیپلزپارٹی کے ارکانِ اسمبلی کی ایک بڑی تعداد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے جن دعوﺅں میں مماثلث ہے ان میں سے ایک یہی ہے کہ دوسری جماعت کے لوگ ان کے پاس آنے والے ہیں۔

پنجاب میں کسی جماعت کی میدانِ سیاست میں کامیابی کے امکانات جتنے روشن ہوتے ہیں دوسری جماعتوں سے اس کی جانب سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں عموماً اتنا ہی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی طرف رغبت بے سبب نہیں۔ یہ جماعت تحریکِ انصاف کے ابھار سے کچھ ہی عرصہ قبل خاصی پریشان تھی۔ آج چوہدری نثار تحریک انصاف سے نگران وزیراعظم پر مشاورت کو تیار نظر آتے ہیں مگر پہلے ان کے رویے سے کسی معاملے پر کسی بھی قسم کی مشاورت کرنے کا شائبہ نہیں گزرتا تھا۔ اب مسلم لیگ (ن) بہتر پوزیشن میں ہے۔ صوبے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ پتا تو چل گیا کہ اس کی مقبولیت کا گراف کم از کم نیچے نہیں جا رہا۔ ضمنی انتخابات کے بعد کے کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں میں میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پنجاب میں تحریکِ انصاف کی مقبولیت کے سفر میں سست روی میاں برادران اور ان کے ساتھیوںکے قافلہ کو آگے بڑھانے کا باعث بنی۔

مقابل نے نئی سیاسی قیادت کو جگہ دینے کے بجائے پرانے کھلاڑیوں کو ساتھ ملانے کا کھیل شروع کیا۔ جو جیتتے ہیں انہیں ساتھ ملا لیا جائے، اس کی پرواہ کیے بغیر کہ قیمت کیا ادا کرنا پڑے گی۔ منظور وٹو کو پیپلز پارٹی میں ملنے والا مقام اسی پالیسی کا نتیجہ ہے، اور اس کا حتمی نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو، جنہیں سیاسی جوڑ توڑ میں مہارت کے پیش نظر صدارتِ سے نواز گیا تھا، کھیل کے دوسرے ہالف میں کئی گولز کے خسارے میں ہیں۔ ان 11 ارکانِ پارلیمان میں ایک ایم پی اے کا تعلق تو منظور وٹو کے علاقے ہی سے ہے۔

9ساتھیوں کی دوسرے کیمپ روانگی پر قمر زمان کائرہ، جنہیں مشتعل حالت میں دیکھنا بمشکل نصیب ہوتا ہے، صدمہ کی حالت میں دکھائی دیے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اچھی روایت قائم نہیں کر رہی۔ انہوں نے میثاق جمہوریت (چارٹر آف ڈیموکریسی) کا حوالہ بھی دیا جس میں انتخابات سے قبل ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہ ہونے کی بات کی گئی تھی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ مسلم لیگ (ن) بات بات پر میثاق جمہوریت کا حوالہ دیا کرتی تھی۔ قمر زمان کائرہ کے مطابق شہباز شریف کی حکومت صرف لوٹوں کے سہارے کھڑی ہے۔ راجا ریاض کے بیانات میں غصہ جھلکتا ہے یا شاید وہ اپنے ہی بعض ساتھیوں کو خبردار کر رہے ہیں۔ وہ ان ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن میں جا کر ان پر تاحیات انتخابات میں حصہ نہ لینے کی پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ اب پیپلز پارٹی کے یہ رہنما ہی کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق یہ ارکان ممبر بننے کے اہل نہیں رہے۔ راجا ریاض کے مطابق شریف برادران نے بے ضمیری کی خرید کی منڈی لگا رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2008ءکے انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت ان سے یہ حلف لیا گیا تھا کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے، اس عمل کی وڈیو کی موجودگی کا بھی دعویٰ ہے۔ ان کے مطابق ارکان حلقے کی سیاست کی وجہ سے پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو وڈیو ریکارڈنگ اور حلف جماعت کی تنظیمی اور نظریاتی کمزوری کی علامت ہے۔ کیا اپنے ارکان اور ممبران کو پارٹی چھوڑنے سے روکنے کے یہی طریقے ہیں؟ سیاسی وفاداریوں کی بنیاد نظریات، پروگرام اور پالیسیاں ہونی چاہئیں۔ البتہ اقتدار کی سیاست ذرا ہٹ کر ہوتی ہے۔ اصول اور وعدے ایک طرف رکھ دیے جاتے ہیں۔

2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اپنی توقع سے زیادہ بڑی کامیابی ملی۔ پرویز مشرف کے سارے دورِ اقتدار میں زیرِ عتاب رہنے والی جماعت، جس کا بڑا حصہ شروع ہی میں دغا دے گیا تھا اور جس کی سیاسی سرگرمیوں پر ایک کے بعد دوسری قدغن نے اسے ادھ موا کر چھوڑا تھا، کسی بڑی انتخابی کامیابی کی امید نہیں کرتی تھی۔ وہ تو انتخابات کے بائیکاٹ کی وکالت کرتی رہی۔ یہ مسلم لیگ (ن) کی ”اصولی“ سیاست کے سنہری دور کی بات ہے جب میثاق جمہوریت پر دستخط ہوچکے تھے۔

انتخابات کی کامیابی کے بعد میاں نواز شریف کے لب و لہجہ میں اس وقت کی پریس کانفرنسوں میں پایا جانے والا اعتماد دیدنی تھا۔ اس وقت بھی میثاقِ جمہوریت کے تذکرے بار بار ہوا کرتے تھے۔ مگر جلد فارورڈ بلاک کی سیاست نے جنم لیا۔ مسلم لیگ (ن) میں دیگر مسلم لیگیوں کی شمولیت کا جو criteria رکھا گیا تھا وہ آہستہ آہستہ نرم ہوتا گیا۔ ”مشرف کی باقیات“ کے لیے جگہ بنتی گئی۔

اپریل 2009ءمیں چوہدری پرویز الٰہی نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہے۔ پھر ایک وہ وقت بھی آیا جب پنجاب اسمبلی کا 23واں اجلاس شروع ہوا تو یونیفیکشن بلاک کا استقبال لوٹوں سے کیا گیا۔

سیاسی جوڑ توڑ اسمبلی سے باہر بھی ہوا۔ بعض اہم سیاسی شخصیات مثلاً شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی نے ایک ایسی جماعت میں شمولیت اختیار کی جس کا فی الوقت اقتدار کیا سیاست سے بھی مضبوط تعلق نہیں اور وہ پارلیمان کا حصہ بھی نہیں۔ دیگر جماعتوں کے مقابلے میں یہ نووارد ہے۔

گزشتہ انتخابات کے بعد پنجاب کی سیاست میں پارلیمنٹ سے باہر جس سیاسی جماعت نے تیزی سے اپنی جگہ بنائی وہ تحریکِ انصاف ہے۔ 2011ءکے آخر میں مینار پاکستان پر ہونے والے بڑے جلسے سے اس جماعت کو نئی روح ملی۔ اس کی مقبولیت اور اہمیت میں اضافے کے ساتھ دیگر جماعتوں کے دوسرے اور تیسرے درجے کے رہنماو¿ں کی اس میں شمولیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس نئی ابھرتی سیاسی قوت، تحریک انصاف، نے مسلم لیگ (ن) کے طرز سیاست کو بالخصوص ہدف تنقید بنایا۔ جب تک پرانے سیاسی کھلاڑی تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوئے تھے اس کے مؤقف میں بہت جان تھی، بہت کشش تھی۔ لیکن اب بات پہلے جیسی نہیں رہی۔

اسی لیے تحریک انصاف سے واپسی کا سفر کرنے والوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس جماعت میں شمولیت یا تو اس کے مو¿قف کی وجہ سے ہوئی یا اس کی مقبولیت کو دیکھ کر۔ روایتی سیاسی جماعتوں کے طرزِ حکومت، بدعنوانی اور ڈرون حملوں پر تنقید نوجوانوں کے لیے خاصی کشمکش رکھتی ہے۔ انتخابات میں ابھی وقت ہے، تحریک کی مقبولیت چھلانگ بھی لگا سکتی ہے۔

پیپلزپارٹی نے انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو پارٹی میں لانے، مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کرنے اور جنوبی پنجاب (سرائیکی علاقے) میں علیحدہ صوبے کے قیام کے گرد پنجاب میں انتخابات جیتنے کی ٹھانی ہے۔ صوبہ ابھی بنا نہیں لیکن اس کے قیام کی امیدیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اگر پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو فائدہ نقصان میں بدل سکتا ہے۔ مسلم لیگ(ق) کی حالت پہلے جیسی نہیں رہی، یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور کمزور ہو رہی ہے۔ بظاہر مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے۔

میاں نواز شریف نے بلوچستان اور سندھ انتخابات میں جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے افراد اور گروہوں کو ساتھ ملانے کی پوری کوشش کی ہے۔ بالخصوص سندھ میں وہ پیپلزپارٹی مخالف کمزور یا مضبوط گروہوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ وہ کسی حد تک مسلم لیگ (ن) کا اثر پنجاب سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جوڑ توڑ کی سیاست کو آگے بڑھنے کی درست راہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا اتنی بڑی تعداد میں وفاداریوں میں رد و بدل سیاست کے انحطاط کی علامت نہیں؟ اورایک جماعت سے دوسری جماعت میں جاتے ہوئے نظریات، پروگرام اور پالیسیاں خال خال زیر بحث کیوں آتے ہیں؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s