“۔۔۔تو پھر انہیں کیوں مارا گیا”

ڈاکٹر علی حیدر اور مرتضیٰ حیدر کا قتل

۔۔۔تو پھر انہیں کیوں مارا گیا”

رضوان عطا

19 فروری کو لاہور میں ایک پچاسی سالہ باپ اور اسّی سالہ ماں نے اپنے بیٹے پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر اور پوتے مرتضیٰ حیدر کو قبروں میں اترتے دیکھا۔ ایک روز قبل پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر پر ایف سی کالج، لاہور کے قریب اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم اپنے بیٹے کے ساتھ ایچی سن کالج جا رہے تھے۔ بیٹے مرتضیٰ حیدر کو سر میں گولی لگی اور اس نے ہسپتال پہنچے سے پہلے ہی دم توڑ دیا جبکہ علی حیدر کو لگنے والی پانچ سے چھ گولیاں فوری موت کا باعث بنیں۔

علی حیدر کے والد ظفر حیدر معروف سابق سرجن اور سابق پروفیسر ہیں۔ والدہ طاہرہ بخاری بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے بحیثیت استاد ریٹائر ہوئیں۔ علی حیدر لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ امراض چشم میں بحیثیت پروفیسر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وہ شوکت خانم میموریل کینسر ہاسپٹل اینڈ کینسر ریسرچ سینٹر میں کنسلٹنٹ بھی تھے۔

لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ امراضِ چشم میں نرسنگ سٹاف کی ممبر روبینہ اس وقت بھی یہیں تعینات تھیں جب ڈاکٹر علی حیدر نے تقریباً تیرہ برس قبل یہاں کام کرنا شروع کیا۔ علی حیدر کے بارے میں وہ بتاتی ہیں ”شعبہ میں جب بھی ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو ہم ’سر‘ سے کہتے اور وہ جتنا جلد ممکن ہوتا اسے پورا کرا دیتے۔ یہ دیکھیے اس کمرے میں ہمارے کہنے پر انہوں نے یہ بیسن لگوا کر دیا۔“

لاہور جنرل ہسپتال کے میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف میں یہ رائے عام ہے کہ شعبہ امراض چشم کی بہتری کے لیے ڈاکٹر علی حیدر نے بہت سا عملی کام کیا۔ بیشتر یہ سمجھتے ہیں کہ اسے دوبارہ پاو¿ں پر ڈاکٹر علی حیدر نے ہی کھڑا کیا۔ ڈاکٹر عثمان امتیاز، جو سوا سال سے یہاں ان کے ساتھ ان کی موت تک بطور ٹرینی وابستہ رہے، کے خیال میں یہ شعبہ بیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔ ڈاکٹر عثمان امتیاز کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہوتے ہوئے ہمیں محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ہم پروفیسر کی سطح کے کسی شخص کے ساتھ ہیں۔ وہ بہت باہنر تھے اور مجھے فکر ہے کہ جن بچوں کی آنکھوں کے کینسر کا وہ علاج کرتے تھے ان کا کیا ہو گا۔ ان کے مطابق ”وہ کوشش کرتے تھے کہ کسی طور غریب مریضوں کا مفت علاج ہو جائے۔“ ایسے وقت میں کہ جب علاج غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، علی حیدر کی کاوشوں سے مستفید ہونے والے یقینا انہیں یاد کریں گے۔ ایک اور زیرِ تربیت ڈاکٹر نصرت عظیم نے بتایا کہ وہ جونیئرز اور فی میلز کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔

ڈاکٹر علی حیدر کو نم آنکھوں سے یاد کرنے والے لاہور جنرل ہسپتال کے ادھیڑ عمر وارڈ بوائے آس محمد کا سوال ہے کہ ”جب وہ کوئی ایسی بات تک نہیں کرتے تھے جس سے کسی کو دکھ ہو تو پھر انہیں کیوں مارا گیا؟“

16مئی 1981ءکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں علی حیدر کا پہلا دن تھا جہاں سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے برطانیہ سے علمِ امراضِ چشم (اوفتھالمولوجی) میں ایف آر سی ایس (فیلوشپ آف رائل کالج آف سرجنز) کیا۔ آپ سہ ماہی جریدے ’پاکستان جرنل آف اوفتھالمولوجی‘ کے ایڈیٹر اِن چیف تھے۔

ان کے قتل کے بعد شہر کے مختلف مقامات، جن میں لاہور جنرل ہسپتال، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شوکت خانم میموریل ہسپتال شامل ہیں، میں احتجاج اور تعزیتی ریفرنس ہوئے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر حامد بٹ کے مطابق ”یہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ لگتا ہے۔ پوری (ڈاکٹر) کمیونٹی خوف کا شکار ہے۔ ایسوسی ایشن نے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔“

لاہور میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کو ہدف بنا کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر کا قتل بظاہر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مبینہ طور پر اسی بنیاد پر رواں ماہ لاہور میں سونیری بینک کے ایک منیجر کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ سو سے زائد اہل تشیع گزشتہ سال ہدف بنا کر قتل کیے گئے جن میں نصف درجن کے قریب شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ہیں۔

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری فروری 2013ء

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s