مصر کا سفر جاری

اخوان المسلمین، محمد مرسی اور انقلاب

مصر کا سفر جاری

(۲ دسمبر ۲۰۱۲)

رضوان عطا

اگر کسی نے یہ سمجھا کہ انقلابِ مصر اخوان المسلمین کو اقتدار دینے یا محمد مرسی کو صدارت کی کرسی پر براجمان کرنے کے لیے آیا تو اس کی غلط فہمی ملک بھر میں ہونے والے حالیہ احتجاج سے دور ہوجانی چاہیے۔ تحریرچوک، جہاں کبھی حسنی مبارک کے خلاف لوگ جمع ہواکرتے تھے، اب محمد مرسی اور ان کی جماعت فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی کے خلاف ہورہے ہیں۔27 نومبر کو یہاں اکٹھے ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ ملک کے بعض شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا جس سے سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب محمد مرسی نے اپنے ہاتھ میں آمرانہ اختیارات لینے کی کوشش کی۔

مظاہروں کی وجہ 22 نومبر کو جاری ہونے والا وہ حکم نامہ تھا جس کے تحت مصری صدر کے کیے گئے فیصلوں اور جاری کئے گئے فرمان کو چیلنج کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ حکم نامے سے صدارتی اقدامات عدالتی یا کسی ادارے کی نظرثانی سے مبرا ہوگئے۔ پہلا اعتراض عدلیہ اور وکلا نے کیا اور پھر عوام اس معاملے میں کود پڑے۔

بظاہر اس حکم نامے کا مقصد نئے آئین کی تحریر کو ممکن بنانا تھا۔ مسودے کی تیاری کے عمل میں ہی100 میں سے22 ارکان مختلف اعتراضات کے ساتھ آئین سازی کے عمل سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ مجوزہ آئین کے سامنے آنے سے قبل ہی اسے عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ مرسی چاہتے تھے کہ نئے آئین کی تحریر کا کام مکمل ہو اور اس میں خلل نہ پڑے۔

انہیں اس تکمیل کی اتنی فکر تھی کہ ان کی جماعت اور اتحادیوں نے مہینوں کا کام دنوں میں کردکھایا۔ 234 آرٹیکلز کو24 گھنٹوں سے کم وقت میں80 ارکان نے منظور کیا۔ اس عجلت کو انصاف کے خلاف دوڑ بھی کہا جارہا ہے۔ نئے آئین میں بہت سے سقم ایسے ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے اور کئی شاید بعدازاں معلوم ہوں، دسمبر میں اس پر ریفرنڈمتوقع ہے۔

اس کی بنیادی طور پر دو بنیادی وجوہ ہیں۔ اول، یہ کام جلد بازی میں کیا گیا، دوم، اس میں سیاسی بنیاد پر اسلام کو استعمال میں لایا گیا۔ اس سے بالواسطہ اخوان المسلمین کو فائدہ متوقع ہے۔

مرسی کا دعویٰ ہے کہ وہ انقلاب کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کام کررہے ہیں لیکن اس کے افعال بتاتے ہیں کہ وہ مصر کو انقلاب سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ مرسی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلا دورہ خطے میں ردِ انقلاب کے گڑھ ریاض کا ہی تو کیا تھا۔ مرسی کاحالیہ اقدام غیر معمولی تھا۔ لیکن اخوان المسلمین اور مرسی کی طرف سے یہ قدم کیوں اٹھایا گیا۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں اپنے کردار کی وجہ سے جہاں ملک کے اندر انہیں پذیرائی ملی وہیں بیرون ملک ان کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اسی لیے مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ اور سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین نے جہاں مرسی کے حکم نامے پر خبردار کیا ہے وہیں یہ بھی کہا ”مصر اس پوزیشن میں ہے کہ حالیہ جنگ بندی سے آگے بڑھ کر ایک طویل المدت جنگ بندی کراسکے۔“مزید برآں کہا ”اگر مصر غزہ میں ہتھیار لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگوں کے خلاف سخت اقدام کرتا ہے تو یہ واقعی سود مند ہوگا۔“

اسرائیل ناکہ بندی کے باعث یہ سرنگیں مصر سے بنیادی اشیائے ضرورت لانے کا بڑا ذریعہ ہیں جن کے خلاف محمد مرسی دراصل کچھ کارروائیاں پہلے ہی کرچکے ہیں، جن سے فلسطینیوں کی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہوا۔

محمد مرسی نے فوج کے سیاسی کردار کو محدود کیا ہے، اس کی اعلیٰ قیادت کو گھر بھیجنے کے بعد دوسرے درجے کی عسکری قیادت سے ہم آہنگی پیدا کی ہے اور انہوں نے ایسا دو رخی پالیسی کے ذریعے کیا ہے۔ فوج کی مراعات کو جاری رکھا، اور اس کے کاروبار کو، جو ملک کی کل داخلی پیداوار کا 20 فیصد ہے، کوئی زد پہنچانے سے گریز کیا۔ مصر کے زیادہ تر سرمایہ دار بھی اخوان کو تسلیم کرنے پر راضی ہیں۔ کچھ اس وجہ سے کہ حسنی مبارک نے اپنے حواریوں پر مشتمل ایک محدود حلقے کو زیادہ نوازا جس سے وہ نالاں ہیں، اور کئی اس وجہ سے کہ وہ ”استحکام“ کے خواہاں ہیں۔

حسینی مبارک کی طویل آمریت میں اخوان المسلمین سب سے منظم سیاسی قوت بنی جواب بھی ہے، جبکہ حزب اختلاف بکھری ہوئی ہے۔

محمد مرسی کے لیے ان حالات میں ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ حالیہ انتہائی قدم اٹھائیں۔ لیکن یہ حالات شاید زیادہ عرصے کے لیے ان کا ساتھ نہ دیں، آئی ایم ایف کا قرضہ اب ان کے ہاتھ میں ہے، لیکن یہ قرض شرائط کے بغیر نہیں ہوتا۔ سرکاری شعبے کے اخراجات کم کرنے، سبسڈی کے خاتمے اور نج کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کی شرائط ساتھ لاتا ہے۔ انہیں پالیسوں کی بدولت حسنی مبارک کے خلاف جو غم و غصہ پیدا ہوا تھا وہ اس کی رخصتی پر منتج ہوا۔ جس ملک میں40 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں وہاں مزید معاشی ابتری مزید عوامی احتجاجوں کو جنم دے سکتی ہے۔ دراصل فریڈیم، اینڈ جسٹس پارٹی جو اخوان المسلمین کا سیاسی فرنٹ ہے،کے دورِاقتدارمیں معاشی حالات جوں کے توں رہے ہیں جبکہ نئی حکومت سے عوام کو بہتر معاشی حالات کی توقع تھی۔

مرسی کے لیے طیب اردگان کا ترکی کا رول ماڈل ہے لیکن یہ نقالی لازم نہیں کہ ممکن ہو۔مصری انقلاب جاری ہے اور حسنی مبارک کے جانے کے بعد اب یہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

(اشاعت: ہمشہری)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s