غزہ پر اسرائیلی حملہ

کیا فلسطینی تنہا رہ گئے؟

غزہ پر اسرائیلی حملہ

رضوان عطا

عام تاثر کے برخلاف یہ غزہ اسرائیل جنگ نہیں۔ 14 نومبر کو، صرف ایک دن میں، غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے جتنے اسرائیلی گزشتہ تین سالوں میں غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے ہوئے۔ اس سے ملتی جلتی، مگر بڑی، ایک یک طرفہ اسرائیلی کارروائی چار سال قبل ہوئی تھی جس میں 1400 کے قریب فلسطینی مارے گئے، اور اکثریت عام شہریوں کی تھی جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔

تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ تین اسرائیلی اور 52 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ غزہ کے آسمان سے ایف سولہ اور ڈرون آگ برسا رہے ہیں۔ نیا اضافہ اسرائیلی بحریہ کا ہے، جس نے میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی زمینی افواج ابھی داخل نہیں ہوئیں۔ البتہ ان کے داخل ہونے کا خدشہ ضرور ہے کیونکہ اسرائیل سے ملے جلے پیغامات آ رہے ہیں۔ ایسا ہوا تو فلسطینیوں کی ہلاکتیں اور مصائب کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ یہ پہلے بھی کچھ کم نہیں۔

 

17 لاکھ نفوس پر مشتمل غزہ ایک ایسا چھوٹا سا مگر انتہائی گنجان آباد محصور علاقہ ہے جہاں فلسطینیوں کی 40 فیصد آبادی وہ ہے جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر یہاں پہنچی۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی انہیں بے دخل کر دیا گیا تھا اور اب یہ مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں۔ اسرائیل یہاں ائیرپورٹ اور بندرگاہ نہیں بننے دیتا اور یہاں کی پیداوار کو عموماً برآمد کی اجازت نہیں ملتی۔ یہاں مناسب خوراک تک کا حصول جان جوکھوں کا کام ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دو تہائی شیر خوار، 58.6 فیصد سکول جانے والے بچے اور ایک تہائی حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوتوں میں شمار ہونے والا اسرائیل حملہ آور ہے۔

بی بی سی کی ویب سائٹ

بی بی سی کی ویب سائٹ سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے حملہ آور اسرائیل نہیں حماس ہے۔15 نومبر

وہ راکٹ اور مارٹر جنہیں اسرائیل دہشت کی علامت بنا کر پیش کرتا ہے اور جس کی تائید مغربی ذرائع ابلاغ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جدید اسرائیلی ہتھیاروں کے سامنے کھلونوں جیسے ہیں۔ ان کا استعمال تبھی زیادہ ہوتا ہے جب اسرائیل کی طرف سے حملہ ہو۔ اسرائیلی کارروائی سے قبل اس سال کوئی بھی اسرائیلی ان سے ہلاک نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح 2008ء میں بھی (جب تک حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی تھی) ان راکٹ اور مارٹر حملوں سے اس وقت تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی جب تک غزہ پر بڑا حملہ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم تب اور اب اسرائیل حملوں کا ایک بڑا مقصد ان راکٹ اور مارٹر کو روکنا بتایا گیا۔ اگر اسرائیل کے سرکاری اعدادوشمار کو نظر میں رکھا جائے تو اب تک اوسطاً 500 سے زائد راکٹ اور مارٹر سے ایک اسرائیلی ہلاک ہوا۔ اسرائیلی ہلاکتیں بھی نہیں ہونی چاہئیں مگر قبضہ بھی تو نہیں۔

حالیہ ’لڑائی‘ اس وقت شدت کے ساتھ شروع ہوئی جب حماس کے رہنما احمد الجعبری کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک کردیا گیا۔ اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی میں احمد الجعبری نے اہم کردارادا کیا۔ ایک اسرائیلی امن کارکن،جو گیلاد شالیت کی رہائی کے مذاکرات میں شامل رہا،کے مطابق قتل سے چند گھنٹے قبل سے اسرائیل سے طویل المدت جنگ بندی کے معاہدے کا مسودہ موصول ہوا تھا۔ جسے مصری حکام نے تیار کیا تھا۔ یہ مسودہ اسرائیلی وزیر دفاع کو بھی پیش کیا گیا۔

عجب اتفاق ہے کہ 2008ء کی طرح اب کی بار بھی حملہ باراک کے منتخب ہوتے ہی ہوا۔ گزشتہ مدت کے دوران باراک اوباما نے غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی جو آرزو کی تھی اسے اسرائیلی حکومت نے درخود اعتنا نہ سمجھا۔ حالیہ حملوں کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سینیٹ نے جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی اس کے مطابق ”اسرائیل کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف عمل کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔“ امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے تحفظ کے حق کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی تاکہ شک نہ رہے: ”ہم اسرائیل کی اس معاملے میں مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے گھروں، کام کاج کی جگہوں اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھیں گے۔” یوں امریکی موٴقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔

عرب دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ اہم ترین عرب ملکوں میں شمار ہونے والے مصر میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک کو جانا پڑا۔ ایسا امریکہ، یورپ اور خطے میں اس کے حامی ممالک نہیں چاہتے تھے مگر عوامی قوت بھاری ثابت ہوئی۔ دل و جان سے امریکہ و اسرائیل کی حامی حسنی مبارک کی حکومت کی مخالفت کو جواز بنا کر اقتدار میں آنے والوں سے مصری عوام مختلف خارجہ پالیسی کی توقع کرتے ہیں۔ انتخابات کے بعد بننے والی مصری حکومت کے لیے غزہ ایک امتحان ہے۔ محمد مرسی نے ماضی میں اسرائیل سے کیے گئے امن معاہدے سے منہ موڑنے کی بات نہیں کی لیکن وہ جس سیاسی روایت سے آئے ہیں اس میں اسرائیل مخالف لفاظی کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ مرسی بظاہر اسرائیل سے تصادم نہیں چاہتے کہ کہیں بیرونی دباوٴ ان کے اپنے اقتدار کو مشکل میں نہ ڈال دے۔ لیکن وہ حسنی مبارک بھی نہیں۔

مرسی نے بعض ایسے کام کیے ہیں جو اسرائیلی حکومت کو ناگوار گزرے ہوں گے۔ حملوں کے بعد مرسی نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ مصری سفارت کار کو تل ابیب سے واپس بلا لیا گیا اور قاہرہ سے اسرائیلی انوائے چلا گیا۔ یہ بھی فلسطینیوں سے یک جہتی کا واضح اظہار تھا کہ مصری وزیرِاعظم نے غزہ کا دورہ کیا اور اپنے ہسپتال غزہ کے زخمیوں کے لیے کھول دیے۔ مصر کے لیے اظہارِ یکجہتی اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں حماس کا جھکاوٴ شام سے مصر کی جانب ہوا ہے، جس نے مسئلہ فلسطین میں مصر کی حیثیت مزید بڑھا دی ہے۔ وہ اس میں کمی نہیں چاہے گا۔ نیز مرسی حکومت کو معلوم ہے کہ اسرائیل کے بارے میں قدرے سخت موٴقف انہیں عوام میں مزید مقبول کرے گا۔

مصری حکومت کی کوشش ہے کہ حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی ہوجائے۔ دورہٴ ترکی کے دوران انہوں نے ترک وزیرِاعظم طیب اردگان کے ساتھ 17 نومبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہی عندیہ دیا کہ جنگ بندی ہوسکتی ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اسرائیل سے گہرے عسکری اور تجارتی تعلقات کے علاوہ ترکی کی اہمیت کی وجہ عرب دنیا میں اس کا بڑھتا ہواسیاسی و معاشی اثر و رسوخ ہے۔ مسلسل ترقی کرتا ہوا ترکی اب یورپ سے زیادہ مشرق کی طرف دیکھتا ہے۔ 2010ء کے وسط میں غزہ جانے والے فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں ترک شہریوں کی ہلاکت پر ترکی کی حکومت کے موٴقف سے اسے عرب دنیا میں خاصی پذیرائی ملی۔ ترکی اپنی مضبوط ہوتی ساکھ کو خراب نہیں کرنا چاہے گا مگر اسرائیل سے تعلقات کو بھی نہیں۔ البتہ اسرائیل کے بارے میں مصر کی طرح ترکی کا موٴقف پہلے جیسا نہیں رہا۔ اگر اسرائیل غزہ پر اپنے حملوں کو طول دیتا ہے، مزید بڑھاتا ہے یا زمینی افواج داخل کرتا ہے تو مصر اور ترکی کے موٴقف میں سختی آ سکتی ہے، عالمی و علاقائی رائے عامہ میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن کیا اس کا اثر اسرائیل پر ہو گا؟ اس کے امکانات کم نظرآتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے ان کا ملک غزہ میں اپنی کارروائیوں میں ”قابلِ ذکر“ اضافے کے لیے تیار ہے۔ یہ محض دھمکی ہے یا اسرائیل غزہ کے شہریوں کو ”بڑی سزا“ دینے سے باز آ جائے گا؟ اسرائیلی وزیر داخلہ ایلی یشئی نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے حالیہ حملوں کا مقصد یوں واضح کیا: ” آپریشن پلر آف ڈیفنس کا مقصد غزہ کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا ہے۔ تبھی اسرائیل میں اگلے چالیس سال تک سکون رہے گا۔“

لیکن مزاحمت قابض کی طاقت کو دیکھ کر نہیں ہوتی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s