لیون پنیٹا کا دورہ اور بھارت

 

لیون پنیٹا کا دورہ اور بھارت

کیا دہلی واشنگٹن کے تابع ہوگا؟

رضوان عطا

امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے حال ہی میں ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تاہم اس دورے میں بھارت کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ آخر کیوں؟

جب2011ء کے اوائل میں لیون پنیٹا کو سیکرٹری دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سینیٹ میں موجود ہرشخص نے تصدیق کی مہر ثبت کی۔ حلف اٹھانے کے بعد لیون پنیٹا کی اولین کاوشوں میں امریکی دفاعی بجٹ میں بڑی کٹوتی کو روکنا تھا کیونکہ ان کے مطابق اس سے ابھرتے چین، شمالی کوریا اور ایران سے نپٹنےمیں پنٹا گان کی کوششیں متاثر ہوں گی۔

جب امریکی صدر باراک حسین اوباما نے2009ء کے اوائل میں لیون پنیٹا کو سی آئی اے کا ڈائریکٹر بنایا تھا تو اُن کا پہلا غیر ملکی دورہ بھارت کا تھا۔ ان کا حالیہ دورہ جس میں وہ دیگر ممالک کے ساتھ بھارت گئے، کو ان کی ابتدائی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اور کوشش سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔کم ازکم بھارت کی حد تک ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کی پالیسی یکساں دکھائی دیتی ہے۔ بھارت میں سفیر رہ چکے تھامس پکرنگ کے الفاط میں ” اچھی خبر یہ ہے کہ بھارت کے معاملے پر امریکا کے اندر تقریباً کوئی اختلاف نہیں“۔

لیون پنیٹا نے اپنے دور کے آغاز ہی میں ویت نام کی سرزمین پرقدم رکھا۔ وہ سب سے پہلے اس اہم امریکی اڈے پر پہنچے جسے کبھی ویت نامیوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ ویت نام میں شکست کے بعد اس اڈے کا دورہ کرنے والے وہ پہلے سیکرٹری دفاع ہیں۔ انہیں یہ ضرورت چین کی وجہ سے پیش آئی جس کا ویت نام کی طرح خطے کے دیگر ممالک سے سرحدی حدود کا تنازع ہے۔ ویت نام پر پنیٹا کے قدموں نے بتادیا کہ ہدف چین ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت نے ہنری کسنجر کے ان الفاظ پر عمل کیا کہ ہر اس شے پر بمباری کرو” جواڑتی ہے، حرکت کرتی ہے“۔ نتیجہ لاکھوں ویت نامیوں کی موت کی صورت میں نکلا۔ وقت بدل چکا ہے دونوں ممالک نے گزشتہ سال دفاعی تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

بعدازاں پنیٹا جب ننھے سے ملک سنگاپور پہنچے تو انہوں نے خاص طور پر ملیشیا کے وزیر دفاع احمد زاہد حامدی سے علیحدہ ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد بھی دفاعی تعاون کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ پنٹاگان کے پریس سیکرٹری نے تصدیق کی کہ انہوں نے” امریکا ملیشیا فوجی تعلقات، بشمول باہمی مشقوں“ پر بات کی۔ ملیشیا کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف سخت بیانات کے بعد اسے امریکی مدار سے دور سمجھا جاتارہا اور اس لحاظ سے دونوں کا قریب آناویت نام کے بعد دوسری اہم تبدیلی ہے۔ سنگاپور میں پنیٹا کا ساتھ دینے والوں میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور پیسفک کمانڈ کے کمانڈر بھی شامل تھے۔ اور یہاں شنگریلا ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں ملیشیا کے علاوہ جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن اور آسٹریلیا شامل تھے تاہم اس دورے کا سب سے اہم مقام بھارت تھا۔ پنیٹا کے بقول ایشیا پر مرکوز امریکا کی نئی فوجی حکمت عملی کا بنیادی سہارا بھارت ہے۔ اس بات کا تجزیہ اہمیت کا حامل ہے کہ بھارت کس حد تک سہارا بننے کو تیار ہے۔

بھارت نے گزشتہ سات برس کے دوران امریکا سے آٹھ ارب ڈالر سے زائد کا فوجی سازوسامان خریدا ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے۔ بھارت نے سب سے زیادہ فوجی سازو سامان امریکا، پھر اسرائیل اور اس کے بعد روس سے خریدا۔ گزشتہ چند برسوں میں اس مقصد کے لیے نصف کے قریب رقم امریکی جیب میں گئی۔ تاہم گزشتہ برس اس وقت واشنگٹن کو خاصی مایوسی ہوئی جب بھارت نے12 ارب ڈالر مالیت کے126 فائٹرجیٹس امریکی کمپنیوں سے نہ خریدے۔پنیٹا بھارت میں چارمقاصد لے کر آئے تھے اول بھارت سے عسکری پارٹنرشپ بالخصوص بحرہند میںجو چین کے اثر کو بڑھنے سے روکے اور اسی مقصد کے لیے بحرالکاہل میں بھی معاون ہو۔ دوم ایران سے بھارت کے تعلقات کو ختم یا کم کرانا، سوم افغانستان میں بھارتی کردار کو بڑھانے کی کوشش کرنا چہارم بھارت کو مزید اسلحے کی فروخت یقینی بنانا۔ ان تمام مقاصد میں پہلی ترجیح بھارت کے ساتھ عسکری شراکت داری تھی مگر بھارت کا اس بارے رویہ کیا رہا؟

سوویت یونین کے انحطاط کے بعد بھارت نے آہستہ آہستہ امریکا کا رخ کیا۔ سابقہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے سول نیو کلیئر ڈیل ایک غیر معمولی قدم تھا۔ جس نے نہ صرف بھارت میں امریکی دلچسپی کو واضح کردیا بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے نئے پہلو کو بھی۔ یاد رہے کہ سردجنگ کے زمانے میںبھارتی نیوکلیئر پالیسی امریکی عتاب سرکا باعث تھی۔تاہم بھارت اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ابھی تک پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔ پنیٹا کے لیے بھارت کا پیغام تھا دھیرج مہاراج۔ دلی کے دو روزہ دورے کے دوران پنیٹا کو بھارتی حکام نے یہی کہا کہ ہم آپ کے ساتھ چل سکتے ہیں لیکن ہر بار نہیں۔

ایران کے معاملے پر بھی بھارت محتاط ہے۔2005ء اور2006ء میں جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) میں بھارت نے ایران کے خلاف ووٹ دیا تو جواباً اس نے ایل این جی کی سپلائی کا معاہدہ منسوخ کردیا اور دوبارہ معاملہ طے کرنے پر رقم زیادہ مانگی، نتیجتاً بھارت کو اربوں کا نقصان ہوا۔

بھارت تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنا چاہتا۔ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ وہ ایران سے توانائی کے حصول کو جاری رکھنا چاہتا ہے، وہ ایران سے توانائی کے حصول میں اضافے پر گومگو کی کیفیت میں ہے کیونکہ اگر کسی وجہ سے ایرانی سپلائی اچانک معطل ہوئی تو اسے مشکل ہوگی۔ بھارت کی افغانستان تک رسائی کے لیے ایران کا تعاون ضروری ہے۔ ایران کے علاوہ وہ ہمسایہ چین سے اختلاف کے باوجود تصادم نہیں چاہتا۔ شاید چند بنیادی معاملات پر اتفاق نہیں ہوپایا تھا اسی لیے پنیٹا کی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس نہ ہوئی البتہ اس ملک میں پنیٹا کا پیغام واضح تھا اور پیش کش بُری نہیں تھی!

امریکی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے بھارتی تھنک ٹینکس کو خطاب کرنے کی روایت مضبوط نہیں۔1995ء میں ولیم پیرے کے بعد پنیٹا نے اسے ضروری سمجھا۔ نئی دہلی میں انسٹی ٹیوٹ فارڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینلسیز میں خطاب کے دوران انہوں نے امریکا بھارت تعلقات کی وسعت کو تفصیلاً بیان کیا اور ساتھ ہی انہیں مزید وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دہلی میں دئیے گئے بیانات سے پنیٹا کی خواہشات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ انہوں نے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو جدت دینے کے لیے تعاون کی پیشکش کی جس میں سمندری، فضائی اور بری افواج کی صلاحیتوں میں اضافے کے علاوہ خلا اور سائبر سپیس میں تعاون کا ذکر بھی شامل تھا۔ ان کے بقول امریکی وژن یہ ہے کہ بھارتی صلاحیتوں میں اضافے سے بحر ہند کو پُرامن بنایا جائے۔ پنیٹا نے’ امن‘ اور’سلامتی‘ جیسے الفاظ تو دہرائے لیکن بھارت میں انسانی حقوق کی بات کرنے سے گریز کیا۔ البتہ لشکر طیبہ کے ذکر کو دیگر امریکی اہلکاروں کی روایت کے مطابق ضروری سمجھا۔

پنیٹا کے مطابق” ایک مضبوط، خوشحال اور کامیاب چین کے طلوع کو ریاست ہائے متحدہ امریکا خوش آمدید کہتا ہے جو عالمی معاملات میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے” لیکن دوسری سانس میں انہوں نے یہ بھی کہا” چین ان بین الاقوامی قواعد کا احترام کرے جو اس خطے پر گزشتہ چھ دہائیوں سے لاگو ہیں“۔ دوسرے الفاظ میں وہ بحرالکاہل اور بحر ہند کے معاملات کو کم ازکم جوں کا تو دیکھنا چاہتا ہے لیکن چین انگڑائی لے رہا ہے اور ان سمندروں میں دھڑلے سے اپنی بات منوانے کی راہ پرگامزن ہے۔

جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر امریکا کے پاس دنیا کی کل دولت کا نصف تھا۔ عسکری قوت بے پناہ تھی۔1970ء تک اس تناسب میں25 فیصد کمی ہوئی۔ آج دولت کے ارتکاز کے دیگر مراکز پیدا ہوچکے ہیں اور امریکا میں معاشی بحران ہے۔ تبھی تو اسے دفاعی بجٹ میں بھی کٹوتی کرنا پڑرہی ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات کی استواری میں ٹیکنالوجی کی جدت کے علاوہ اس عنصر کو بھی بھارت دیکھ رہا ہے اور ایک دیوہیکل نئے چین کو بھی۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s