افغانستان میں پُر تشدد مظاہرے

افغانستان میں پُر تشدد مظاہرے

امریکی مشکل میں اضافہ

رضوان عطا

امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے پر ہونے والے شدید احتجاج کے پانچویں دن ایک شخص نے دو (غیر ملکی) افسران پر گولیاں چلادیں۔ اس واقعے کا مرکزی مشتبہ ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ شخص وزارتِ داخلہ کے ساتھ خاصے عرصے سے منسلک تھا اور سکیورٹی انتظامات کا نگران تھا۔ اس واقعے کے بعد نیٹو، برطانیہ اور فرانس کی تقلید کرتے ہوئے جرمنی نے بھی افغانستان کی مختلف وزارتوں سے اپنے تمام اہلکاروں کو واپس بلالیا ہے۔ غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کو جلانے کے واقعے پر نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر جنرل جان آرایلن اور امریکی صدر باراک اوباما کی معافی بھی کوئی اثر نہ دکھا سکی اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر افغان صدر حامد کرزئی کی عوام کو پُر امن رہنے کی اپیل۔ اتوار کو احتجاج رکوانے کی خواہش کے ساتھ جب حامد کرزئی نے افغان عوام سے اپیل کی تو انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اب تک تقریباً29 افراد ہلاک اور200 زخمی ہوچکے ہیں۔ اس اپیل کے بعد صوبہ قندوز کے شہر امام صاحب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر مظاہرین نے ہینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا جس سے امریکی سپیشل فورسز کے سات اہلکار زخمی ہوگئے۔

ایک مذہبی معاملے پر اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج سے آخر کیا مراد لی جائے۔ کیا یہ افغان معاشرے میں پہلے سے موجود یا بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان کا عکاس ہے؟ کیا یہ مغربی ثقافتی اقدار سے نفرت کا اظہار ہے؟ کیا یہ موجودہ افغان حکومت پر عدم اعتماد ہے یا پھر نیٹو و امریکی افواج سے کدورت اس کا محرک ہے؟ شاید ان پر تشدد مظاہروں کی وجوہ میں یہ تمام عوامل کار فرماہوں لیکن ان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی کو افغان معاشرے کا ایک بڑا حصہ ناپسند کرتا ہے اور امریکا کے بارے میں منفی جذبات بڑھے ہوئے ہیں۔

امریکا کے لیے یہ امر اس لیے تشویش ناک ہے کہ وہ اپنی فوجوں کے انخلا کے مجوزہ پروگرام پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ طالبان اور دیگر امریکا مخالف مسلح گروپوں سے مذاکرات کے نازک دور سے گزررہا ہے۔ افغانستان میں امریکا کی بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت خطے میں اس کے مستقبل کے حوالے سے منصوبوں کو مزید کھٹائی میں ڈال سکتی ہے۔

ایک معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ افغانستان میں تعینات امریکی سفیر نے ایک انتہائی خفیہ مراسلہ واشنگٹن بھیجا جس میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان میں” دشمن کے محفوظ ٹھکانے“ افغانستان میں امریکی حکمت عملی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس مراسلے کے مطابق پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے برسوں سے جاری امریکی کوششیں ناکامی سے دوچار ہورہی ہیں۔ اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ خبر جان بوجھ کر لیک کی گئی ہے یا نہیں مگر یہ طے ہے کہ امریکا میں یہ خیال انتہائی پختہ ہے کہ اس کی ناکامی کی بڑی وجہ پاکستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ امریکا اس حوالے سے بعض اہم وجوہ کو نظر انداز کررہا ہے۔

دوسری طرف امریکا طالبان سے مذاکرات میں پیش رفت کررہا ہے۔ اس حوالے سے جنوری میں جب طالبان نے خلیجی ملک قطر میں اپنا دفتر قائم کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تو یہی سمجھا گیا کہ ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے مگر جلد ہی یہ باتیں سامنے آنا شروع ہوگئیں کہ چند”فریق“ ایسے ہیں جنہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان میں سے ایک پاکستان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے بعض ممالک علاقائی حل کو ترجیح دینے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ امریکا اور طالبان کے مابین گفت وشنید کس نہج پر ہے، اس بارے میں معلومات خاصی کم ہیں لیکن ایک بات عیاں ہے اور وہ یہ کہ افغانستان میں امریکی اثرورسوخ روبہ زوال ہے۔

اس زوال کی کئی وجوہات ہیں۔ افغانستان کی حد تک امریکی اور اس کے اتحادی افغان عوام کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کی توقع طالبان حکومت کے خاتمے کے وقت انہوں نے کی تھی۔ نہ معاشی ترقی، نہ سیاسی استحکام اور نہ امن بلکہ انہیں کئی مقامات پر توہین اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ پُرتشدد احتجاج کی حالیہ لہر اس نوعیت کے واقعات کے تسلسل کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں سے ایک60 سالہ شخص ایک صحافی کو یہ کہتا ہے کہ یہ محض قرآن کی بے حرمتی کا معاملہ نہیں، یہ ہماری لاشوں کی توہین اور ہمارے بچوں کی ہلاکت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اس کا اشارہ صوبہ ہلمند میں اس واقعے کی طرف تھا جس میں امریکی فوجیوں کو ایک سرکش کی لاش پر پیشاب کرتے دیکھاگیا اور ایک حالیہ فضائی حملے کی طرف جس میں آٹھ معصوم افغان ہلاک ہوگئے۔

جس انداز سے امریکا نے افغانستان کو تقریباً ایک دہائی تک کنٹرول کیا وہ افغان عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہرگز معاون نہ تھا۔ امریکی صدر بش کے دور میں کئی فضائی حملے ایسے ہوئے جن میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے۔ باراک اوباما کے آنے بعد بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس کے باوجود کہ امریکی افواج کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں موجود ہے اور اس پر حددرجہ اخراجات ہورہے ہیں۔ اس ملک میں عالمی طاقت کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔

آج ایک امریکی فوجی پر سالانہ اوسطاً10 لاکھ امریکی ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔ امریکہ میں چند سال قبل پیدا ہونے والے معاشی بحران نے اسے اس قابل نہیں چھوڑا کہ اب وہ اربوں ڈالر اپنی افواج کی موجودگی پر خرچ کرسکے۔ اسی لیے اُسی امریکی صدر نے افغانستان سے انخلا کا منصوبہ پیش کیا جس نے عراق سے واپسی کی راہ دکھلائی تھی۔

انحطاط کے اِس دور میں امریکا کی یہ کوشش ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی محدود موجودگی کو ممکن بنائے اور وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو امریکا کی معاونت کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جہاں خطے کے ممالک پر دباؤبڑھایا جارہا ہے وہیں طالبان کے ساتھ بات کی جارہی ہے۔

اس وقت افغانستان میں ایک کمزور حکومت قائم ہے جس کا اپنے پاؤں پر قائم رہنا مشکل ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر امریکی انخلا ہوتا ہے تو آئندہ کا افغانستان کیسا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو آج بہت سے پالیسی سازوں، تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے۔ کیا افغانستان میں دوبارہ مذہبی انتہا پسندوں کی حکمرانی ہوگی؟

خطے کے بیشتر ممالک بشمول روس، چین کو بھی یہ قبول نہیں ہوگا کہ ایسے مذہبی انتہا پسند افغانستان میں برسرِاقتدار آئیں جو توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہوں۔ روس اور چین جیسے ممالک کے اندر مذہبی انتہا پسندوں کی کارروائیاں ان کے لیے پہلے ہی تشویش کا باعث ہیں اور وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے مسائل میں اضافہ ہو۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ امریکا وہاں مستقل قیام کرے اور اس ملک کو دوسرے ممالک میں مداخلت کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کرے۔

افغانستان کے اندر امریکی فوج اور پالیسیوں سے ناپسندیدگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ طالبان یا مذہبی شدت پسندوں کے حامی ہیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ بعض علاقوں میں طالبان کا اثرورسوخ اور مقبولیت زیادہ ہے۔

2001ءمیں جب بش انتظامیہ نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو متبادل کے طور پر اس نے جنگی سرداروں اور قبائلی رہنماؤں کو بھی طاقتور کیا جو خاص طور پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث رہ چکے تھے۔ اسی کے ساتھ فوجی طاقت بالخصوص فضائی قوت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجے میںبہت سے عام شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان کے حملے بھی کئی جانوں کے زیاںکا باعث بنے۔ ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کم توجہ دی گئی جو ملک میں مساوی بنیادوں پر بہتری لائیں۔ اس ابتدائی دور میں طالبان بکھر چکے تھے لیکن افغانستان کے حالات نے ایک مرتبہ پھر انہیں طاقتوربنادیا۔

حالیہ صدر باراک اوباما کی انتخابی مہم میں خارجہ امور کے حوالے سے افغانستان سرِفہرست تھا۔ دسمبر2009ءمیں انہوں نے مزید30,000 فوجیوں کو بڑھانے کا اعلان کیا۔ وہ اور ان کی ٹیم جس نئی افغان پالیسی کو سامنے لائے وہ اپنے اہداف پورا کرتے نظر نہیں آتی۔ حالیہ پُرتشدد مظاہرے ان اہداف کے حصول کو مزید مشکل بنارہے ہیں۔

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری ۲ تا ۸ مارچ ۲۰۱۲ء

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s