نیٹو بمقابلہ پاکستان

نیٹو بمقابلہ پاکستان

تحریر: طارق علی

افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو کا حملہ، جس میں بروز ہفتہ24 فوجی مارے گئے، لازماً جان بوجھ کر کیا گیا۔ نیٹو کمانڈروں کو بہت پہلے پاکستانی فوج کی طرف سے وہ نقشے مہیا کر دیے گئے تھے جن پر ان چیک پوائنٹس کی نشان دہی کی گئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ہدف فوجی چیک پوسٹ ہے۔ یہ وضاحت کہ ان پر پہلے فائرنگ کی گئی کھوکھلی ہے اور اسلام آباد نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس سے قبل اس نوع کے حملوں کو ’حادثہ‘ قرار دے دیا جاتا تھا اور معافی مانگ لی جاتی تھی، جو مل بھی جاتی تھی لیکن اس بار معاملہ زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’خود مختاری کی خلاف ورزی‘ کے دیگر واقعات کے فوری بعد یہ ہوا ہے، لیکن پاکستان کی خودمختاری اک افسانہ ہے۔ فوج کی اعلیٰ قیادت اور ملک کے سیاسی رہنما کئی دہائیاں قبل اپنی خود مختاری سے بخوشی دست بردار ہوچکے ہیں۔ اب اس کی کھلے عام اور ظالمانہ خلاف ورزی حقیقی تشویش کا سبب ہے۔

جواب میں پاکستان نے افغانستان جانے والے نیٹو کا نوائے (جن کا 49 فیصد پاکستان سے گزرتا ہے) روک دیے ہیں اور امریکا سے کہا ہے کہ وہ شمسی ائیر بیس خالی کردے جو انہوں نے اس ملک کے حکمرانوں کی اجازت سے افغانستان اور پاکستان دونوں میں ڈرون حملوں کے لیے قائم کیا تھا۔ اس سلسلہ میں اسلام آباد کو سترپوشی کی اجازت دی گئی تھی۔ سرکاری دستاویزات میں بیس متحدہ عرب امارات، جس کی ’خود مختاری‘ پاکستان سے بھی زیادہ لچکدار ہے، کو پٹے پر دی گئی ہے۔ حملے کا محرک ابھی تک ایک بھید ہے لیکن اس کے اثرات نہیں۔ یہ فوج کے اندر مزید تقسیم پیدا کرے گا، زرپرست زرداری حکومت کو مزید کمزور کرے گا، مذہبی انتہا پسندوں کو مضبوط کرے گا اور پاکستان میں امریکا کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ نفرت پیدا کرے گا۔

تو پھر ایسا کیوں کیا گیا؟ کیا اس سے اشتعال پیدا کرنا مقصود تھا؟ کیا اوباما انتظامیہ پہلے سے زخم خوردہ ملک میں خانہ جنگی کرانا چاہتی ہے؟ اسلام آباد میں بعض تبصرہ نگار ایسے دلائل دے رہے ہیں مگر اس کا امکان بہت ہی کم ہے کہ نیٹو افواج پاکستان پر قبضہ کر لیں۔ ایسے نامعقول اقدام کی تائید میں کسی سامراجی مفاد کے حوالے سے دلائل لانا مشکل ہوگا۔ شاید یہ محض اَدلے کا بدلہ تھا تاکہ پاکستانی فوج کو کابل کے ’گرین زون‘ میں چند ماہ قبل امریکی سفارت خانے اور نیٹو ہیڈکوارٹر پر حملے کے لیے حقانی نیٹ ورک کی ترسیل پر سزا دی جا سکے۔

نیٹو حملہ ایک اور ستم کے ساتھ ہوا۔ زرداری اور ان کی مرحوم شریک حیات کے واشنگٹن میں سودا فروش، حسین حقانی کو، جن کے 1970ءکی دہائی سے امریکی خفیہ اداروں سے تعلقات نے انہیں مفید ثالث بنادیا تھا اور جنہیں زرداری نے واشنگٹن میں امریکا کا سفیر مقرر کیا تھا، استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔حقانی، جنہیں بسا اوقات پاکستان میں امریکی سفیر کہا جاتا ہے، بظاہر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے منصور اعجاز، جو ایک ارب پتی شخص اور امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہے، سے کہا کہ وہ ایڈمرل مائیک مولن تک ایک پیغام پہنچائے جس میں پاکستانی فوج کے خلاف مدد کی درخواست کی گئی تھی اور بدلے میں حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کو توڑنے اور تمام امریکی احکامات ماننے کی پیشکش کی گئی تھی۔

مولن نے پہلے تو ایسے کسی پیغام کی وصولی کی تردید کی۔ علاوہ ازیں ایک عسکری معائنے نے اس تردید سے اختلاف کیا۔ بعدازاں مولن نے اپنی کہانی کو بدلا اور یہ پیغام دیا کہ وصولی ہوئی مگر اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ جب آئی ایس آئی نے ’غداری کے ارتکاب‘ کو دریافت کیا تو حقانی نے یہ کہنے کے بجائے کہ وہ زرداری کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا تھا، سارے قصے ہی کو رد کر دیا۔ اس کی بدقسمتی کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے منصور اعجاز سے ملاقات کی اور نتیجتاً انہیں بلیک بیری پیغامات و ہدایات مل گئے۔ استعفے کے سوا حقانی کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس کے خلاف مقدمے اور اسے پھانسی دینے کے مطالبے (جب فوج ملوث ہو جائے تو یہ دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں) اُگنے لگے۔ زرداری اپنے آدمی کے ساتھ کھڑے ہےں۔ فوج اس آدمی کا سر چاہتی ہے اور اب نیٹو بکھیڑے میں داخل ہو گئی ہے۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

مترجم: رضوان عطا

بشکریہکاؤنٹرپنچ ڈاٹ کام

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری ۹ دسمبر ۲۰۱۱ء

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s