ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت کیوں ہے؟

ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت کیوں ہے؟

تحریر: ٹونی کلف


مزدور طبقے میں ناہموار شعور

ہمیں انقلابی جماعت (پارٹی)کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ وہ دو بیانات ہیں جو(کارل) مارکس نے دیے۔ اس نے کہا ”مزدور طبقے کی آزادی اس کے عمل سے ہے۔“ اسی کے ساتھ اس نے کہا کہ ”ہر سماج میں غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں۔“

ان دو بیانات کے درمیان تضاد ہے۔ لیکن یہ تضاد مارکس کے سَر میں نہیں۔ اس کا وجود حقیقت میں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بیان درست ہوتا تو انقلابی جماعت بنانے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ اگر مزدور طبقے کی آزادی اس کے عمل سے ہے، اور بس، تو سچی بات یہ ہے کہ ہمیں سوشل ازم کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس ہاتھ پر ہاتھ رکھیں اور مسکرائیں۔ مزدور خود ہی اپنے آپ کو آزاد کرا لیں گے!

دوسری طرف اگر ”ہر سماج میں غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں“اور بس، تو مزدور ہمیشہ حکمرانوں کے نظریات کو مانتے۔ پھر ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے اور آنسو بہاتے کیونکہ کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں بیان درست ہیں۔ طبقاتی جدوجہد ہمیشہ اپنا اظہار نہ صرف مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان تنازعے کی صورت میں کرتی ہے، بلکہ خود مزدور طبقے کے بیچ بھی۔ ہڑتالی قطار (پِکٹ لائن ) میں ایسا نہیں ہوتا کہ مزدور سرمایہ دار کو کام کرنے کی کوشش کرنے سے روک رہے ہوتے ہیں۔ سرمایہ داروں نے اپنی زندگی میں کبھی کام نہیں کیا ہوتا، اس لیے وہ ہڑتال کے دوران کام نہیں کریں گے۔ہڑتالی قطار میں ہوتا یہ ہے کہ مزدوروں کا ایک گروہ مزدوروں کے دوسرے گروہ کو آجر کے مفادات پورا کرنے سے روک رہا ہوتا ہے۔

اب قوتِ مزدور کا سوال، جسے مارکس پرولتاریہ کی آمریت کہتا ہے۔آپ کو پرولتاریہ کی آمریت کی ضرور ت کیوں ہو گی اگر سارا طبقہ متحد ہواور مخالفت میں صرف مختصر اقلیت ؟آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ لوگ گھر جاوٴ، ہم آقاوٴں سے نپٹ لیتے ہیں۔ اگر سارا مزدور طبقہ متحد ہو تو ہم ان پر اتنا تھوک سکتے ہیں کہ وہ بہہ کر بحرِاوقیانوس میں جا گریں!

حقیقت یہ ہے کہ مزدور ایک طرف ہوں گے اور پسماندہ مزدور دوسری طرف۔ کیونکہ ”ہر سماج میں غالب نظریات حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں“۔ مزدور شعور کی مختلف سطحوں میں بٹے ہوتے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ وہی مزدور اپنی کھوپڑی کے شعور میں تقسیم ہوا ہو سکتا ہے۔ وہ بہتر اجرت کے لیے لڑنے والا/والی مزدور ہوسکتا ہے، آقاوٴں سے نفرت کرنے والا، لیکن جب سیاہ فاموں کی بات آتی ہے تو معاملہ دوسرا ہو جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے ہم ایک شخص، جو ایک پرنٹر اور بہت باہنر تھا، کے ساتھ ایک ہی گھر میں تھے ۔ وہ چھٹیوں پر جا رہا تھا اور میں نے پوچھا ’کیا تم کل اڑان بھر رہے ہو؟“ اس نے کہا ”نہیں،میں کل اڑان نہیں بھر سکتا، تب 13 تاریخ ہے اور جمعہ ہے(منحوس تاریخ شمارہوتی ہے!)۔ ہمیں ہفتہ کے روز تک انتظار کرنا پڑے گا۔ “ بیسویں صدی میں رہنے والے اس شخص کے پا س لگ بھگ 1000 سال پرانے نظریات ہیں۔

موقع پرستی اور فرقہ پرستی کے خلاف

آپ ایک ایسی ہڑتالی قطار پر کھڑے ہو سکتے ہیں جہاں آپ کے پہلو میں ایک ایسا فردہے جو نسل پرستانہ رائے زنی کرتا ہے۔ آپ ان تین میں سے ایک کام کرسکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ”میں ہڑتالی قطار میں نہیں کھڑا ہو سکتا ، میں تو گھر جا رہاہوں کیونکہ وہاں نسل پرستانہ رائے دینے والا کوئی نہیں۔“یہ فرقہ پرستی ہے کیونکہ اگر ”مزدور طبقے کی آزادی اس کے عمل سے ہے“ تو مجھے اس کے ساتھ ہڑتالی قطار میں کھڑے ہونا ہوگا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ آپ سوال ہی کو نظرانداز کردیں۔ کوئی نسل پرستانہ رائے زنی کرتا ہے اور آپ ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ آپ نے سنا ہی نہیں اور کہتے ہیں ”آج موسم خاصا اچھا ہے!“ یہ موقع پرستی ہے۔

تیسرا اندازِ خیال یہ ہے کہ آپ نسل پرستی کے خلاف اس شخص کو دلائل دیتے ہیں، حکمران طبقے کے غالب نظریات کے خلاف۔آپ بار بار دلائل دیتے ہیں۔ اگر آپ اسے قائل کر لیتے ہیں تو بہت خوب۔ لیکن اگر آپ یہ نہیں بھی کرپاتے پھر بھی جب غیر ہڑتالیوں کی لاری آتی ہے آپ غیر ہڑتالیوں کو روکنے کے لیے ہاتھوں کی زنجیر بنالیتے ہیں کیونکہ ”مزدور طبقے کی آزادی مزدور طبقے کے عمل سے ہے۔ “

انقلابی جماعت: مزدور طبقے کی درس گاہ

اپنے انقلاب سے 20 سال قبل تک بورژوازی کی کوئی انقلابی جماعت نہیں تھی۔ فرانس میں جیکوبنز (انقلابِ فرانس کے رہنما) 1789ء سے قبل وجود نہیں رکھتے تھے۔

ہمیں انقلاب سے 20، 30 یا 50 سال قبل ابتدا کرنے کی کیوں ضرورت ہے؟ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت پر بات کی ابتدا کرنا ہوگی جو مزدور طبقے کی جدوجہد میں، انقلاب میں رہنمائی کرسکے۔

جیکوبنز خود انقلاب کے عمل کے دوران تشکیل پائے۔ کیوں؟ کیونکہ جب آپ سرمایہ دار اور اشراف (نوبیلیٹی) کے درمیان تعلقات کو دیکھیں تو یہ سرمایہ دار اور مزدور طبقے کے درمیان تعلقات سے مختلف ہیں۔

یہ سچ ہے کہ سرمایہ داروں نے اشراف کو اکھاڑ پھینکا اور مزدور طبقے نے سرمایہ دار کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ یہ سچ نہیں کہ اشراف کے پاس ساری دولت تھی اور سرمایہ دار کنگال تھے۔ قبل از انقلاب سرمایہ دار امیر تھے۔ وہ اشراف کی طرف رخ کرسکتے تھے اور کہہ سکتے تھے ”ٹھیک ہے، تمھارے پاس زمین ہے؛ ہمارے پاس پیسہ ہے، ہمارے پاس بنک ہیں۔ جب تم دیوالیہ ہوجاوٴ گے تو تم اپنے آپ کو کیسے بچاوٴ گے؟تم اپنی اعلیٰ نسبی کا ملاپ ہمارے خزانے سے کردو، میری بیٹی سے شادی کی کوشش کرلو۔“ جب ان خیالات کو پیش کرنے کی باری آئی ،”ٹھیک ہے، تمھارے پاس مذہبی پیشوا ہیں ہماری پاس پروفیسر ہیں۔ تمھارے پاس انجیل ہے․․․ ہمارے پاس انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ساتھ آؤ ، آگے بڑھو۔“

سرمایہ دار اشراف کے نظریات سے ذہنی طور پر آزاد تھے۔ الٹا وہ اشراف پر کہیں زیادہ اثر انداز ہوئے۔ انقلابِ فرانس کا آغازles Etats gnraux (دی تھری اسٹیٹ) ․․․اشراف، مذہبی پیشوائیت اور درمیانے طبقے کے اجلاس سے ہوا۔ جب ووٹ تک معاملہ پہنچا تو یہ اشراف اور مذہبی پیشوا ہی تھے جنہوں نے سرمایہ داروں کا ساتھ دیا، نہ کہ اس کے الٹ ہوا۔

کیا ہمارا موٴقف بھی یہی ہے۔ ہم سرمایہ داروں کے پاس جا کر نہیں کہہ سکتے کہ ”ٹھیک ہے، تمھارے پاس فورڈ ، جنرل موٹرز اور آئی سی آئی ہے اور ہمارے پاس ایک جوڑا جوتے ہیں۔“ جہاں تک نظریات کا تعلق ہے تو میں نہیں جانتا کہ کتنے سرمایہ دار ’سوشلسٹ ورکر‘ (سوشلسٹ ورکرز پارٹی، برطانیہ کا ہفت روزہ) سے متاثر ہیں۔ لاکھوں مزدور ’سن‘ (سرمایہ داروں کا نمائندہ اخبار)سے متاثر ہیں!

بورژوازی کی انقلابی جماعت انقلاب کے عمل کے دوران سامنے آسکتی ہے۔ انہیں تیاری کی ضرورت نہیں تھی،وہ بااعتماد تھے۔ 14 جولائی 1789ء کو کیا ہوا۔ جیکوبنز کے رہنما رابس پیئر(Robesbierre) نے مشورہ دیا کہ لوئسXVI کا مجسمہ Bastile کے مقام پر بناتے ہیں۔وہ نہیں جانتا تھا کہ تین سال بعد وہ لوئسXVI کا سر اڑا دے گا۔ جیکوبنز کا نام کہاں سے آیا؟یہ اس خانقاہ سے آیا جہاں وہ ملے تھے۔ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ چار سال بعد انہوں نے چرچ کی زمین ضبط کرنی ہے تو وہ اپنا نام خانقاہ سے منسوب نہ کرتے۔

وہ آزاد تھے، وہ مضبوط تھے، وہ معاملات سے نپٹ سکتے تھے۔ ہماری صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ ہم ایک مظلوم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور سماج کو چلانے کے تجربے کی کمی کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ دار نہ صرف مادی ذرائع پیداوار کے مالک ہوتے ہیں بلکہ ذہنی ذرائع پیداوار کے بھی۔اسی لیے ہمیں جماعت کی ضرورت ہوتی ہے․․․ جماعت مزدور طبقے کی درس گاہ (یونیورسٹی) ہے۔

مارکس ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ میں کہتا ہے کہ کمیونسٹ مزدور طبقے کے بین الاقوامی اور تاریخی تجربے سے عمومی نتائج اخذ کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ صرف اپنے تجربے سے نہیں سیکھتے۔ میرا اپنا تجربہ بہت کم ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کا شاندار مختصر تجربہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو اسے عمومی بنانا ہے اور ایسا کرنے کے لیے آپ کو ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو ایسا کرے۔ میں ذاتی طور پیرس کمیون کے بارے میں نہیں جان سکتا ۔ میں وہاں نہیں تھا۔ 1871ء میں مَیں کم سن تھا! سو آپ کو کوئی چاہیے جو آپ کو معلومات دے۔

اس لیے ٹراٹسکی نے لکھا کہ انقلابی جماعت مزدور طبقے کا حافظہ ہوتی ہے۔

تین طرح کی مزدور جماعتیں

مزدور جماعتیں تین طرح کی ہوتی ہیں: انقلابی، اصلاح پسند اور وسطی (سنٹرسٹ)۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں انقلابی جماعت کی ماہیت(نیچر) ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

کمیونسٹوں کا امتیاز مزدور طبقے کی دوسری پارٹیوں سے صرف یہ ہے کہ (1) مختلف ملکوں کے پرولتاریہ کی قومی جدو جہدوں میں وہ ، قوم کی تخصیص کیے بنا، پورے پرولتاریہ کے مشترک مفادات کی نشان دہی کرتے ہیں اورانہیں سامنے لاتے ہیں۔ (2) بورژوا طبقے کے خلاف مزدورطبقے کی جدوجہد کواپنی نشوونما کے جن مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے ان میں وہ ہمیشہ اور ہر جگہ پوری تحریک کے مفاد کی ترجمانی کرتے ہیں۔

چنانچہ ایک طرف، عملاً، کمیونسٹ ہر ملک کی مزدور پارٹیوں میں سب سے پیش قدم اور ثابت قدم دستہ ہیں، وہ دستہ جو ہمیشہ اوروں کو آگے بڑھاتا چلتا ہے؛ دوسری طرف، نظریاتی طور پر، عام مزدوروں پر ان کو فوقیت یہ ہے کہ وہ مزدور تحریک کا آگے بڑھنے کا راستہ، حالات، اور حتمی عام نتائج کو صاف طور پر سمجھتے ہیں ۔

دوسری طرح کی مزدور جماعتیں اصلاح پسند ہوتی ہیں۔ 1920ء میں ہونے والی ’کمیونسٹ انٹرنیشنل‘ کی دوسری کانگرس کے دوران لینن نے لیبرپارٹی (برطانیہ)کی تعریف بطور ”سرمایہ دار مزدور جماعت“ کی۔

اس نے اسے سرمایہ دار کہا کیوں کہ لیبر پارٹی کی سیاست سرمایہ داری سے رشتہ نہیں توڑتی۔ اس نے اسے مزدور جماعت کیوں کہا؟ اس لیے نہیں کہ مزدور اسے ووٹ دیتے ہیں؟ اُس وقت زیادہ تر مزدور کنزرویٹو پارٹی کو ووٹ دیتے تھے؛ اور کنزرویٹو پارٹی بلاشبہ سرمایہ دارجماعت تھی۔ لینن نے لیبر پارٹی کو مزدور جماعت اس لیے کہا کیونکہ اس نے سرمایہ داری سے تحفظ کے لیے مزدوروں کی امنگوں کا اظہار کیا۔جب کوئی ٹیلی ویژن پر لیبر پارٹی کی کانفرنس دیکھتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ لیبر پارٹی کے اراکین ٹوری (کنزرویٹو) پارٹی سے مختلف خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ٹوری پارٹی کی کانفرنس میں تالیاں اس وقت بجتی ہیں جب مقررین ٹریڈ یونینسٹوں اور سیاہ فاموں پر چڑھائی کرتے ہیں، اور فوج، پولیس وغیرہ کی تعریف کرتے ہیں۔ لیبر پارٹی کی کانفرنس میں تالیاں اس وقت بجتی ہیں جب مقرر صحت کی بہتر سہولیات، بہتر تعلیم، رہائش وغیرہ کی ضرورت بیان کرتے ہیں۔

انقلابی اور اصلاح پسند پارٹی کے درمیان ایک تیسری طرح کی جماعت ہوتی ہے، یہ ہیں وسطی جماعتیں۔ان کی بنیادی خصوصیت پیوند لگانا ہے۔ یہ نہ اِس طرف ہوتی ہیں، نہ اُس طرف ۔ ایک سے دوسری طرف جھولتی ہوئی۔ ایک گھوڑے سے مزید گھوڑے پیدا ہوتے ہیں اور گدھے سے مزید گدھے۔ جب گھوڑا اور گدھا ملاپ کرتے ہیں تو خچر پیدا ہوتا ہے۔ خچر سے کچھ پیدا نہیں ہوتا، یہ بانجھ ہوتا ہے۔ انقلابی جماعت کے ساتھ ایک تاریخی تسلسل موجود ہے۔ اس میں اونچ نیچ آتی ہے مگر یہ جاری رہتا ہے۔ لیکن وسطیت پسندوں کے ساتھ معاملہ ایسا نہیں۔ 1940ء میں پی او یو ایم (ورکرز پارٹی آف مارکسسٹ یونی فیکیشن) جماعت کے سپین میں 40,000 ممبران تھے۔ اب پی اویو ایم ڈو ڈو(پرندہ) کی طرح ناپید ہوچکی ہے۔ 1945ء کے عام انتخابات سے ’انڈی پنڈنٹ لیبر پارٹی‘ کے برطانیہ میں چار ممبر پارلیمنٹ بنے تھے۔ اب آئی ایل پی کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ جرمنی میں ’ایس اے پی ‘سے اسی طرح کی کہانی جڑی ہے جو ایسے لوگوں کا امتزاج تھی جو دائیں بازو، Blandlerite ، کے پی ڈی (جرمن کمیونسٹ پارٹی) ، ایس پی ڈی کے مصلحت پسند (پیسیفسٹ) عناصر اور دیگر طرح طرح کے لوگ شامل تھے۔ 1930ء میں یہ خاصی بڑی جماعت تھی۔ اب اس کا کوئی نشان باقی نہیں۔

ایک انقلابی مزدور طبقے کو سکھاتا اوراس سے سیکھتا ہے

ماضی کے تمام تجربات کی بنیاد پر انقلابی جماعت کو مزدور طبقے کی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔ صحیح، جماعت مزدوروں کو پڑھاتی ہے، لیکن یہ سادہ سا سوال اٹھتا ہے : ”استاد کو کون پڑھاتا ہے؟“ یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ مزدور طبقہ ہمیں پڑھا سکتا ہے۔ تمام اہم نظریات خود مزدوروں سے آتے ہیں۔

اگر آپ مارکس کا کمیونسٹ مینی فیسٹو پڑھیں تو وہ مزدوروں کی حکومت، یعنی پرولتاریہ کی آمریت کی بات کرتا ہے۔ پھر 1871ء میں وہ لکھتا ہے کہ مزدور پچھلے ریاستی نظام کو گرفت میں نہیں رکھ سکتے: انہیں اسے پاش پاش کرنا ہو گا، پچھلی مستقل فوج، بیوروکریسی، پولیس۔ہمیں اس سارے درجہ وار ڈھانچے کا قلع قمع کرنا ہو گا اور ایک نئی ریاست قائم کرنا ہوگی۔ ایک ریاست جہاں مستقل فوج یا بیوروکریسی نہ ہو، جہاں عہدے دار منتخب ہو کر آئیں، جہاں عہدے دار اسی شرح سے اجرت حاصل کریں جو مزدور کی اوسط کے برابر ہے۔ کیا اس (مارکس) نے اس کا پتا اس لیے لگا لیا کیونکہ اس نے ’برٹش میوزیم‘ میں بہت محنت کے ساتھ کام کیا؟ نہیں نہیں۔ ہوا یہ تھا کہ مزدوروں نے پیرس میں جب اقتدار پر قبضہ کیا تو یہی وہ کام تھے جو انہوں نے کیے۔

مارکس نے ان سے سیکھا۔ سٹالن اسٹ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لینن نے سوویت کا تصور تخلیق کیا۔ بلاشبہ سٹالن اسٹوں کے لٹریچر میں سب کچھ لینن نے تخلیق کیا! اُن کے ہاں مذہبی درجہ بندی کا تصور ہے ۔ہمارے پاس لینن کی مراسلت ہے، اور جب1905ء میں پیٹروگراڈ میں مزدوروں نے پہلی سوویت قائم کی تو لینن نے چار دن بعد لکھا ․․․ یہ کیا بلا ہے؟

جدوجہد کے دوران مزدوروں کو نئی طرز کی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ مشکلوں سے گزر کر سیکھا ہے کہ اگر ایک کارخانے میں ہڑتالی کمیٹی ہو گی تو انقلاب کے وقت وہ موٴثر نہیں ہو گی۔ آپ کو ایسی ہڑتال کی ضرورت ہے جو تمام کارخانوں پر محیط ہو۔ اور یہی سوویت تھی: معاملات پر حاوی ہونے کے لیے تمام کارخانوں سے نمائندوں کا اکٹھ۔ انہوں نے ایسا کیا۔ لینن نے رہنمائی لی۔ جماعت کو طبقے سے ہمیشہ سیکھنا ہوتا ہے، سدا۔

کیا جماعت ہمیشہ طبقے سے آگے بڑھی ہوتی ہے؟ جواب ہے عام طور پر انقلابی جماعت طبقے سے پیش قدم ہوتی۔ وگرنہ وہ انقلابی جماعت نہیں رہے گی۔ پس جب 1914ء آیا اور پہلی جنگِ عظیم پھوٹ پڑی تو بالشوویک طبقے سے کہیں آگے تھے۔بالشوویک جنگ کے خلاف تھے جبکہ مزدوروں کی اکثریت اس کی حامی تھی۔

پھر 1917ء آیا۔ 1917ء میں آپ دیکھیں گے کہ اگست اور ستمبر میں لینن نے بار بار کہا کہ پارٹی طبقے سے پیچھے ہے، طبقہ پارٹی سے آگے ہے اور ہمیں جلد دوڑ کر طبقے کے ساتھ ہونا ہے۔ وجہ سادہ سی ہے۔ اتنے لمبے عرصے سے مزدوروں کے اعتماد میں کمی آچکی تھی سو وہ پارٹی کے پیچھے کھڑے تھے۔ صورتِ حال میں تبدیلی آئی اور وہ انتہائی تیزی سے تبدیل ہوئے۔

انقلابیوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی بقا کے لیے بندھے ٹکے کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ معمول آپ میں سرایت کرجاتا ہے۔ آپ یوں ہی یہ مان لیتے ہیں کہ آپ مزدور طبقے سے آگے ہیں۔ لیکن جب مزدور حرکت کرنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ تو اتنے پیچھے ہیں! انقلابی جماعت کو مزدور طبقے کو جا لینا ہوگا۔ جماعت محض افراد کا گروہ نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ وہ انقلابی ہیں اور تب سے انہیں ہر موقع پرانقلاب کی رہنمائی کرنا ہوگی۔تو یہ بکواس ہے۔ آپ کو رہنمائی کرنے کے لیے بار بار لڑنا پڑتا ہے۔ آپ کو ہر وقت سیکھنا پڑتا ہے تاکہ ہر وقت آگے بڑھ سکیں۔

ایسا صرف انقلاب کے وقتوں میں نہیں ہوتا۔ آپ اپنے کام کی جگہ پر کوئی ایسا دیکھ سکتے ہیں جو گزشتہ 20 سال سے ایس ڈبلیو پی ( سوشلسٹ ورکرز پارٹی) کے ساتھ ہے، ایک اچھا کامریڈ ہے، اور کوئی ایک وہ ہے جو بالکل نیا ہے، جو چند ماہ قبل شامل ہوا ہے اور جب سرگرمی کی باری آتی ہے تو 20 سال پہلے شامل ہونے والے کے مقابلے میں نیا کامریڈ کہیں آگے ہوتا ہے۔آپ کو ایسی مثالیں بار بار ملیں گی۔

آپ لیڈر شپ اس طرح حاصل نہیں کرتے جس طرح بینک سے رقم۔ اگر آپ کی رقم بنک میں ہے تو آپ کو منافع ملتا ہے۔ لیڈرشپ کا معاملہ بالکل ایسا نہیں ۔ آپ کو ہر روز، ہر ماہ اپنی لیڈر شپ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ پس انقلابیوں کو یہ شمار کرنا ہے کہ انہوں نے پچھلے ہفتے کیاکیا ، اس ہفتے وہ کیا کررہے ہیں اور اگلے ہفتے وہ کیا کریں گے۔ آپ 100 سال کے کُل تجربات سے سیکھ سکتے ہیں مگر اہم چیز یہ ہے کہ آپ اس ہفتے کیا کررہے ہیں۔ آپ کو لیڈر شپ کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔

اصلاح پسند جماعتوں کے ممبران غیر متحرک اور صلح جو ہوتے ہیں

چونکہ اصلاح پسند جماعت زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے اس لیے وہ کم سے کم منسوب ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ خود کو موجود نظریات کے مطابق ڈھالتی ہے۔

کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ لیبر (پارٹی) اراکینِ پارلیمنٹ میں سے کوئی بھی ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں پر ہونے والے جبر کے بارے میں نہیں جانتا؟ لیکن پھر بھی 1987ء کے انتخابات کے دوران پیٹریشیا ہیویٹ جو نیل کینک کی سیکریٹری ہے، نے ’سن‘ (جس کی سب نقالی کرتے ہیں) کو اس ”دیوانے دائیں بازو“ پر (جماعت کی)کونسلوں کے اندر ہونے والی چڑھائی کی خفیہ خبر پہنچائی جو ہم جنس پسندوں مرد و عورت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اس نے یہ سوچا کہ مقبول ہونے کا یہ ایک ذریعہ ہے۔ میرے پا س ایک جان سٹریچے نامی شخص کا لیفلٹ ہے ۔ وہ خود کو مارکسی کہتا ہے۔ 1929ء کے انتخابات میں وہ پارلیمانی نشست کے لیے کھڑا ہوا اور اس کا ایک مسئلہ تھا ․․․ وہ یہودی دکھائی دیتا تھا۔ سو اس نے ایک لیفلٹ جاری کیا جس کا عنوان تھا ’جان سٹریچے برطانوی ہے‘ اور ہر اس فرد کو عدالت میں چیلنج کرنے کا کہا جس نے اسے یہودی کہا تھا۔مجھے کہنا چاہیے کہ میں یہودی (دِکھتا) ہوں اور اگر ایس ڈبلیو پی کے کسی ممبر کو یہودی کہا جاتا ہے تو وہ کہے گا کہ ” بلاشبہ میں ایک یہودی ہوں۔ مجھے اس پر فخر ہے۔“ آپ اس سے انکار نہیں کریں گے۔

لیکن اگرآپ زیادہ تعداد چاہتے ہیں تو آپ کو موجود نظریات سے صُلح کرنی ہوگی۔ اصلاح پسند جماعتیں اس لیے بڑی جماعتیں ہیں مگر یہ انتہائی غیر متحرک ہیں، مثال کے طور پر ایک کتاب ہے ’لیبر کی بنیادیں‘ (Labour’s grassroots) جس میں عمر کی ترکیب دی گئی ہے۔ 1984ء میں ’لیبر پارٹی ینگ سوشلسٹس‘ کی 573 شاخیں تھیں مگر1990ء میں صرف 15۔ 66 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ممبران کی تعداد 25 سال او راس سے کم عمر ممبران سے تین گنا زیادہ تھی۔ لیبر پارٹی کے ممبران سے پوچھا گیا کہ وہ ایک ماہ میں لیبر (جماعت) کی سرگرمیوں کے لیے کتنا وقت وقف کرتے ہیں: 50 فیصد نے کہا کوئی نہیں، 30 فیصد نے کہا ایک ماہ میں پانچ گھنٹے یعنی ایک ہفتے میں ایک گھنٹہ، اور صرف 10 فیصد نے کہا کہ پانچ سے 10 گھنٹوں کے درمیان وقت۔

انتہائی غیر متحرک ․․․یہ ہے لیبر پارٹی کی ماہیت۔ اسی سکے کا دوسرا رخ بیوروکریٹک کنٹرول ہے۔ بیوروکریٹوں کا جماعت پر غلبہ ہے۔

پھر ایک فرقہ ہوتا ہے۔ اس کے ممبران بالکل صاف کہتے ہیں، ”ہم صرف ان لوگوں کے ساتھ مارچ کر سکتے ہیں جو ہم سے متفق ہوں۔ ہم صرف ان لوگوں کی فکر کرتے ہیں جو ہم سے متفق ہیں۔“

انقلابی وہ ہوتے ہیں جو مزدور طبقے کے بڑے حصے سے الگ ہوتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ مزدور طبقے کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔ انقلابیوں کے لیے سوال یہ ہوتا ہے کہ کیسے غیر انقلابی مزدوروں سے جڑاجائے۔ان لوگوں سے کیسے جڑیں جو آپ سے 60 فیصد اتفاق نہیں کرتے اور کیسے، جدوجہد کے ذریعے، آپ اسے 80 فیصد تک لا سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک فرقہ پرست ہیں تو کہیں گے، ”40 فیصد پرآپ مجھسے اتفاق نہیں کرتے، مجھے آپ کی کوئی پرواہ نہیں“ اگر آپ انقلابی ہیں تو کہتے ہیں 60 فیصد پر ہمارا اتفاق ہے، چلیں اسی سے شروع کرتے ہیں اورجس40 فیصد پرہمارا اختلاف ہے میں آپ کو اس پر دلائل دو ں گا۔

جمہوری مرکزیت

انقلابی جماعت کا ڈھانچہ کیسا ہو؟ ہم جمہوری مرکزیت کے بارے میں کیوں بات کرتے ہیں؟

آئیے پہلے یہ سمجھیں کہ ہمیں جمہوریت کی ضرورت کیوں ہے؟اگر آپ لندن سے برمنگھم جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک بس اور ایک ڈرائیور کی ضرورت ہو گی۔ آپ کو جمہوری مباحثے کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ یہ پہلے ہو چکا پس ہمیں ایک اچھی بس اور اچھا ڈرائیورچاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داری سے سوشل ازم کی طرف عبور ایسی چیز ہے جس کا ہم نے کبھی تجربہ نہیں کیا۔ ہم نا واقف ہیں۔

اگر آپ ناواقف ہیں توسیکھنے کا ایک طریقہ ہے، طبقے میں جڑیں رکھتے ہوئے اور اس سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ سکھانے کا صرف ایک طریقہ ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا شرح منافع میں کمی واقع ہو رہی ہے تو ،مارکس کے صحیح ہونے کی صورت میں، ووٹنگ کرانے کی ضرور ت نہیں! یہ لا یعنی ہو گا۔ یا یہ بات درست ہو گا یا غلط۔ اس بارے میں سوچیں، پڑھیں اور فیصلہ کریں۔

ایسے معاملات بھی ہیں جن پر ووٹنگ ہونا ضروری ہے۔ ہر وہ چیز جس کا ہماری جدوجہد سے تعلق ہے،اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہم تو محض نا واقف ہیں۔ کیونکہ اگر ”مزدور طبقے کی آزادی مزدور طبقے کے عمل سے ہے“ تو مزدور طبقہ اپنے تجربے سے ہمیں سکھائے گا۔

1917ء کے’ جولائی دنوں‘ (جب پیٹروگراڈ میں مزدوروں کے اچانک مظاہرے شروع ہو گئے) میں جب لینن چُھپتا پھر رہا تھا اور بالشوویک پارٹی غیر قانونی ہوچکی تھی اور اس کے پریس کو کچل دیا گیا تھا، لینن ایک خوبصورت ذکر کرتا ہے۔ بالشوویکوں پر الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ وہ جرمنوں کے ایجنٹ ہیں۔ لینن کو نہیں پتہ تھا کہ ردِعمل کی قوت کس قدر مجتمع ہو چکی ہے۔ وہ ایک مزدور کے ساتھ کھانا کھانے کا تذکرہ کرتا ہے جس کے ساتھ وہ چھپا ہوا تھا۔ مزدور اسے چپاتی دیتا ہے اور کہتا ہے، ”چپاتی اچھی ہے۔وہ، سرمایہ دار طبقہ ،ہم سے خوف زدہ ہے۔“ لینن کہتا ہے:

جس لمحے میں نے اسے سنا میں نے قوتوں کے طبقاتی تعلق کے بارے میں سمجھ لیا۔ میں جان گیا کہ مزدور سرمایہ داروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں کہ وہ ابھی تک ہم سے خوف زدہ ہیں، باوجود اس کے کہ ہماری حیثیت قانونی نہیں، باوجود اس کے کہ ہمیں پیٹا گیا ہے، پھر بھی ردِانقلاب کی فتح نہیں ہوئی ہے۔

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مزدور بااعتماد ہیں تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟آپ پریس کے ذریعے رائے دہی نہیں کراسکتے، وہ آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ ہر ایک فرد سے نہیں مل سکتے۔

آپ نیچے تک جمہوریت کے بغیر مزدور کا انقلاب نہیں لا سکتے۔ اور انقلاب ہے مزدور طبقے کو حکمران طبقہ بنانے کا نام، تاریخ میں سب سے زیادہ جمہوری نظام لانے کا نام۔سرمایہ داری ، جس میں آپ ہر پانچ سال بعد کسی کو اپنی غیر نمائندگی کے لیے چنتے ہیں، کے برخلاف ادھر قصہ بالکل مختلف ہے۔ سرمایہ داری میں آپ ممبر پارلیمنٹ چنتے ہیں، آجر نہیں۔ جمہوریت میں ہم اس پر ووٹ نہیں دیتے کہ آیا یہ ایک فیکٹری بند ہونی چاہیے۔ ہم فوجی افسروں اور ججوں کو منتخب نہیں کرتے۔ مزدوروں کی حکومت میں ہر شے مزدوروں کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ ہر شے مزدوروں کے اختیار میں ہوتی ہے۔ یہ جمہوریت کی انتہائی شکل ہے۔

تو اگر یہ سب درست ہے تو ہمیں مرکزیت کی ضرورت کیوں ہے؟

اول،تجربہ ناہموار ہے، مزدوروں کے مختلف تجربات ہیں، آپ کو اس تجربے کو یکجا کرنا ہے۔ یہاں تک کہ انقلابی جماعتوں میں ممبران پر مختلف دباوٴ اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ عمومی حالات سے متاثر ہوتے ہیں اور مزدوروں کے اس حصے سے جن سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔ اس قطعہ بندی (sectionalism) ،اس محدود تجربے پر قابو پانے کے لیے آپ کو سارے تجربے اور اور تقسیم کو مرکزیت دینا ہوتی ہے۔ اگر آپ کا دشمن سے جوڑ نہیں تو آپ کبھی جیت نہیں سکتے۔

میں کبھی مصلحت پسند (پیسی فسٹ) نہیں رہا۔ اگر کوئی میرے اوپر چھڑی استعمال کرتا ہے تو میرے پاس اس سے بڑی چھڑی ہونی چاہیے! میرا نہیں خیال کہ مارکس کے ’سرمایہ‘ میں سے کوئی قول کسی پاگل کتے کو میرے اوپر حملہ کرنے سے روک سکتا ہے۔ ہمارا ہمارے دشمنوں سے جوڑ (متشاکل تناسب)ہونا چاہیے۔ اسی لیے مجھے اس وقت انارکسسٹوں کی سمجھ نہیں آتی جب وہ آ کر کہتے ہیں کہ انہیں ریاست کی ضرورت نہیں۔ سرمایہ داروں کے پاس ایک ریاست ہے ۔ آپ ایک مخالف ریاست کے بغیر اس ریاست کو کیسے پاش پاش کر سکتے ہیں؟

انارکسسٹ ہمیشہ ریاست سے انکار کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس خاصی طاقت آئی تو وہ حکومت میں شامل ہوگئے ۔ یہی انہوں نے سپین میں خانہ جنگی کے دوران کیا جب انہوں نے حکومت میں شمولیت اختیار کر لی۔ کیوں؟ اس لیے کہ کسی شے کی مکمل نفی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ پاش پاش نہ ہوجائے اور اگر آپ نے اسے پاش پاش کرنا ہے تو آپ کو اس کا متبادل لانا ہوگا۔ تبادلے کے کے لیے پاس کیا ہے؟ مزدوروں کی مسلح جمعیتیں۔ اور اسی کا نام مزدور ریاست ہے۔

ایک کثیر تعداد انقلابی جماعت کی ضرورت

جب ہم ایسی پارٹی کی بات کررہے ہوتے ہیں جو طبقے کی رہنمائی کررہی ہو تو یہ صرف تجربے، علم اور استحکام کا سوال نہیں۔ لیڈرشپ کو لازماً مزدوروں کی زبان استعمال کرنی چاہیے۔ ان کا باطن مزدور جیسا ہو۔ آپ کو ان سے جڑنا ہوگا کیونکہ یہی لیڈشپ ہے، آپ بات کرتے ہیں اور سنتے ہیں۔ آپ صرف بات نہیں کرتے رہتے۔ آپ اس زبان میں بات کرتے ہیں جسے وہ سمجھتے ہیں۔

لیکن یہ کافی نہیں۔ ہمیں ایک بڑی جماعت کی ضرورت ہے۔ مزدور طبقے کی رہنمائی کے لیے آپ کو کثیر تعداد جماعت(ماس پارٹی) کی ضرورت ہے۔ ایس ڈبلیو پی دنیا میں سب سے چھوٹی کثیر تعداد جماعت ہے۔ یہ ایک ننھی سی جماعت ہے۔ 1914ء میں بالشوویک پارٹی کے 4,000 ممبران تھے۔ فروری 1917ء کے انقلاب کے بعد ممبران کی تعداد 23,000 ہو گئی۔ اگست 1917ء میں ان کی تعداد دو لاکھ بیس ہزار تھی۔ دو لاکھ بیس ہزار سے آپ 30 لاکھ پر مبنی صنعتی مزدور طبقے کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔

جرمن کمیونسٹ پارٹی کے 1918ء میں 4,000 ممبران تھے۔ اگر وہ سارے کے سارے غیرمعمولی ذہین ہوتے تو بھی وہ انقلاب فتح نہیں کرسکتے تھے۔ آپ کو ایک جسیم جماعت چاہیے کیونکہ رہنمائی کرنے کے لیے آپ کو ہر کارخانے میں بنیادیں چاہئیں۔

میں نے ’جولائی دنوں‘ کا ذکر کیا تھا۔ جب لینن پر لزام لگایا گیا کہ وہ جرمن ایجنٹ ہے تو پوٹیلوف فیکٹری میں 30,000 میں سے 10,000 مزدوروں نے ہڑتال کی کہ انہیں لینن پر بھروسہ ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ پوٹیلوف فیکٹری میں 500 بالشوویک موجود تھے۔

اگر آپ کروڑوں کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو لاکھوں کی جماعت چاہیے۔ یہاں تک کہ’ اے این ایل جشن(نازی مخالف )میں 150,000شریک ہوتے ہیں، یہ ایک حیرت انگیز کارِنمایاں ہے ، لیکن انقلاب کے لحاظ سے پھر بھی چھوٹا ہے۔ صرف اسی کو منظم کرنے کے لیے ہمیں ایس ڈبلیو پی کے چھے، سات یا آٹھ ہزار ممبران کی ضرورت ہوگی۔ مجھے نفرت ہوتی ہے جب لوگ سوچتے ہیں کہ مارکس ازم کسی طرح کی ذہنی مشق ہے: ہم چیزوں کی وضاحت کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں، ہم زیادہ ہوشیار ہیں۔ مارکس ازم تو عمل سے متعلق ہے اور عمل کے لیے آپ کو جسامت چاہیے۔ عمل کے لیے آپ کو قوت چاہیے۔ ہمیں ایک کثیر تعداد جماعت کی ضرورت ہے ․․․5 لاکھ کی۔

 مترجم: رضوان عطا

(نوٹ: یہ تحریر ٹونی کلف کی کتاب ’مارکس ازم ایٹ میلینیم‘ کا باب دوم ہے)

One thought on “ہمیں ایک انقلابی جماعت کی ضرورت کیوں ہے؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s