لاہور میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا احوال

لاہور میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا احوال

رضوان عطا

میں ایک بجے کے قریب جب لاہور کے ایک چوک سے گزرا تو دیکھا کہ چند نوجوان تحریکِ انصاف کا جھنڈا اٹھائے موٹر سائیکلوں پر جارہے ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ جلسہ تو دو بجے ہے اور ہمارے ہاں مقررہ  وقت کے کئی گھنٹوں بعد جلسے شروع ہوتے ہیں تو یہ نوجوان اتنی جلدی کیوں جارہے ہیں! یہی سوچ ہی رہا تھا کی میں نے بس کی چھتوں پر اور ویگنوں کے اندر اچھلتے، نعرے لگاتے اور گپیں مارتے نوجوانوں کو دیکھا۔ محسوس ہونے لگا کہ جلسہ بڑا ہوگا۔

بائیں بازو کے بعض دوستوں کے برخلاف میں کم و بیش ایک سال سے نجی محفلوں میں یہ کہہ رہا تھا کہ لاہور (اور بہت سے دیگر علاقوں) میں لوگوں نے عمران خان کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ وہ کیوں؟ رکشے والوں سے پوچھتا آرہا ہوں، طالب علموں سے پوچھتا آرہا ہوں، نچلے درجے کے سیاسی کارکنوں سے، دکان داروں سے ۔۔۔۔ ان کے الفاظ جو بھی ہوں جملوں کی ترتیب جیسی ہو، اخذ یہی ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ عمران خان کی طرف ہے، مگر کس قدر؟ آج (تیس اکتوبر) ہی کو تو دیکھنا تھا۔

ایک دوست جو مینارِ پاکستان پر موجود تھا نے چار بجے کے لگ بھگ اطلاع دی کہ بیس سے پچیس ہزار لوگ پہنچ چکے ہیں، لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ دیر قبل کسی اور راستے سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا آج بہت سے لوگ موٹر سائیکلوں، رکشوں، ویگنوں وغیرہ میں بڑی تعداد میں رواں دواں ہیں۔ میں بھی پانچ بجے کے قریب اسی جانب چل پڑا۔

ناصر باغ پہنچنے پہنچنے مجھے لگ پتا گیا کہ آج شہر بدلا ہوا ہے۔ بڑی تعداد رواں دواں ہے۔۔۔۔ پینٹ شرٹ (برانڈڈ اور لنڈے والی دونوں) میں اور قمیص شلوار ( صاف ستھری اور میلی کچیلی دونوں) میں بھی ملبوس۔ ناصر باغ سے آگے رش کی وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک بلاک تھی، مینارِ پاکستان تک ،شاید تین کلومیٹر کا فاصلہ، پیدل طے کرتے ہوئے چند دھکے بھی نصیب ہوئے، گاڑیوں اور لوگوں کا رش جو اتنا تھا! بچتے بچاتے یوں چل رہا تھا جیسے ۔۔۔۔ "راستہ تلاش کریں"۔

دو دن قبل جب مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے آخر میں میں گیا تھا، توواپس آتے پندرہ بیس لوگوں سے بات ہوئی جن میں سے دو یا تین لاہور سے تھے، باقی اردگرد سے آئے تھے اور انہیں آنے جانے کا انتظام کر کے دیا گیا تھا۔ زیادہ تر نے کہا جلسہ ٹھیک رہا، میرے اندازے کے مطابق پچیس تیس ہزار کی شرکت تھی۔ ایک سرکاری ملازم بھی ملا جس نے بتایا حاضری لگوانا تھی۔ اس کا تقابل تیس اکتوبر سے مت کریں۔ اس دن اردگرد سے تو لوگ آئے ہی تھے مگر لاہوریوں کی تعداد کا تناسب بہت زیادہ تھا، تقریباً ساٹھ ستر فیصد کی عمریں تیس سال سے کم تھیں۔ راستے میں چلتے ہوئے اور مینارِ پاکستان کے وسیع و عریض میدان میں پہنچ کر یہی دیکھا۔ کیا نظارہ ہے

اس میدان میں کچھ نشستوں پر بیٹھے ہیں کچھ ٹولیوں کی صورت گھوم رہے ہیں، کچھ عمران سے قبل ہونے والی تقریروں کو غور سے سن رہے ہیں اور ردِعمل کا اظہار نعروں اور شور مچا کر کررہے ہیں، اور ہاں کچھ اپنے بیوی بچوں سمیت بھی آئے ہوئے ہیں۔ گہما گہمی بھی ہے اور عمران خان کا انتظار بھی۔ کہیں کہیں نوجوان ہلڑ بازی کر رہے ہیں، کہیں قہقہے لگ رہے ہیں۔ کھاتے پیتے گھروں کے نوجوانوں کا انداز اپنا ہے۔ ایک آدھ مقام پر چرس کی بو (یا خوش بو) سونگھی جا سکتی ہے۔

اردگرد اور پیچھے کے سپیکر اچانک بند ہو جاتے ہیں، پیچھے آواز کم ہونے سے کچھ لوگ آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ بد مزا ہوتے ہیں اور کچھ کو یاروں سے گپیں لگانے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ مینارِ پاکستان کے وسیع احاطے کے اردگرد لگے لوہے کے جالوں کے اُس پار، سڑک کنارے، بھی ہجوم ہے اور اندر جلسہ گاہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔

سوائے دخلی راستوں کے ہجوم کو کنٹرول کرنے والے موجود نہیں، شرکا یہ بندوبست خود ہی کر رہے ہیں۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ہاں ایک ہٹے کٹے نوجوان پشتوں نے اپنے سے آگے والے تھوڑے کمزور شخص کو اس بات پر زور دار دھکا دیا کہ وہ آگے والے کو کہہ رہا تھا "یار میں کیا کروں مجھے تو پیچھے سے دھکے مل رہے ہیں"۔ بہر حال اس زور دار دھکے اور گرج دار پشتو سننے کے بعد کمزور نے ہار مان لی اور یوں معاملہ "ٹھیکہوگیا۔ لگا یہ وہ پشتون نہیں جو لاہور مزدوری کے لیے آتا ہے اور دبا دبا رہتا ہے۔ جلسے میں پشتون موجود ہیں مگر زیادہ نہیں۔ خیبر پختون خواہ و قبائلی علاقوں سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے دیگر علاقوں سے بھی۔

سفید بالوں والے بھی موجود ہیں لیکن خال خال، ایسے ماحول میں ان کی سنجیدگی کو بالعموم سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا، درمیانی عمر کے لوگوں کی زیادہ تر تعداد بھی سنجیدہ ہے، اور اپنے سے بڑوں کی طرح شاید عمران خان کی تقریر کے لیے بے تاب۔

اسی دوران میں سٹیج پر مائیک سنبھالنے والا کہتا ہے کہ پرویز رشید نے کہا تھا کہ اگر مینارِ پاکستان پر پچاس ہزار بھی اکٹھے ہو گئے تو وہ سینیٹ کی سیٹ سے استعفیٰ دے دیں گے، اگر وہ پنڈال میں موجود ہیں تو میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ سٹیج پر تشریف لائیں۔ پنڈال سے شور اٹھتا ہے، ہو ہو کی آوازیں آتی ہیں۔ تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہو چکی ہے۔۔۔۔

عمران خان کی سٹیج پر آمد کے اعلان کے ساتھ پھر ایک شور اٹھتا ہے اور کئی جھنڈے لہراتے ہیں۔ ہجوم کا درمیانہ اور پیچھے والا حصہ ایڑیاں اٹھانے لگتا ہے اور کئی کرسیوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، اونچی اور سٹیج کے قریب جگہوں کی قدرو منزلت بڑھ جاتی ہے۔

لیجیے عمران خان نے تقریر شروع کی اور ساتھ ہی پہلی وضاحت کہ لاہور سے ہم نے آغاز کیوں کیا۔ جواب قائدِ اعظم، علامہ اقبال کے حوالے دے کر۔۔۔ تحریکِ پاکستان کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے۔ اسلام کو یہاں پھیلانے والے داتا گنج بخش کے حوالے سے۔ سو بقول عمران خان ایک نئے پاکستان کے لیے تحریک انصاف نے مقام کے تعین میں بالکل انصاف کیا ہے۔ تینوں ہستیاں اور ان کے مقصد یہاں اہم شمار ہوتے ہیں۔ پس حوالوں کا انتخاب خوب اور روایتی ہے۔

اس کے بعد عمران نے رائیونڈ اور اسلام آباد والوں کو سونامی سے ڈرایا ( اگرچہ پنجاب لینڈ لاک ہے) انہوں نے خبردار کرنے والے انداز میں کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو پارٹنر شپ توڑنا آتی ہے۔

اب آئی آصف زرداری کی باری۔ عمران نے بھٹو اور زرداری میں فرق بتایا۔ خان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کی تین خوبیاں تھیں؛ وہ نیشنل اسٹ تھا، امپیریل ازم کے خلاف تھا اور روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والا تھا۔ عمران خان نے یہ ظاہر کی کوشش کی کہ آصف علی ذوالفقار علی کی ضد ہے۔ پاکستان میں بھٹو سے ملتی جلتی خصوصیات کے عوامی رہنما کی کمی کا احساس دلایا گیا۔

اب عمران نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو بقول ان کے پاکستانی فوج سے ڈرتا ہے اور امریکیوں کے جوتے پالش کرتا اوریہ ہیں حسین حقانی جو امریکہ کی مرضی کے جرنیل پاکستان لانا چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے عمران حقانی کو اچھا میڈیئٹر نہیں سمجھتے۔ پاک، امریکا تعلقات میں ملوث بعض دیگر حلقوں کی بھی یہی رائے ہے۔ بھلا وہ کون کون سے ہیں؟

دو دن قبل "میاں صاحبکے جلسے کو پٹواریوں کا جلسہ کہنے بعد عمران اپنے پروگرام کی طرف بڑھتے ہیں۔ اور ابتدا ہوتی ہے امارت سے۔ عمران بتاتے ہیں کہ پاکستان ایک امیر ملک ہے۔ ویسے یہ تو ہم سب کو پتا ہے کہ پاکستان میں بہت سے امیر ہیں لیکن عمران بات ذرا اور ڈھنگ سے کر رہے ہیں۔ وہ زور دار طریقے سے پنجاب کے مرکز میں ہونے والے جلسے میں بتاتے ہیں کہ یہاں معدنیات کے ذخیرے ہیں اس لیے "ملکامیر ہے۔ مگر پھر بھی لوڈشیڈنگ ہے، ٹیوب ویل بند ہے (چھوٹے، درمیانے درجے کے کسان کا مسئلہ)، پڑھائی نہیں ہوتی (درمیانے نچلے درجے کے نوجوان کا مسئلہ)، فیکٹریاں بند ہیں (سب سے بڑھ کر مالکان کا مسئلہ)، بے روزگاری ( ایک اور مسئلہ!)۔ عمران کے مطابق یہ سب مسئلے موجود ہیں باوجود اس کے کہ 180 ارب ٹن کوئلہ یہاں پڑا ہے جو بڑے پیمانے پر بجلی بنانے کے کام آسکتا ہے۔

عمران خان کوئلے میں اتنے سارے اور اتنے طبقوں کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کے بعد یہ بتاتے ہیں کہ پانی کے ذریعے کتنے میگا واٹ سستی بجلی بن سکتی ہے جو کمیشن کھانے کے بہانے نہیں بنائی جارہی۔ دوسری سانس میں حل؛ ہم ساٹھ سے ستر فیصد پر جنریشن پلانٹ چلا کر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کر دیں گے۔

پھر عمران نے کرپشن کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جو مہنگائی، بے روزگاری اور امریکا کی غلامی کا باعث ہے۔ اور ٹیکس چوری کو بھی۔ وہ سیاسی لیڈروں کے اثاثے ڈیکلیئر کرانے کے لیے بے تاب اور سوئس بینکوں میں پڑی رقم واپس لانے کے لیے بے تاب نظر آئے، اور میرے ذہن میں ایک سوال چند لمحوں کے لیے اٹھا کہ اثاثے صرف سیاست دانوں کے تو نہیں ہوتے اور رقوم صرف سوئس بینکوں میں نہیں ڈالی جاتیں۔ ہے نا!

اب پٹواریوں کی باری ہے، بیچارے پٹواریوں کو بڑی طرح پیٹا گیا اس جلسے میں۔ انہیں نیست و نا بود کرنے کا پروگرام ہے عمران صاحب کا، کمپیوٹر کے ذریعے۔ ان کے مطابق عوام (دیہی) کو تھانہ، کچہری اور پٹواری نے جکڑا ہوا ہے۔ تھانہ کی وہ اصلاح کریں گے اور پٹواری کی تحلیل سے عوام آزاد ہو جائیں گے۔ نیا بلدیاتی نظام لاکر گاؤں کی آزادی کے پلان کا ذکر ہوا، کچھ زیادہ پیش نہیں ہوا۔

عمران خان لاہور میں ہونے والے جلسے میں بھی بلوچستان کو نہیں بھولے۔ انہوں نے پہلے بلوچستان کی اہمیت سے آگاہ کیا اور تانبے اور گیس کے ذخائر کا تخمینہ بتایا۔ پھر بلوچی (بلوچ) بھائیوں کو ساتھ لے کر چلنے، ملڑی آپریشن اور ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا۔ ظاہر ہے اس وقت احتجاجی تحریک کے ذریعے نہیں بلکہ اقتدار میں آنے کے بعد۔

انہوں نے دہشت گردی کی جنگ کو امریکی جنگ قرار دیتے ہوئے خود اس سے نکلے اور افغانستان سے امریکیوں کو نکلنے میں مدد دینے کی بات کی۔ اس جنگ پر دیگر باتیں تقریباً وہیں کیں جو آپ ٹی وی پر ایک نہیں تو دوسرے دن ان کے منہ سے سنتے ہیں۔

امریکیوں کے لیے ان کا پیغام تھا کہ ہم آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، برابری کی بنیاد پر۔ نیشنل اسٹ کا اینٹی امپیریل ازم کھسکتا محسوس نہیں ہوتا آپ کو؟ وہ تو نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ تحریکِ انصاف ایسا پاکستان بنائے گی جس کے گرین پاسپورٹ کی ہر جگہ عزت ہو گی۔ اَن پڑھ اور کم پڑھے لکھے جو خلیجی ممالک میں خجل خوار ہونے کے لیے بوجوہ بخوشی جانا چاہتے ہیں کچھ شاد ہوئے ہوں گے اور مغرب جانے والے کچھ زیادہ۔ ارے ساتھ عمران نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم پاکستان کو ایسا بنائیں گے کہ باہر سے لوگ پاکستان نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ آپ کو کوئی تضاد محسوس ہورہا ہے کیا؟ جو بھی ہو کچھ پردیسی تو ضرور خوش ہوئے ہوں گے، اور ملک کے اندر "دوسروںکی غلامی کا احساس رکھنے والوں یا ان سے متاثر ہونے والوں کو کچھ سکون نصیب ہوا ہو گا۔

اقلیتوں، مزدوروں، بشمول گھروں میں کام کرنے والوں کو حقوق دینے اور خواتین کو حقوق اور تعلیم دینے کے وعدے کے علاوہ عمران نے ان تینوں کے بارے کچھ زیادہ بات نہیں کی۔ مزدور کو حق دینے کا جواز انہیں نے یہ بتایا کہ یہ کم زور ہے، مسلمان ہونے اور انسانیت کے ناطے کمزوروں کا ساتھ دینا چاہیے۔

بھارت سے سات لاکھ فوج کشمیر سے واپس بلانے کا کہا، تاہم آزادی کی بات نہیں کی۔ ساتھ ہی چین سے دوستی کا ذکر کیا جو نہ کرنے والا پاکستان میں فی الحال تقریباً ناپید ہے۔ آصف علی زرداری کی حکومت، سیاست دانوں اور جرنیلوں ( "اورجرنیلوںکاٹ دیجیے) کو اثاثے ڈیکلیئر کرنے کے لیے چند ماہ کی مہلت دی، اس پر عمل درآمد نہ ہوا تو بذریعہ نوجوان ۔۔۔۔۔ سول نافرمانی کی تحریک اور شہر بند۔ آزاد الیکشن کمشن کا مطالبہ کیا، اس پر عمل درآمد نہ ہوا تو ۔۔۔۔۔ سول نافرمانی کی تحریک اور شہر بند۔

اور اگر الیکشن مقررہ وقت پر ہوئے اور ان میں کسی نے دھاندلی کی بو سونگھ لی تو ۔۔۔۔۔

جلسے میں ایک گانا یا ترانہ جس میں "ہم ایک ہیںپر بہت زور دیا گیا تھا عمران خان کی تقریر کے دوران ٹکڑوں کی صورت وقفے وقفے سے بجایا جاتا رہا۔ علاوہ ازیں شرکا کا ایک بڑا حصہ تقریر کے دوران خاصا پر جوش رہا۔

ختم شد

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s