القاعدہ، امریکا، جمہوریت اور عرب ابھار

القاعدہ، امریکہ، جمہوریت اور عرب ابھار

گلبرٹ آشکار

بیشتر غیر معروف زیرِ زمین دہشت گرد گروہوں کی طرح11 ستمبر کو القاعدہ کا حملہ وسیع پیمانے پر پھیلے سماجی اور سیاسی عدم اطمینانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش تھی۔ القاعدہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرے تاکہ اس کی تقلید کرنے والے بہت سے پیدا ہوسکیں۔ اس طرح کی مہمات صرف اس وقت ۔۔۔ مختلف سطحوں پر۔۔۔ کامیاب ہوسکتی ہیں جب بہت زیادہ عدم اطمینان پہلے سے موجود ہو۔ مثلاً جہاں بہت غربت، ناراضی، جابر حکومت، ناقابل برادشت سماجی عدم مساوات یا غیر ملکی قبضہ ہو۔

یہ حالات عرب خطے میں کثرت سے ہیں۔ جاری ابھار کے تناطر میں عرب دنیا کے ان تشویش ناک داخلی معاملات پر بات کرنے کی زیادہ ضرورت نہیں جنہوں نے عرب خطے کو دہائیوں سے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کی بجائے میں اس سوال پر نظرثانی کروں گا جس نے11ستمبر کے بعد امریکیوں کو گھیررکھا ہے: ” وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟“

یہ حقیقت کہ19 عرب نوجوان 11 ستمبر کی صبح مرنے کے لیے تیار تھے تاکہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں، امریکیوں کے لیے اذیت ناک پیغام تھا کہ جاگو۔ زیادہ تر امریکیوں نے اس سے پہلے القاعدہ یا اسامہ بن لادن کا نام نہیں سناتھا۔ زیادہ تر کو گمان بھی نہیں تھا کہ امریکا اور اس کی حکومت سے عرب کتنی نفرت کرتے ہیں۔ اور یہ نفرت صرف عربوں کے ہاں نہیں تھی۔ دنیا کے جنوب (افریقہ، وسطی اور لاطینی امریکا، اور ایشیا کا زیادہ تر حصہ) میں بھی ایسا ہی تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ عرب دنیا اور عالمی جنوب میں بہت بڑی تعداد خودکش حملوں کے لیے تیار تھی۔ سوائے ایک چھوٹی اقلیت کے، نفرت غیر فعال تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اس الم ناک واقعے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں بلکہ پورے عالم میں خوشی محسوس کی گئی۔ میرا اپنا تجربہ میری یادداشت پر کندہ ہے۔ میں 11 ستمبر کے فوری بعد مشرقی ایشیا کا دورہ کررہا تھا اور مجھے تھوڑے وقت کے لیے ہانگ کانگ ٹھہرنا تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ میں عرب ہوں، عمارت، جہاں میرا قیام تھا، کا وارڈن، جو ایک بوڑھا چینی اور ریٹائرڈ پولیس مین تھا، نے مجھے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا: "یہ آدمی، تمہارے ملک سے یہ آدمی، عظیم آدمی، عظیم آدمی!“ ابتدا میں، میں نہ سمجھ پایا کہ اس کا کیا مطلب ہے اور اس سے پوچھا کہ تم کون سے آدمی کی بات کررہے ہو۔ اس کے جواب نے مجھے حیران کردیا۔ اس نے کہا” اسامہ بن لادن“۔

اسامہ بن لادن نے راتوں رات عالمی ہیرو کا مقام حاصل کرلیا۔ اس مہلک دن کے بعد جنوبِ صحارا، افریقہ ہو یا لاطینی امریکا اس کا چہرہ ٹی شرٹوں پر ابھرآیا، لیکن ان عرب ممالک میں نہیں جہاں کے مقامی حکمرانوں نے درست طور پر بن لادن کو بڑا خطرہ سمجھا۔ القاعدہ کے رہنما نے دراصل تختہ الٹنے کی پکار کا موقع ضائع نہ کیا ہوتا۔

ایسے خوف ناک جرم اور ہزاروں افراد کی موت نے کیسے اسامہ بن لادن کو دنیا میں ’افتادگانِ خاک‘ کا چمپیئن بنادیا؟ یہ مقبولیت قائم تھی: اس عوامی عدم اطمینان پر جو امریکی سپرپاور کا مقابلہ کرنے سے ان کی ریاستوں کی نا اہلی کے نتیجے میں پیدا ہوا اور پھر لادن کو اپنا ’ نمائندہ‘ سمجھ کر اُس برے عالمی پولیس والے سے بدلہ لینے سے حاصل ہونے والی مسرت پر۔ لیکن لوگ بدلہ لینے کے اتنے شوقین کیوں تھے اور وہ بھی اتنے خوف ناک طریقے سے؟ [وہی سوال]وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟“

اس سوال پر جارج ڈبلیو بش نے جو جواب 20 ستمبر2001ء کو کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں دیا اسے دوبارہ پڑھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔” امریکی پوچھ رہے ہیں کہ وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ وہ اس سے نفرت کرتے ہیں جسے ہم اس چیمبر میں درست سمجھتے ہیں۔۔۔ ایک منتخب جمہوری حکومت۔ ان کے رہنما ازخود مامور ہوئے ہیں۔ انہیں ہماری آزادی سے نفرت ہے۔۔۔ ہماری آزادیٔ مذہب سے، ہماری آزادیٔ رائے سے، ہماری ووٹ، اجتماع اور ایک دوسرے سے اختلاف کرنے کی آزادی سے۔“

اس وضاحت کی افادیت آج 10 سال پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ اس معلوم مضحکہ خیز اعلان سے قطع نظر کہ افراد کے ایک گروہ نے محض اس لیے خودکشی کی کہ وہ دور پرے ایک ملک میں آزادی پسند نہیں کرتا تھا، کوئی یہ کیسے دعویٰ کرسکتا ہے کہ جس نفرت کی تجسیم اسامہ بن لادن بنا وہ جمہوریت اور آزادی سے آرزدگی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ عرب دنیا میں جنہوں نے خوشی کا اظہار کیا انہیں جابر حکمرانوں نے سرنگوں کیا ہوا تھا۔ جنہیں ان کے نئے ہیرو نے برباد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی خطاب میں اس بات کو تب مان لیا گیا جب بش نے کہا ”وہ (القاعدہ) بہت سے مسلمان ممالک جیسے مصر، سعودی عرب اور اردن کی موجودہ حکومتوں کو گرانا چاہتی ہے۔"

جارج ڈبلیو بش کے خطاب کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ عربوں اور مسلمانوں میں آزادی اور جمہوریت کے خلاف نام نہاد نفرت موجود ہے اور یہ کہ واشنگٹن کے عرب دوست غیر جمہوری ہونے کے باوجود ان سے زیادہ ’روشن خیال‘ ہیں۔ عربوں یا مسلمانوں کے بارے میں ’اورینٹلسٹ‘ سوچ کے مطابق یہ لوگ جبر کے عادی ہیں… جو کہ ان کی’ ثقافت‘ کو ظاہر کرتا ہے، یہ بات صدر کے بیان سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔

2011ء کی عظیم عرب بغاوت نے اس طرح کی گفتگو جاری رکھنے کے امکانات کو کم کردیاہے۔ ایسی باتیں ختم تو نہیں ہوئیں لیکن ان کا تناسب کم ہوا ہے اور پہلے کے مقابلے ان پر یقین کم کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ سوچ، جو ان کے استبداد کو خوب برداشت کرنے کے بظاہر صداقت پر مبنی تاثر سے پیدا ہوئی، کہ عرب جبر کے عادی ہیں سراب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس طرح کی ثقافتی توضیح عموماً اس حقیقت کے ساتھ بطور جواز دی جاتی تھی کہ خطۂ عرب مومیائی مطلق حکومتوں کا متاثر کن ذخیرہ رکھتا ہے، جیسے یہ عہدِ قدیم کے حکومتی اداروں کا قدرتی ذخیرہ ہو۔ اسی طرح کا سراب اس تاثر کو پیدا کر کے ٹھونسا جاتا ہے کہ جب بھی عرب آبادی اپنی حکومت کے خلاف اٹھتی ہے، یہ عموماً ان قوتوں کی حمایت کرتی ہے جو جابر اور تھیو کریٹک حکمرانی کی وکالت کرتی ہیں۔

اس سراب کا نچوڑ یہ ہے کہ عوامی تحریک کو صرف اس لیے اسلامی بنیاد پرست سمجھ لیا جائے کیونکہ وہ اپنے عدم اطمینان کا اظہار ان طریقوں سے کرتی ہے جو اس اظہار کے لیے موجود ہیں۔ اسلامی قوتیں بہت کم قابل اعتبار ہونے کے ساتھ ساتھ عموماً واحد حزبِ اختلاف تھیں۔ انہیں بہت زیادہ امریکا دوست ممالک میں بھی اس حیثیت میں برداشت کیا جاتا تھا (سوائے تیونس کے، لیکن صرف1990ء کے بعد) کیونکہ یہ جابر حکومتیں چاہے وہ مختلف عرب بادشا ہتیں تھیں یا جیسے وہ مصر اور یمن میں تھیں، عموماً رجعتی مذہبی خواہشات کو رعایتیں دیتیں تاکہ اپنی غیر مقبول داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو ڈھک سکیں۔

2011ء کا ابھار عرب سیاسی منظرنامے میں نئے کھلاڑیوں کو لے آیا جنہوں نے حیران کن طور پر خطے کے تمام ممالک میں ایک ہی طرح سے ازسرنو گروہ سازی کی۔ امریکی معنوں میں یہ لبرلز کی نئی نسل تھی، یعنی سوشل لبرل جو دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی عرب سیاست کے کلاسیکل لبرلز سے بہت مختلف ہیں۔ کلاسیکل لبرلز1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد غائب ہوگئے اور پھر قوم پرست ابھر آئے۔

اس نئی نسل کی سیاست، چاہے وہ دھارے کے خلاف تھی یا اس کے ساتھ، نئی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی سے تشکیل پائی ہے۔ لبرل اصولوں سے ان کا ملاپ عالمی ثقافت تک رسائی سے متاثر ہے جو ’انفارمیشن ایج‘ کی آمد کے بعد سے ہورہی ہے۔ جڑنے، بات کرنے اور منظم ہونے کی ان کی صلاحیت عالمی کمیونی کیشن نیٹ ورک کی مرہونِ منت ہے۔ عرب ابھار کو محض ’ فیس بک انقلاب‘ کہنا اسے بہت گھٹا دینا ہے لیکن دوسری طرف یہ کہنا جائز ہے کہ زیادہ تر نوجوانوں پرمبنی یہ وسیع نیٹ ورکس بڑی حد تک فیس بک کی ایک تحریک ہیں۔

یہ لبرل دھارا، مختلف بائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ مل کر، ابھی تک ابھار کو تقویت دینے اور منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسلامی قوتیں زیادہ جانے پہچانے واقعات میں تحریک کی شروعات کے بعد شامل ہوئیں۔ اگر پھر وسیع پیمانے پر سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل کی بدولت عوامی عدم اعتماد کے موضوع پر واپس آیا جائے تو یہ ایسی بے چینی تھی جس کا اظہار بہت سے عرب ممالک میں سماجی احتجاجوں کی مختلف شکلوں میں گزشتہ دہائی سے ہورہا تھا۔ لبرل،لیفٹ اتحاد کے اقدامات نے ردِعمل کی کڑی سے کڑی ملادی اور ایسی عوامی بغاوت پیدا کی جو شاید ابھی اپنے بچپنے میں ہے۔ زیادہ عام نعرہ جو اس عظیم علاقائی ابھار میں سامنے آیا وہ ہے:” عوام چاہتے ہیں…“ یہ 1787ء کے امریکی آئین کے تمہیدی بیان کے ابتدائی جملے” ہم عوام“ کے مساوی ہے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ اب عوام سیاسی منظرنامے پر ہیرو ہیں۔

جب بھی عوام منظرنامے پر فعال ہوتے ہیں پچھلے تمام ہیرو پیچھے چلے جاتے ہیں۔ برطانوی صحافی رابرٹ فسک درست تھا جب اس نے بن لادن کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے دی انڈیپنڈنٹ (3 مئی2011ء) میں لکھا” عرب دنیا میں گزشتہ4 ماہ کے دوران عوامی تحریک کا مطلب ہے کہ القاعدہ سیاسی طور پر پہلے ہی مرچکی ہے“۔

رابرٹ فسک نے لکھا ” بن لادن نے دنیا کو بتایا۔۔۔ دراصل اس نے خود مجھے بتایا۔۔۔ کہ وہ عرب دنیا کی مغرب نواز جابر حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے، مبارک والوں اور بنی علی والوں کی آمریتوں کو… وہ ایک نئی اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتا تھا لیکن پچھلے کچھ ماہ سے لاکھوں عرب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور شہادت کے لیے تیار ہوگئے۔۔۔ اسلام کے لیے نہیں بلکہ آزادی کے لیے، جمہوریت کے لیے۔ بن لادن ان جابروں سے چھٹکارہ نہ دلاسکا۔ عوام نے دلا دیا اوروہ خلافت کے متمنی نہیں۔

کیا یہ نیا اجتماعی ہیرو جو آزادی اور جمہوریت چاہتا ہے ریاست ہائے متحدہ امریکا، جو خود کو ان اصولوں کا پابند سمجھتا ہے، سے مفاہمت کرلے گا؟ ہرگز نہیں اور جس نے بھی مختلف عوامی موبلائزیشنز کا مشاہدہ کرتے ہوئے خطے میں امریکی پالیسی کے بارے میں آرأ سنی ہیں وہ مجھ سے اتفاق کرے گا۔ یہاں تک کہ لیبیا میں جہاں ایک عوامی بغاوت واشنگٹن کی فوجی مداخلت کی شکرگزار ہے، اس بات پر کہ اوقیانوسی اتحاد، جو نیٹو مداخلت کے آغاز سے باغیوں کی طرف سے ہتھیار فراہم کرنے کی درخواست کو رد کررہا ہے، نے کس طرح انقلاب کو ہائی جیک کیا، شدید عدم اطمینان موجود ہے۔ اسی طرح لیبیا کے باغیوں کو مغرب ناقابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔ باغی ابھی تک اپنے ملک میں زمینی مغربی مداخلت کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں، اس کی کوئی اور تشریح موجود نہیں۔

عربوں کے ہاں امریکہ کے خلاف موجود ناپسندی کا تعلق آزادی اور جمہوریت سے نفرت، یا کسی "ثقافتیتصادمکے ساتھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ تہذیبوں کا تصادم کے مصنف آنجہانی سیموئیل ہنٹنگٹن نے جسے "تناقضِ جمہوریتکہا اور جس کی تعریف اس حقیقت کے طور پر کی کہ "غیر مغربی سماجوں کا مغربی جمہوری اداروں کو اختیار کرنا مقامی اور مغرب مخالف تحریکوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں اقتدار تک رسائی دیتا ہےکا "تہذیبسے کوئی تعلق نہیں، سامراجی سیاست سے سب رشتہ ہے۔

واشنگٹن کی پالیسی سے عربوں کی ناراضی کی بہت سی وجوہات ہیں اور جو جانی مانی ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی کفالت، جو البتہ اسرائیلی حکومت کے آخری حد تک مغرور اور ظالم رویے میں بمشکل ہی تبدیلی لاتی ہے، سے لے کر عراق پر قبضے اور جابر حکومتوں کی حمایت تک، جس کی وجہ امریکی مفادات کی حفاظت۔۔۔ تیل ایک اہم عامل ہے۔۔ سمجھی جاتی ہے، ہنٹنگٹن کے "تناقضِ جمہوریتکے دعوے کے خلاف ہے۔ اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں نام نہاد تناقض کی سچائی سامنے آتی رہے گی۔

عرب دنیا میں جاری جمہوری عمل کو اگر ردِ انقلاب کے ذریعے نہ روکا گیا تو خطے کی حکومتوں کی پالیسیاں امریکا کے سامراجی منصوبوں اور مفادات کے مخالف رخ کریں گی اور اس حد تک کہ جسے بن لادن کبھی حاصل نہ کر پاتا۔ جب تک ہم مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی دور رس تبدیلی نہیں دیکھتے، ہیروز کی اسامہ بن لادن سے "عوامکی جانب منتقلی امریکہ کے علاقائی مفادات کے لیے انتہائی مضر ہو گی۔ "عواماور ان کی خواہشات سے مقابلے کے بعد واشنگٹن شاید اس آسان دشمنی کے کھونے کا ملال کرے جس کی نمائندگی بن لادن کرتا تھا۔

بشکریہ: americanreviewmag.com

لبنان نژاد گلبرٹ آشکار لندن سکول آف اورینٹیل اینڈ افریقن سٹڈیز میں پولیٹیکل سائنس کے استاد ہیں اور عرب امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

مترجم: رضوان عطا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s