مادرسری معاشروں میں عورت کامقام

مادرسری معاشروں میں عورت کامقام

رضوان عطا

مادر سری معاشرتی تنظیم کی ایک شکل ہے جس میں ماں خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور نسل و رشتہ داری اسی سے (ماں سے) شمار کی جاتی ہے مزید یہ کہ ایک معاشرہ جس میں ماں مرکزی قوت اور مقام رکھتی ہے، یا مادر سری سے مراد ایسی معاشرتی تنظیم ہے جس میں عورت کی حکمرانی ہو۔

اینگلس( خاندان، ریاست اور ذاتی ملکیت کا آغاز1884ء) نے دلائل پیش کیے کہ ابتدائی معاشرے شکاری اور خوراک جمع کرانے والے مادر سری معاشرے تھے ، اور یہ کہ پدر سری کا آغاز زراعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور دولت کے مرد کے اختیار میں جانے سے ہوا۔ اس نے اپنی بحث کی بنیاد با خونن پر رکھی جس نے دلائل پیش کیے کہ معاشرے مادری حق کی سطح سے جس میں کہ عورت طاقتور تھی، پدری حق یا پدرسری کی سطح تک آئے۔

البتہ یہ بات کہ ابتداء میں پورا انسانی سماج مادر سری تھا، متنازع ہے۔ جدید علم البشریات کے ماہرین کے مابین اس بارے میں اختلافات موجود ہیں۔

عورت کی طرف سے رشتہ داری، نسل، حق جانشینی اور وارثت کا رواج ابھی تک دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے۔ یہ سماٹرا، میکرونیشیا اور میلا نیشیا میں پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں کیرالا کے نائر، تیار اور میپلا (قبائل) میں نسل ماں سے چلتی ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا کے مینانگ کباؤ ہیں۔ افریقہ میں اشانتی، ٹونگا، بمبا اور یاہو (قبائل) کے ہاں نسل ماں سےچلتی ہے۔ امریکا کے دیسی باشندوں میں ناواھا، ہوپی، زونی، ہیڈاتسے، کرو، چیریکے، ایروکو اس اور ہائیڈا مادر سری تھے۔

اس مضمون میں تین طرح کے مادر سری معاشروں میں عورت کے مقام کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک وہ مادرسری معاشرہ جن میں شادی کے بعد بیوی کو شوہر کے ہاں رہنا پڑتا ہے مثلاً شمال مشرق نیوگنی کے ٹربرینڈ جزائر کے باشندوں میں اس کا رواج ہے۔ دوسرے وہ مادرسری معاشرے جن میں شادی کے بعد شوہر اور بیوی دونوں اپنے انہی گھروں میں رہتے ہیں جہاں کہ وہ پیدا ہوئے۔ مثلاً لکشاڈویپ کے کورل جزائر میں سے ایک میں آباد مسلمانوں میں یہ رواج ہے۔ تیسری طرح کے وہ معاشرے ہیں جن میں شوہر شادی کے بعد بیوی کے گھر جاتا ہے مثلاً امریکا کے دیسی باشندوں کے ہوپی، زونی اور ایروکواس قبائل۔

ٹروبرینڈ جزائر کے باشندوں میں بیوی کا اپنے شوہر کے ہاں جانا بالکل بھی محکمومانہ نوعیت کا نہیں۔( وہ بیوی) اپنا ہی حلقہ اثر رکھتی ہے ،ذاتی اور عوامی یہ کبھی نہیں ہوتا کہ بچے اپنی ماں کو باپ کی طرف سے ناجائز حکم چلاتے ہوئے دیکھیں ۔ باپ ایک محبت کرنے والا خیر خواہ دوست ہوتا ہے جس سے ان (بچوں) کا قرابت دار (خونی رشتہ دار) نہیں مانا جاتا، وہ ایک اجنبی کی طرح ہوتا ہے۔ بچوں پر اس کی حاکمیت اس کے ذاتی تعلقات کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ ایک وارث کے معاشرتی مقام کی حیثیت سے۔ بچوں پر حاکمیت ماں کے بھائی (ماموں) کو عطا کی جاتی ہے۔ ایک ٹروبرینڈ مرد شاز و نادر ہی اپنی بیوی سے جھگڑا کرے گا۔ مشکل سے ہی کبھی اس سے بے رحمی کا سلوک کرے گا اور کبھی بھی اس قابل نہیں ہو گا کہ اس پر مستقل ظلم کرتا رہے۔ یہاں تک کہ جنسی عمل کے لیے ساتھ ہونا مقامی قانون اور اس کے استعمال کے مطابق بیوی کا فرض نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی شوہر کا حق۔

کلپنی جزیرہ ان دس آباد جزائر میں سے ہے جو لکشاڈویپ (ہندوستان) کا متحدہ علاقہ بناتے ہیں۔ اس جزیرے میں رہنے والے مسلمان ہیں جو شافعی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جزیرے میں بچہ اپنی ماں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے وسائل سے اپنا حصہ لیتا ہے۔ مادرانہ گروہ میں معمر ترین عورت عزت و حاکمیت کے ایک خاص مقام کا لطف اٹھاتی ہے اور فیصلے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مادرانہ نسب اور وراثت کے علاوہ رہائش کا طریقہ کار عورت کو ایک اچھی صورت حال میں لاتا ہے۔ بالکل مرد کی طرح عورت بھی اپنا پیدائشی گھر، شادی کے وقت نہیں چھوڑتی۔ ایک مرد اپنی بیوی کی رہائش گاہ میں رات گزارتا ہے اور صبح واپس چلا جاتا ہے۔ جائیداد کا انتظام اور کام کی تنظیم کارنیور۔۔ مادرانہ قرابت دار مثلاً ماں کی ماں کا بھائی، ماں کا بھائی، اس کا اپنا بھائی یا کزن۔۔کرتا ہے۔

عورتیں گھر کے اندر محدود نہیں ہوتیں۔ وہ جزیرے میں آزادانہ حرکت کرتی ہیں، پیداواری عمل میں شرکت کرتی ہیں، بہت سی تقریبات اور میٹنگز بشمول جھگڑوں کو طے کرتی اور عدالتی کارروائی میں حصہ لیتی ہیں۔ اس طرح برصغیر کے دوسرے مسلمان معاشروں کے برعکس یہاں عورت کا مقام بہت بلند ہے۔

وہ مادر سری معاشرے جن میں شادی کے بعد شوہر بیوی کے گھر جاتا ہے، عورت کا مقام بہت بڑا ہے۔ دیسی امریکی باشندوں میں ایروکو اس لوگ اس کی مثال تھے۔ یہ لوگ بڑے بڑے گھروں میں رہتے تھے، جن میں بہت سارے خاندان علیحدہ علیحدہ خانوں یاکمروں میں رہتے۔ ایک معمر عورت جو پورے گھر کی نگرانی ہوتی تھی ایک مرد کو بدکرداری پر بے دخل کر سکتی تھی۔ کمیونٹی کی ملکیت زمین جو کہ وراثت میں مادرانہ نسب سے منتقل ہوتی تھی۔ عورتیں ہی منتظم ہوتی تھیں اور کھیتی باڑی کے اوزار اور بچوں کی مالک بھی، باغبانی کا کام ایک منتخب خاتون رہنما کی نگرانی میں منظم کیا جاتا تھا۔ سرداروں کی ایک کونسل ایروکواس لوگوں کے اتحاد یا انجمن کی سربراہ ہوتی تھی۔ ان سرداروں کا انتخاب مادرانہ جرگے کی منتظمات طے کرتی تھیں جو کہ ایک سردار پر جس کے اعمال ان کے لیے ناپسندیدہ ہوں، فرد جرم عائد کر سکتی تھیں۔ ایروکواس منتظمات کونسل کے بحث و مباحثہ میں حصہ لیتی تھیں اور جنگ کے اعلان کے لیے ویٹو کی طاقت رکھتی تھیں کیونکہ مرد جنگ میں شرکت کی وجہ سے شکار نہیں کر سکتے تھے اور انہیں اس خشک خوراک پر گزارہ کرنا پڑتا تھا جو کہ عورتیں فراہم کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ مذہبی زندگی میں وہ ایک اہم کردار ادا کرتیں۔ ایروکواس لوگوں کے نظامِ فکر میں عورت کی تصویر کم تر دکھائی نہیں دیتی۔ ایروکواس لوگوں میں عورت کے بلند مقام کا سبب مادری نسب اور مادری رہائش کے ملاپ اور پیداوار تقسیم میں عورت کے اختیار کو برقرار دیا جا سکتا ہے۔

اشیر رائٹ جو کئی برس تک ایرو کو اس لوگوں کے سنیکا قبیلے میں پادری تھا، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس وقت تک جوڑا خاندان میں عورت کا رتبہ بہت اونچا تھا۔

جہاں تک ان کے خاندانی نظام کا تعلق ہے، جب یہ لوگ پرانے لمبے گھروں میں رہتے تھے تو غالباً اس میں کسی ایک جرگے کا غلبہ ہوتا تھا۔ عورتیں دوسرے جرگوں کے لوگوں کو شوہر بناتی تھیں۔ گھر میں عموماً عورت کی حکمرانی تھی۔ مال اسباب مشترک ہوتا تھا لیکن اگر کوئی بدنصیب شوہر یا عاشق اتنا نالائق ہوتا کہ اپنے حصے کا کام نہ کر سکتا تو اس بے چارے کی شامت آ جاتی۔ پھر چاہے اس کے کتنے ہی بچے ہوں اور گھر میں اس کا کتنا ہی سامان پڑا ہو۔ اسے کسی وقت بھی بوریا بستر باندھ کر گھر سے نکل جانے کا حکم دیا جا سکتا تھا اور ایک دفعہ حکم مل جانے پر اس کی خلاف ورزی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ گھر اس کے لیے جہنم کا نمونہ بن جاتا اور اسے مجبور ہو کر خود اپنے جرگے میں واپس جانا پڑتا یا جیسا کہ اکثر ہوتا تھا کسی اور جرگے میں جا کر دوبارہ شادی کی کوشش کرنا پڑتی تھی اور سبھی جگہوں کی طرح جرگوں کے اندر بھی عورت کا بڑا اقتدار تھا۔ جب کبھی ضرورت پڑتی وہ بلاپس و پیش سردار کو معزول کر کے عام سپاہیوں کی صف میں بھیج دیتی تھیں یا اس زمانے کی اصطلاح میں ان کے سینگ توڑ دیتی تھیں۔”

کسی صحت مند معاشرے کے لیے عورت اور مرد کے مقام کا مساوی ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں عموماً یہ بات عقیدے کی حد تک مانی جاتی ہے کہ عورت مرد سے کمتر ہے اور اس کی یہ حیثیت فطری ہے۔ مندرجہ بالا حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔

عورت اور مرد کے مقام کا تعین معاشرہ کرتا ہے اور معاشرہ ہمیشہ تغیر پذیر ہوتا ہے۔ لہٰذا معاشرے میں عورت کا وہ مقام جو آج ہے، نہ تو ہمیشہ سے ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ رہے۔

اشاعت: ہفت روزہ مزدور جدوجہد، یکم تا 7 جولائی 1999ء

(یہ مصنف کی پہلی شائع ہونے والی تحریر ہے)


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s