ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟

مسلمان مخالفت، نسل پرستی یا ذہنی خلل

ناروے میں دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟

رضوان عطا

22 جولائی کو ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں ہونے والے دھماکے اور اس کے شمال میں واقع جزیرہ یٹویا میں یوتھ کیمپ پر فائرنگ سے ہونے والی تقریباً 93 ہلاکتوں نے ملک کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ ناروے کے وزیراعظم جینز سٹولن برگ کے مطابق جنگ عظیم دوم کے بعد سے کبھی بھی ہمارے ملک میں جرم کا اتنا بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ انسانی تاریخ میں یہ شاید اب تک واحد گن مین کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کے قتل اور دونوں حملوں کے ملزم آندرے بیرنگ بریوک کے خیالات کے سامنے آنے کے بعد اسے اچانک رونما ہونے والا اتفاقی واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی تہہ تک پہنچے بغیریہ ممکن نہیں ہوگا کہ ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جاسکے۔

جمعہ کو ہونے والے دو حملوں میں سے پہلے کا نشانہ حکومت اور دوسرے کا حکمران جماعت کی طرف سے منظم کیا جانے والا سمر کیمپ تھا جس میں نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کئی دہائیوں سے حصہ لیتی آرہی ہے۔ تقریباً تین بج کر چھبیس منٹ پر ایک کار بم دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔ ان میں وزیراعظم کا دفتر بھی شامل ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم سات افراد ہلاک اورکئی دیگر زخمی ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد دوسرا حملہ ہوا۔ نارویجن لیبر پارٹی کی ایک ذیلی تنظیم کے زیر اہتمام ہونے والے سمر کیمپ میں شریک افراد پر پولیس کی وردی میں ملبوس شخص نے فائرنگ کر کے85 افراد کو ہلاک کردیا۔ یٹویانامی جزیرے میں ہلاک ہونے والے ان افراد میں سے بیشتر کی عمریں15 سال یا اس سے کچھ زیادہ تھیں۔

جزیرہ یٹویا پر جس انداز سے ملزم نے قتل عام کیا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو قتل کرنا تھا۔ پولیس کی وردی میں ملبوس شخص، جو مبینہ طور پر آندرے بیرنگ بریوک تھا، اندرون اوسلو میں ہونے والے دھماکے کے بعد وہاں آیا۔ وہ بظاہر یہ باور کراتا رہا کہ شرکا کی حفاظت کے لیے وہ یہاں ہے۔اس نے وہاں موجود لوگوں کو اکٹھا ہونے کا کہا۔ جو اس چال میں پھنس گئے ان میں سے زیادہ تر حملہ آور کی گولیوں کی بوچھاڑ کی زد میں آگئے۔ اس دوران میں کئی افراد نے تیر کر جزیرہ سے باہر نکلنے کی کوشش کی جنہیں بعدازاں حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ کئی افراد ڈوب کر بھی ہلاک ہوئے۔ بالآخر یہ شخص پولیس کے قابو آ گیا۔

اوسلو میں ہونے والے پہلے حملے کے بعد بعض ذرائع ابلاغ دہشت گردی کے اس واقعے میں کسی مسلمان انتہا پسند فرد یا تنظیم کے ملوث ہونے کا اشارہ دینے لگے۔ یورپ کے اندر مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی ایک مخصوص متعصبانہ رائے کی بالخصوص9/11 سانحے کے بعد بڑھوتری ہوئی ہے، اس لیے ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں کا رویہ حیرت انگیز نہیں، فکر انگیز ضرور ہے۔ پولیس نے جس شخص کو گرفتار کیا وہ ناروے کا سفید فام شہریہے اور ان لوگوں سے نفرت کرتا ہے جن پر شک کیا جارہا تھا کہ وہ ملوث ہوں گے۔ گرفتار ہونے والے شخص کو اسلام اور کمیونزم دونوں ناپسند ہیں۔

آندرے بیرنگ بریوک کی گرفتاری کے بعد اس کے تصورات کے بارے میں باتیں ذرائع ابلاغ میں آنے لگیں۔ انٹرنیٹ پر اس کی پوسٹنگز، دوستوں اور ملنے والوں کی آرا اور پولیس کے بیانات سے اس شخصیت کا خاکہ نمایاں ہونے لگا۔

32 سالہ بریوک کے وکیل کے مطابق ان کے موکل نے اپنے عمل کو” سفاک“ مگر” ضروری“ قرار دیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے کوئی پچھتاوا نہیں۔

نارویجن پولیس کے مطابق حملوں سے چند گھنٹے قبل ملزم نے انٹرنیٹ پر پندرہ سو صفحات پر مشتمل جومنشور شائع کیا اس سے اس کے عزائم کا پتہ چلتا ہے۔ ان صفحات پر بریوک نے کئی ماہ سے جاری ان حملوں کی منصوبہ بندی کی خبردی ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر واقعات کو درج بھی کیا گیا ہے۔ اس منشورمیں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک چھوٹے گروہ کا حصہ ہے جس کا مقصد” مغربی یورپ کا سیاسی و عسکری کنٹرول حاصل کرنا اور ایک قدامت پسند ثقافتی سیاسی ایجنڈا لاگو کرنا ہے“۔ اس کے مطابق” مکالمے کا وقت گزر چکا ہے۔ ہم نے امن کے لیے موقع دیا۔ مسلح مزاحمت کا وقت آچکا ہے“ اس مسودے کے مصنف کا نام ملزم کے نام سے قدرے مختلف درج ہے لیکن ملزم کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ یہ بریوک ہی ہے۔ یہ دستاویز لبرل ازم اور کثیر الثقافتی رجحان کو’ ثقافتی مارکس ازم‘ سے لائق موازنہ تصور کرتی ہے۔ اس کے مطابق یہ رجحانات یورپ کی عیسائی تہذیب کو ختم کررہے ہیں۔ یہمسودہ اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے” میرا خیال ہے یہ میری آخری تحریر ہوگی۔ اس وقت جمعہ22 جولائی12:51 ہیں“۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بریوک نے حملوں سے قبل ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس نے مختصراً اپنے دلائل پیش کیے اس وڈیو میں وہ فوجی یونیفارم میں نظر آتا ہے جو بندوق سے نشانہ لگارہا ہے۔ یہاں اس کا انداز ایسے ہے جسے وہ خود کو اپنی پسندیدہ وڈیوگیم’ ماڈرن وار فیئر2‘ کا کوئی کردار بناکر پیش کر رہا ہو۔

اس وڈیوگیم پر تنقید بھی ہوچکی کہ اس میں بہت زیادہ تشدد دکھایا جاتا ہے۔ اس پرنسل پرستانہ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا۔ برطانوی دارالعوام کے رکن کیتھ ویز، جو ویڈیوگیمز میں تشدد کے خلاف ہیں، اس معاملے کو اٹھا چکے ہیں۔ کئی ممالک میں اس کا اجرا مباحث کا موضوع بنارہا۔

قبل ازیں بیان کی گئی تحریر اس کی واحد تحریر یا پیغام نہیں تھا جو انٹرنیٹ پر جاری ہوا۔ بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ یہ کام کررہا تھا۔ اس نےDocument.no ویب سائٹ پر کئی کمینٹس لکھے۔

اس ویب سائٹ پر2010ءکے شروع میں پوسٹ کیے گئے ایک کمنٹ میں وہ معتدل اور قدامت پسند مسلمانوں میں تفریق کرنے کی نفی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے مطابق اگر80 فیصد مسلمان اعتدال پسند ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ” ایک جہاز کو چند افراد ہی قابوکر لیتے ہیں“۔ یہاں وہ سوال اٹھاتا ہے۔” پاکستان کی آبادی میں طالبان کتنے فیصد ہیں۔1فیصد،3 فیصد5 فیصد؟ اور انہوں نے وہاں کتنی افراتفری مچائی ہوئی ہے“۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے کہ میرے نزدیک مسلمانوں، نازیوں اور مارکسسٹوں سے مختلف برتاو کرنا منافقانہ عمل ہے۔

اوسلو میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنے اور ان کے ہاتھوں غیر مسلم نارویجنز کی پٹائی کے واقعات پر تشویش کا شکار یہ شخص آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اعدادوشمار مختلف ذرائع سے اکٹھے کر کے پیش کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ کو سوو کے بارے میں بتاتا ہے کہ1900 ءمیں یہاں40 فیصد مسلمان تھے اور2008ءمیں93 فیصد ہیں۔ لبنان میں1911ءمیں21 فیصد مسلمان تھے جبکہ2008ءمیں75 فیصد ہیں۔ اناطولیہ(ترکی) میں1300ءمیں99 فیصد عیسائی تھے مگر2009ءمیں1فیصد ہیں۔ یوں وہ مسلمانوں کی آبادی بڑھنے یا عیسائیوں کی آبادی کم ہونے کے اعدادوشمار پیش کر کے اسلام یا مسلمانوں کے قدم یورپ میں بڑھنے سے روکنے کے دلائل بار بار سامنے لاتا دکھائی دیتا ہے۔

2009ءکے وسط میں اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک کمنٹ میں ناروے کی’ ثقافتی قدامت پسند تحریک‘ کا آئندہ پانچ سال کا ایجنڈہ یوں پیش کرتا ہے کہ1۔ قومی سطح کا اخبار۔ 2۔ بہت سی این جی اوز پر کنٹرول کے لیے کام۔3 ۔ نارویجن انگلش ڈیفنس لیگ( کا قیام)۔

بریوک کے پیغام سے پتا چلتا ہے کہ وہ انگلش ڈیفنس لیگ( ای ڈی ایل) کو پسند کرتا ہے۔ ای ڈی ایل برطانیہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم ہے جو بظاہر اسلام ازم کے پھیلاو کو خطرہ قرار دیتی ہے۔مگر اس کے خیالات نسل پرستانہ ہیں اور یہ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف عمل ہے۔ بریوک نے ایک پوسٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے ای ڈی ایل اور ایس آئی ای(Stop Islamification of Europe) سے بات چیت کی ہے اور انہیں ہوش مندی سے حکمت عملیاں اپنانے کی تجویز دی ہے۔ ایس آئی او ای کے خیال میں یورپ میں اسلام پسندانہ سیاسی غلبہ ہوتے جارہا ہے اور اسے روکنے کا کام انہی کے ذمہ ہے۔ یورپ میں موجود یہ گروہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں میں پیش پیش رہتا ہے۔ بریوک کے برطانوی انتہا پسند جماعت برٹش نیشنل پارٹی ( بی این پی) سے تعلق بھی عیاں ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف متحرک تنظیم ’یونائٹ ایگنسٹ فاشزم‘ کے جوائٹ سیکریٹری کا کہنا ہے ” ثبوت بڑھتے جارہے ہیں کہ آندرے بیرک بریوک دائیں بازو کے انتہا پسند خیالات رکھتا تھا اور فاشسٹ اور اسلامو فوبک تنظیموں، جن میں ای ڈی ایل اور بی این پی شامل ہیں، کی حمایت کرتا تھا۔ اگر اوسلو اور یٹویامیں دہشت گردانہ وحشت نیو نازیوں کا کام ہوا تو ایسا وہ پہلی بار نہیں کررہے۔ اوکلوہا ماسٹی میں1995ءمیں دھماکوں کی ابتدائی طور پر ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی گئی لیکن دراصل یہ انتہا پسند دائیں بازو کی کارروائی تھی“۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نسلی تعصب کے کلچر کے فروغ کو بڑھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

یورپ میں اسلاموفوبیا’ جس سے مراد اسلام یا مسلمانوں سے نفرت، تعصب یا خوف لی جاتی ہے‘ خاصا پھیل چکا ہے۔ سوئٹرزلینڈ میں میناروں کی تعمیر، جو اب مساجد کا لازمی جز تصور کیے جاتے ہیں‘ پر تنازعہ2000ءکی دہائی سے چل رہا تھا۔ بالآخر نومبر2009ءمیں ایک ریفرنڈم کے ذریعے نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی جس کی حمایت 57.5 فیصد ووٹروں نے کی۔

یورپ کے ہمسایہ ممالک میں اس کے خلاف مختلف اخبارات میں لکھا گیا۔ فرانس کے اخبار’لبریشن‘ نے سرخی لگائی’ شرمندہ کرنے والا ووٹ‘ بلجیئم کے Le Soir اور برطانیہ کے لندن ٹائم میں تنقید شائع ہوئی۔ بعدازاں یورپی میڈیا کو خیال آیا کہ وہ قارئین سے یہ پوچھیں کہ ان کے اپنے ملک میں اگر معاملہ ایسا ہو جائے تو؟

تقریباً تمام بڑے اخبارات کے پولز میں سوئٹز لینڈ کی طرف سے اپنائے گئے موقف کی اکثریت کی طرف سے تائید ہوئی۔ سپین کےEl Pais میں80فیصد اور جرمنی کےDie Well میں79 فیصد نے یہی رائے دی۔ اسی طرح فرانس میں ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے میں میناروں پر پابندی کی حمایت اکثریت نے کی ۔رائے شماری کرانے والے ادارے آئی ایف او پی کے ایک سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ فرانس میں41 فیصد نئی مساجد کی تعمیر کے خلاف میں، حالانکہ2001ءمیں صرف22فیصد ایسا چاہتے تھے۔فرانس، نیدر لینڈز، سویڈن، فن لینڈ، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک میں وہ سیاسی جماعت جو مہاجرین کی یورپ آمد کی مخالفت کررہی ہیں، اور مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتی ہیں مقبول ہورہی ہیں۔ یہ پارلیمنٹ میں نشستیں جیتنے میں بھی کامیاب ہورہی ہیں۔

بریوک کے حالیہ عمل کو محض ذہنی خلل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر یہ خلل تھا تو اس کی مادی وجوہات ضرورہوں گی۔ ڈنمارک کا سانحہ اشارہ کرتا ہے کہ یورپ میں نسل پرست، انتہا پسند اور فاشسٹ اس قابل ہونا شروع ہوگئے ہیں کہ نظریاتی اور تنظیمی دونوں سطحوں پر مختلف قسم کے دباو کا سامنا کرتے ہوئے خود کو برقرار رکھ سکیں۔ یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کے فروغ کا سلسلہ گزشتہ تقریباً30 سالوں سے جاری ہے۔ جرمنی، بلجییم، نیدر لینڈز، اٹلی، سیکنڈی نیویا، ہنگری اور برطانیہ و دیگر میں ایسے گروہ خاصے مضبوط ہوچکے ہیں۔ ایسے گروہوں اور جماعتوں کی کارکردگی کا مختصر احوال کچھ یوں ہے:

انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت ڈینش پیپلزپارٹی کی ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں25 سیٹیں ہیں، سویڈن کی ڈیموکریٹس پارٹی نے2010ءکے انتخابات میں5.7 فیصد ووٹ لیے۔ فن لینڈ میں True Finns پارٹی نے اپریل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مارچ2010ءمیں پہلے مرحلے کے فرانسیسی انتخابات میں نیشنل فرنٹ نے15 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ نیدر لینڈر میں پارٹی فار فریڈم کی پارلیمنٹ میں24نشستیں ہیں، اب یہ ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے۔ برٹش نیشنل پارٹی 2009ءمیں دوممبران کو پارلیمنٹ بھیجنے میں کامیاب ہوئی۔

ناروے میں ہونے والا حملہ ایک ایسے شخص نے کیا ہے جو مسلمان مخالف خیالات رکھتا ہے، جو انتہا پسند عیسائی ہے اور نسل پرستوں سے متاثر ہے۔ لیکن اس نے حملہ اپنے ملک کی حکمران جماعت پر کیاہے جو اس کے مطابق کثیر الثقافتی رجحان کو فروغ دے رہی اور مسلمانوں سے نرم برتاو کرتی ہے۔ وہ اپنے منشور میں اس کی وجہ یوں بیان کرتا ہے۔ ”مسلمانوں کو لازماً جنگلی جانور تصور کرنا چاہیے…. جنگلی جانوروں کو قصور وار مت ٹھہراو بلکہ کثیر الثقافتی رجحان کے حامیوں کو…. ان غداروں کو جنہوں نے ان جانوروں کو ہماری زمین پر آنے دیا“ تاہم اس حملے سے یورپ کے مسلمانوں ، مسلمان سمجھے جانے والوں اور تارکین وطن میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقع پتا دیتا ہے کہ یورپ میں نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد بڑھانے کا وقت آگیا ہے۔

ناروے کا سانحہ پاکستان جیسے ممالک میں مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے واقعات بھی یاد دلاتا ہے۔ جس طرح پاکستان میں اقلیتیں تعصب اور تشدد کا شکار ہیں وہ بھی ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ یہاں بھی انتہا پسند انہیں سُکھ سے نہیں جینے دیتے۔اگر مذہبی انتہا پسند پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک میں ایک مسئلہ ہے تو یورپ میں بھی ہے۔

یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں متعصب رویے، تحاریر اور تصاویر کے ذریعے اسلامی مذہبی جنونی تنظیمیں نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں اور غیر مسلموں پر دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے اُکساتی ہیں۔ یورپ میں نسل پرست بھی اسی سے ملتے جلتے طریقے استعمال کرتی ہیں۔ معاشرے کو یوں تقسیم کرنے والی قوتوں کو رد کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s