یونان کا امتحان

یونان کا امتحان

حکمران جماعت اور یورپی یونین سے عوامی رائے عامہ متصادم

رضوان عطا

تیس جون کو یونان کی پارلیمنٹ کا امتحان تھا۔ ملک میں وسیع پیمانے پر کٹوتیوں کے پروگرام کے بارے میں فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس پروگرام پر عمل درآمد کا مطلب ہے ٹیکسوں میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور نج کاری۔ پارلیمنٹ نے اس غیر مقبول فیصلے کی منظوری دے دی۔ اب 72 ارب ڈالر کے ریاستی اثاثے برائے فروخت ہیں۔

300 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کے 155 ارکان نے ان اقدامات کے حق میں ووٹ دیے جن کی مخالفت سروے کے مطابق 80 فیصد یونانی کر رہے تھے۔ حکمران جماعت سے اپنی بات منوانے کی خاطر ہزاروں ایتھنز کی گلیوں میں احتجاج کر رہے تھے اور کئی پولیس سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔

یونان میں بحران کی ابتدا کے بعد پہلی بار ملکی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے چوبیس کے بجائے اڑتالیس گھنٹے کی کال دی تھی۔ حکمران جماعت کا اصرار تھا کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یورپی یونین کے بڑوں اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی بات ماننا ہوگی مگر رائے عامہ ماننے کو تیار نہیں اور خاصے عرصے سے احتجاج کر رہی ہے۔

دراصل مئی ہی سے یونان کے دارالحکومت ایتھنز سمیت تقریباً تمام بڑے شہر مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں۔حالیہ یونانی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا ابھار ہے جس کی وجہ ملک کا معاشی بحران بنا جو اب سیاسی اور سماجی بحران بن چکا ہے۔ اس کی شدت اس قدر ہے کہ یورپی یونین بھی اس سے محفوظ نہیں۔

قبل ازیں15 جون کو جب مظاہرین نے یونانی پارلیمنٹ کو گھیرے میں لے لیا تو ملک کے وزیراعظم نے دباو میں آکر استعفیٰ تک پیش کردیا، مگر چند گھنٹوں کے بعد واپس ہوگیا۔ اس موقع پر سینٹرل لیفٹ حکمران جماعت پاسوک (PASOK) کو روایتی حریف سینٹرل رائٹ نیو ڈیموکریسی پارٹی کے ساتھ نئی اتحادی حکومت بنانے کے لیے گفت وشنید کرنا پڑی جو کامیاب نہ ہوئی، اور پھر حکومت ہی میں بڑی تبدیلیوں اور پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کی طرف بڑھاگیا۔ کابینہ کی اکھاڑ بچھاڑ ہوئی البتہ مقروض یونان کو بحران سے نکالنے کے یہ اور اس جیسے کئی دیگر اقدامات ناکام ثابت ہوئے۔

یونان پر340 ارب یورو کا قرض ہے جو سال کے آخر تک10 ارب مزید بڑھ سکتا ہے۔ 2009ءکے اواخر سے قرض کے بحران کے بادل یونان، آ ئرلینڈ اور پرتگال، جہاں یورو رائج ہے، پر منڈلانا شروع ہوگئے تھے۔2010ءکوئی اچھی خبر نہ لایا۔ اپریل2010ء میں آئی ایم ایف اور یورپی یونین کی طرف سے بیل آوٹ کی منظوری کے بعد یونانی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر کٹوتیوں اور نئے ٹیکسوں کی تجاویز سامنے آنا شروع ہوگئیں۔ اس کے خلاف 5 مئی2010ءکو ایتھنز میں بڑے اور پرتشدد مظاہرے ہوئے اور تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یونان میں احتجاج اور تشدد اس کے بعد بھی نہیں رکا۔

گزشتہ سال یورپی یونین، عالمی مالیاتی بینک(آئی ایم ایف) اور مرکزی یورپی بینک نے مل کر110 ارب یورو کا بیل آوٹ پیکیج یونان کو دیا۔ اس کے باوجود رائے عامہ بیل آؤٹ آئی ایم ایف کے خلاف ہی رہی۔ 18 مئی2011ءکو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ 2010ءمیں”مفاہمت کی یادداشت“ پر دستخط غلط فیصلہ تھا، جس سے ملک(یونان) کو نقصان پہنچا۔ اس رائے کے قائم ہونے کی ٹھوس وجوہ ہیں۔

بیل آوٹ کے ساتھ حکومت نے بڑے پیمانے پر جن کٹوتیوں کا آغاز کیا اس نے معیار زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو مزید بحران کی طرف دھکیلا۔ بے روزگاری دوگنا ہوکر16 فیصد ہوگئی۔ یونان میں اب30 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح31 فیصد ہے۔

سرکاری محکموں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں تقریباً 20 فیصد کمی ہوئی۔ گزشتہ برس کل داخلی پیداوار میں4.8 فیصد کمی ہوئی اور صنعتی پیداوار8 فیصد کم ہوئی جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوا۔

اخراجات اور آمدنی میں فرق کو کم کرنے کے لیے یونانی حکومت نے جوبانڈ جاری کیے تھے وہ گلے پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت ادائیگیوں سے قاصر نظرآتی ہے۔ سرمایہ کارکو خدشہ ہے کہ یونانی حکومت دیوالیہ ہوجائے گی۔

یونان کے بحران سے ان ممالک کو، جو زیادہ مقروض ہیں، جیسے پرتگال، آئرلینڈ، اٹلی اور سپین، شدید خطرہ ہے البتہ اس بحران کے اثرات اس سے بھی آگے تک جاسکتے ہیں۔ جس طرح تیونس عرب دنیا میں ایک سیاسی ابھار کا سبب بنا، مقروض ممالک کی معیشتوں کے ”زوال “ کے لیے یہی کردار یونان ادا کرسکتا ہے۔ یونان یورپ کے لیے2008ءکے ”لہمین برادرز“ جیسے مالیاتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

یونان نے فرانسیسی بینکوں کو 53 ارب روپے اور جرمن بینکوں کو 34 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔ اب قرض دینے والے جیسی مشکل قرض لینے والی کی بھی ہے۔ جب یونانی بانڈر کی ریٹنگ کم ہوئی تو ان بالخصوص فرانسیسی بینکوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا ہے۔

یونان کا بحران یورپی یونین کے ڈھانچے میں بنیادی خامیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے وسط تک یورپی یونین کا تصور یورپ کے بیشتر ممالک میں مقبول رہا۔ بہت سے ممالک میں یورپی یونین میں شمولیت کا خواب بہتر معاشی ترقی کے لیے دیکھا جاتا رہا۔ یونان کے حوالے سے معاملہ یہ بھی تھا کہ یہاں کے عوام آمریت کا سامنا کرچکے تھے اور ان کے خیال میں یونین کے ضابطے مستقبل میں کسی آمریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوں گے۔ یہ آزادانہ نقل و حمل اور بہتر معاش کا شارٹ کٹ سمجھا گیا۔ یہ رائے عام تھی کہ یونانیوں کو جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز اور بیلجیئم جیسے امیر ممالک تک رسائی ملے گی۔ شروع میں یونان جیسے ممالک کو یونین میں شمولیت سے معاشی اعشاریوں میں اضافہ نصیب بھی ہوا، مگر یہ عارضی تھا۔

یورپی یونین کے اندر بہرحال پیداواری صلاحیت کا فرق موجود ہے۔ مثلاً جرمنی، فرانس، اور نیدرلینڈز جسے ممالک اس میدان میں یونان اور پرتگال سے آگے ہیں۔ یونین کے قیام اور پھیلاو کے ساتھ آہستہ آہستہ نسبتاً کم پیداواری صلاحیت رکھنے والے ممالک کا دیگر جیسے جرمنی سے تجارتی توازن خراب ہوتا گیا۔ مثلاًجرمنی نے اپنے ملک کے اندر اجرتوں میں کچھ کٹویتوں کے ذریعے پیداواری لاگت مزید کم کی، ٹیکنالوجی کی جدت کی بنا پر فوقیت پہلے ہی حاصل تھی، نتیجتاً اس کی برآمدات میں خاصا اضافہ ہوتا گیا جن کا رخ یورپ میں کم پیداواری صلاحیت رکھنے والے ممالک کی طرف بھی تھا۔

نسبتاً کم ترقی یافتہ ممالک نے تجارتی توازن میں بگاڑ کی درستگی کے لیے جو قرض زیادہ شرح سود پر لیے وہی اب یورپی یونین کے لیے مسئلہ بن گئے ہیں۔ ابتدا میں جرمنی اور فرانس جیسے ممالک کے بینک زیادہ شرح سود پر قرض دے کر سرمایہ و وسائل یونان جیسے ممالک سے اپنے ہاں منتقل تو کرتے رہے مگر اب وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ حالات بدل چکے ہیں، یونانی حکومت اب اگر کچھ دینا چاہتی ہے تو لوگوں کی جیبوں سے نکال کر۔

اس کی راہ ہموار کرنے کی خاطر حکمران جماعت کو اپنے بعض ارکان پارلیمنٹ کو بھی ناراض کرنا پڑا ہے۔ یہ قیمت انہوں نے چکا دی ہے۔ مگر کیا وہ سیاسی قیمت چکا پائیں گے؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s