یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور

یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور

طلبا پر تشدد، اساتذہ سے بدسلوکی

رضوان عطا

یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور میں اگر کسی طالب علم کو منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو یہ اندازہ کرنے میں زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ایسا کس نے کیا ہو گا۔

پنجاب یونیورسٹی میں محض ایک ہی تو طلبا تنظیم ہے جو وقتاً فوقتاً ایسا کرتی ہے۔ آمر پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد جماعت اسلامی نے جمہوریت کے قیام کے نعرے کو تو اپنی سیاست میں مرکزی حیثیت دی مگر طلبا تنظیم کو اسی روش پر چلنے دیا جو آمروں کی ہے۔ کیا پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے علاوہ کوئی دوسری تنظیم کام کر سکتی ہے؟ جی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا وہ جزیرہ ہے جہاں جماعت اسلامی کے شاگردوں کی خفیہ حکومت قائم ہے۔ اپنی اس جاگیر میں انہیں شعبہ فلسفہ سے شکایت رہی ہے کہ وہ ان کی بیعت نہیں کرتا۔ لہٰذا اسے سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

22 جون کو طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ایک طالبہ نے ایک طالب علم کو کچھ رقم دی کہ وہ کسی میڈیکل سٹور سے دوائی لے آئے۔ اسی دوران اسلامی جمعیت کے کارکن پہنچ گئے اور لڑکے پر تشدد شروع کر دیا۔ وہ نوجوان پوچھتا رہا کہ آخر ایسا کیوں کر رہے ہو مگر جواب میں مار ہی ملی۔ پھٹی ہوئی شرٹ کے ساتھ وہ بھاگ کر ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کے اندر چلا گیا مگر باہر ’شکاری‘ انتظار کرنا شروع ہو گئے۔ اس زیادتی کو دیکھتے ہوئے ایک اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ بیگم نے انہیں دور ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ایسا کرتے ہوئے بعض دیگر ٹیچرز کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ جواباً اسلام کا نام استعمال کرنے والے یہ بہادر طالبات پربھی حملہ آور ہوئے۔ شعبہ فلسفہ کی طالبات کو دیکھتے ہی وہ کبھی یہ کہتے گزر جاتے ’بے غیرت‘ اور کبھی ’اُلو کی پٹھی‘ اور کبھی ’ہم تمہیں سیدھا کر دیں گے‘۔

اس واقعے سے چند دن قبل شعبہ فلسفہ کے ایک طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا تھا۔ پس طالبات کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور انہوں نے وائس چانسلر کو شکایت رجسٹرڈ کرائی۔ مگر 23 جون کو اسلامی جمعیت طلبا کے کارکنوں نے شعبہ فلسفہ کے گرد گویا مورچے بنا لیے تاکہ ایک مرتبہ پھر طلبا کو تشدد کا نشانہ بنا سکیں۔ اساتذہ نے جب صورت حال کو بہتر بنانے کی غرض سے ان ’جانبازوں‘ کو وہاں سے جانے کا کہا تو ان سے بدتمیزی کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ جیسے سینئر استاد بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔ شعبہ کے اساتذہ نے ہڑتال کا فیصلہ کیا اور جب لیکچرر سحرین فر بخاری نوٹس لگانے کے لیے گئیں تو اسلامی جمعیت طلبا کے ایک سرگرم کارکن عاطف گجر نے ان سے بدزبانی کی۔ ’تمہارا دماغ خراب ہے‘، یہ جملہ کسی استاد کو بھلا اور کس تنظیم کے کارکن کہہ سکتے ہیں؟ نوٹس اسی وقت پھاڑ دیا گیا۔ شعبہ فلسفہ کے تقریباً تمام اساتذہ، جن میں شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ساجد علی، محمد جواد، سعد ملوک اور شاہد گل شامل ہیں، سے بدسلوکی ہوئی۔

24 جون کو شعبہ فلسفہ سے ایک ریلی نکلی جو وائس چانسلر کے دفتر تک گئی۔ جیسا کہ بیشتر قومی اخبارات میں رپورٹ ہوا، وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں تشدد اور بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا یقین دلایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلامی جمعیت طلبا کے کئی کارکن، جنہیں بعض طلبا ’غنڈے‘ کہنا پسند کرتے ہیں، ہراساں کرنے کے لیے ریلی کے ساتھ ساتھ رہے۔ انہوں نے بعدازاں اساتذہ کے خلاف نعرے بازی کی اور ایسا کرنے سے روکنے پر یونیورسٹی کے ایک گارڈ کو پیٹا۔ بعدازاں وہ نعرے لگاتے وہاں سے روانہ ہو گئے اور اگلے دن کی تیاری شروع کر دی۔

25 جون کی رات ہاسٹل میں موجود بعض طلبا کی طرف ایک طالب علم بھاگتا ہوا آیا اور بتایا کہ ’وہ‘ آ رہے ہیں۔ یہ ’وہ‘ کون تھے؟

دو درجن کے لگ بھگ اسلامی جمعیت کے کارکن (جنہیں آپ جو بھی کہنا پسند کریں) لاٹھیوں اور خود کاراسلحے سمیت فلسفہ کے طالب علموں پر حملہ آور ہونے کے لیے رواں دواں تھے ۔ ان کا شکار شاہد علی خان اور شاہ رخ بنے۔ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا گیا، اسی دوران شعبہ فلسفہ کے استاد شاہد گل وہاں پہنچے تاکہ طلبا کو بچایا جا سکے، نتیجتاً ان پر پستول تانا گیا، فائرنگ ہوئی۔ یہاں تک کہ آر او زخمی ہو گئے۔ اساتذہ کو گالیاں سہنا پڑیں، گیٹ کیپر کو بھی مارا گیا۔ کئی افراد جناح ہسپتال داخل ہوئے۔

اس ظلم کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا، فیصل آباد اور ملتان میں بھی مظاہرے منظم کیے جا رہے ہیں۔ مذمتی بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک تشدد کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے اپنا وعدہ وفا کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی آواز ابھی مدھم ہے۔

ایک گروہ پوری یونیورسٹی پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ بہیمانہ تشدد کو اپنی بات منوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار رہتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی میں لڑکوں اور لڑکیوں کو آپس میں بات نہیں کرنے دیتے تاکہ اسی بہانے ڈرا دھمکا کر یا تشدد کے ذریعے بار بار اپنی اجارہ داری کا احساس دلایا جاتا رہے۔ لیکن ایسے تمام معاملات میں مذہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ کب تک رہے گا؟ کب ہمارے تعلیمی اداروں کی صورت حال بہتر ہو گی اور کب بدسلوکی اور تشدد کرنے والوں کے ہاتھ روکے جائیں گے؟ کب ہر طالب علم کو تنظیم سازی کی آزادی نصیب ہو گی؟

One thought on “یہ ہے یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور

  1. p u mien jamiat ki badmashi khatum kurnay kay liay tamaam libral students org kay ithad ki zarorat hay,aik ka dukh sub ka dukh ka nara apnal kur jamiat kay mazaalum ka samna kia ja sakta hay,meri tamaam students say request hay kay eis cause par muthid ho jian.
    zawar hussain

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s