عسکری قیادت پر دباو کے اسباب

عسکری قیادت پر دباو کے اسباب

رضوان عطا

پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول کے قریب ہی اسامہ بن لادن کی کئی سال موجودگی کے بعد وہاں امریکی فوجیوں کی کارروائی ابتدائی طور پر پاک امریکا تعلقات کے سوال کو سامنے لائی۔ فوری طور پر ملکی خودمختاری اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی نوعیت زیرِبحث آئی۔ مگر بعدازاں پاکستان کے داخلی تضادات نے زیادہ اہمیت اختیار کرلی۔ عسکری قیادت سے لے کر سیاست دانوں تک اور عوام سے لے کر دانش وروں تک سب کو بعض ایسے سوالات کا سامنا ہوا جن کے جوابات دینا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی دشوار ضرور تھا۔

پہلا مشکل سوال کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ عسکری تربیت گاہ کے پہلو میں اسامہ بن لادن اتنے عرصے موجود رہا اور خفیہ ادارے لا علم رہے۔ فوری طور پر اس کا جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی گئی کیونکہ اگر یہ کہا جاتاکہ آئی ایس آئی کو علم نہیں تھا تو ایجنسی کے بارے میں عمومی طور پر پائی جانے والی رائے کہ اس کی ادارہ جاتی کارکردگی نہایت عمدہ ہے کو زد پہنچتی تھی اور اگر یہ مان لیا جاتا کہ پتا تھا تو پھر ملک کے اندر ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ اور امریکا سے اس کے لیے تعاون چہ معنی دارد!

سیاست دانوں کو عسکری قیادت کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بالآخر ناکامی تسلیم کی گئی۔ اس بریفنگ کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عسکری قیادت کو خارجی اور داخلی سطح پر شدید دباو کا سامنا ہے، اور یہ کہ انہیں سیاست دانوں کی مدد کی ضرورت پیش آئی ہے۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار کے آخری برسوں میں پاک فوج کی مقبولیت کا گراف جس قدر گر چکا تھا اسے بہتر بنانے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑی۔ گزشتہ قومی انتخابات سے لے کر سوات آپریشن تک اشفاق پرویز کیانی نے فوج کو سیاست سے قدرے دور رکھ کر اس کے امیج کو بحال کرنے کی کوشش کی اور اس میں ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے۔اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاست میں خفیہ اداروں کی مداخلت کی خبریں سامنے آرہی تھیں اور خارجہ پالیسی پر عسکری قیادت کا پلڑا کچھ زیادہ ہی بھاری دکھائی دیتا تھا مگر پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کی طرف سے اس نوعیت کے معاملات پراختیارات کے حصول کی کوششوں سے دستبرداری کی وجہ سے عسکری و سیاسی قیادت مناسب تعلقات رکھنے میں کامیاب رہی، اور یوں فوج کا امیج بھی متاثر نہیں ہوا۔ مگر اچانک امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کے قریب کارروائی کر گئے۔

یہ کئی دہائیوں میں فوج اور اس کے خفیہ اداروں کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا ہے جس کی وجوہات داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی۔

ایک طرف یہ دھچکا زیادہ عوام الناس میں پھیلے اس شعور اورذہنی تشکیل نے لگایا ہے جو شکست کے معنی سے نا آشنا ہے ۔

پرائمری سکول سے ہی طالب علموں کو یہ بتانا شروع کردیاجاتا ہے کہ ’ہم‘ ناقابلِ شکست ہیں۔ ہمارا نصاب درست تاریخ کی بجائے بہت سے ایسی من گھڑت حقائق ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتا ہے جس سے ایک مخصوص ذہنی تشکیل نمودار ہوتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ہونے والی ہر فوجی شکست کی وجوہات کو چھپانے کی کوشش ہوئی ہے۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو منظرِ عام پر آنے سے روکے رکھنا اس کی ایک واضح مثال ہے۔ عمومی حالات میں فوج کی ساکھ اس سے مضبوط ہوتی ہے اور اس کی کارکردگی اور کارروائی پر انگلی اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ مگر یہ حکمت عملی گلے بھی پڑسکتی ہے، کیونکہ اس کا نقصان دہرا ہے۔ ایک طرف اس ادارے سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرلی جاتی ہیں اور دوسری طرف ادارہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت کھودیتا ہے۔

پاکستان کے عسکری عزائم اس کی معاشی صورت حال سے میل نہیں کھارہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان پر پاکستان میں بعض مبصرین اس لیے خوش تھے کہ اب  اپنا اثر بڑھانے کا وقت قریب ہے ، نتیجتاً بھارت کا اثر کم ہوجائے گا۔

چین جیسی نئی معاشی طاقتوں سے مقابلے اور معاشی بحران میں گھرنے کے باعث امریکاافغانستان میں مسلسل زیادہ سرمایہ خرچ نہیں کرسکتا۔ اسی لیے آہستہ آہستہ وہ یہاں سے اپنی افواج کو واپس لے جانے کا پروگرام دے چکا ہے۔ امریکہ کو ان حالات میں اپنی خواہشات محدود کرنا ہی پڑیں، سو پاکستان کو بھی کرنا پڑیں گی۔ دوسرے معنوں میں حقیقت پسندانہہونا پڑے گا۔

بھارت کی معیشت مروجہ معنوں میں تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے اختیار میں سرمائے کی جو بڑی رقم ہے اس کا اچھا خاصا حصہ وہ ہتھیاروں پر خرچ کررہے ہیں۔ یوں معاشی اور عسکری دونوں میدانوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاع کے لیے مختص ہے، دفاع کی رقم عوامی فلاح کے منصوبوں کی قیمت پر وقتاً فوقتاً بڑھتی بھی رہتی ہے۔ مگر یہ’ناکافی“ ہے اس لیے بڑی مقدار میں ہتھیار امریکی امداد سے خریدے جاتے ہیں اور پھر اس امداد کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

مشرف دور میں پاکستان کی عسکری قیادت نے کشمیر کے معاملے پر جو پیش رفت کی تھی اس میں دیگر عوامل کے علاوہ شعوری یا لاشعوری طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا احساس بھی شامل تھا۔ آج اگر تعلقات کو بہتری کی جانب مائل کرنے کے اقدامات کی حمایت میں کاروباری حضرات کے ایک حلقے کی طرف سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے تو یہ بھی بھارت کی معاشی ترقی کی غماز ہے۔

بھارتی جمہوریت، معیشت اور طرزِ حکمرانی کے زیادہ گن گانے کی بھی ضرورت نہیں۔بھارت میں معاشی اور عسکری ترقی کے ساتھ بڑی طاقت بننے کی جس خواہش نے جنم لیا ہے اس کا ایک واضح اظہار وہاں کے ذرائع ابلاغ کے ایک مخصوص رویے سے ہوتا ہے۔مثلاً بھارتی اشتہاروں کا بڑا حصہ انڈین نیشنل ازم اور ہیروازم کو بنیاد بناکر پراڈکٹ بیچنے کی کوشش کررہا ہے۔ مختلف کارٹون سیریزمیں مذہبی کردارہر لمحہ ’دشمن‘ کو شکست دیتے نظر آتے ہیں۔ کثرت سے ٹاک شوز اور کالموں میں تبصروں کا محور بھارت بمقابلہ چین ہوتا ہے۔ پاکستان میں’دہشت گردوں‘ کی موجودگی کی چھوٹی خبر بڑی بات بن جاتی ہے۔ بھارت میں طاقت ور ملک بننے کا یہ جنون اس ذہنی تشکیل کو پیدا کر رہا ہے جو کسی بھی وقت عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے اور بعض حالات میں میانہ رو سیاسی قیادت کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد من موہن سنگھ اور کانگریس پر دباو بہت تھا، جو اگر مزید بڑھتا تو بات پاکستان سے جنگ تک جاسکتی تھی۔ مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ تباہی کی جانب دھکیل سکتا ہے بالخصوص چھوٹے ملک کو۔

بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے عدم توازن کے علاوہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگی عسکری قیادت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ امریکہ سے تعاون امداد کی قیمت پر ہے، یہ امداد امریکی مداخلت کو بھی ساتھ لاتی ہے جس کا ایکپہلو ریمنڈ ڈیوس کیس سامنے لایا، یعنی زیرِزمیں پھیلتا ہوا امریکی نیٹ ورک۔ اور دوسرا ڈرون حملوں کی شکل میں ہے۔ یہ دونوں عوامی سطح پر انتہائی غیر مقبول ہیں اور فوج کی طرف سے دونوں کی مخالفت ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جیسا کہ ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں ہوا ، اچانک رہائی کا سبب خفیہ اداروں کی کارستانی بتایا گیا جبکہ ڈرون حملوں کی وجوہ میں سے ایک امریکہ سے فوج کے تعلقات سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی مداخلت سے نفرت کو محض مذہبی شدت پسندوں کے اثر سے تعبیر کر کے جلدی سے نپٹابھی دیا جاتا ہے، مگر اس سے مستقبل قریب میں ہونے والی تبدیلیوں کے اندازے غلط ہو سکتے ہیں۔ امیر ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔ درمیانے طبقے اور نچلے درمیانے طبقے میں اس وقت بے چینی کے اثرات نمایاں ہیں۔ افراطِ زر نے اس طبقے کی قوتِ خرید پر جیسے بہت بڑا ڈاکہ ڈالا ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد اپنے ہیجان، بے بسی اور تشویش کا اظہار مذہبی استعاروں میں کررہی ہے جو بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ، کوبھی اس سے جوڑدیتی ہے۔ سول کے علاوہ یہ بے چینی نچلی سطح کے فوجیوں میں بھی ہے۔ اسی لیے عسکری قیادت نے پروگرام بنایا کہ وہ چھاؤنیوں کے دورے کر کے ان سے مخاطب ہو۔ سماج میں جہاں یہ بے چینی مذہبی زبان میں نہیں رنگی وہاں اس نے پاکستانیت کا لبادہ اوڑھا ہے، خودمختاری کا لفظ زبان زدِ عام ہے۔ اسی سے ملتی جلتی لفاظی ہمارے عسکری ادارے اپناتے رہے ہیں مگر آج ان کے لیے اس کا پاس رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

سیاسی میدان میں حالات کچھ یوں بدلے ہیں کہ کل تک اسٹیبلشمنٹ سمجھی جانے والی مسلم لیگ(نواز) آئی ایس آئی پر تنقید کررہی ہے اور نواز شریف خارجہ پالیسی سے فوج کے کردار کو ختم کرنا کے خواہاں نظرآرہے ہیں، جماعت اسلامی کا موقف بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے عتاب میں رہنے والی پاکستان پیپلزپارٹی آئی ایس آئی اور فوج کا دفاع کررہی ہے۔ اس کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی ہے جو اس دفاع کے لےے اب بھارت سے خطرے والی وہ دلیل بھی پیش کرچکی ہے جو جماعت اسلامی کا شیوہ رہی۔

مسلم لیگ (نواز) کو پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (قائد) کے اتحاد سے خاصی پریشانی ہے ۔ اس اتحاد کے قیام میں خفیہ اداروں کی مبینہ معاونت نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کو بہت ناگوار گزری ہے، اس سب کے باوجود ان کا موقف اصولی ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ دوسری طرف نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے امریکہ کی طرف انگلی اٹھانے سے جان بوجھ کر گریز کیا اور عسکری قیادت اور فوج کے گرد ہی زیادہ تر بات کی۔ مسلم لیگ (نواز) کے رہنماﺅں سے جنرل شجاع پاشا کی بریفنگ کے دوران تلخ کلامی تعلقات میں تناؤ کا خوب پتا دیتی ہے۔ اب ملک کے اندر بعض سیاسی قوتیں عسکری قیادت کو آڑے ہاتھوں لینا چاہتی ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان کا یہ رویہ کتنا دیرپا ہو گا۔

دوسری طرف اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے اوباما انتظامیہ کو یہ کہنے کا موقع بھی فراہم کر دیا ہے کہ افغانستان میں اب بہت بڑی کامیابی نصیب ہو چکی ہے اس لیے اب فوج کو آہستہ آہستہ واپس بلایا جائے۔ امریکا نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کا مخالف ملک بن کر سامنے آئے کیونکہ خطے میں اس کے طویل المدت منصوبوں کے لیے یہ خطرناک ہو گا۔ اسی لیے جان کیری پاکستان کو صحیح معنوں میں اتحادی بنانے آئے ہیں جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ امریکی کارروائیوں پر خاموش رہا جائے اور شمالی وزیرستان اور بعض دیگر علاقوں میں آپریشن کیا جائے۔ عسکری قیادت کے لیے اب اسے تسلیم کرنا بہت دشوار ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s