نیو لبرل ازم کے خلاف انقلاب



نیو لبرل ازم کے خلاف انقلاب

 

تحریر: والٹر آرمبرسٹ (23فروری 2011ء )

حصہ اول

 

15 فروری کو صبح 9:45 بجے کلنا خالد سعید کے نام سے بنائے گئے فیس بُک پیج پر ایک تبصرہ (کومنٹ) ارسال کیا گیا۔ اس پیج کا منتظم وائل غنیم ہے جو اب بہت مشہور ہو چکا ہے۔ اس تبصرے میں اس خبر کہ یورپی حکومتوں پر (حسنی )مُبارک آمرانہ حکومت کے حال ہی میں بے دخل کئے گئے ممبران کے بنک اکاوٴنٹ منجمند کرنے کے لیے دباوٴ ہے، کے حوالے سے لکھا تھا۔ ”شاندار خبر۔۔۔ ہم کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہتے۔۔۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ہر اس شخص کا احتساب کریں جس نے اس قوم کے ساتھ غلط کیا ہے۔ قانون کے مطابق ہم اس رقم کی واپسی چاہتے ہیں جو اس قوم سے چرائی گئی ہے۔۔۔ کیونکہ یہ مصریوں کی رقم ہے، جن میں چالیس فیصد غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارتے ہیں“۔ جب میں اس سلسلہ (تھریڈ) پر ہونے والی گفتگو کو اکیس گھنٹے بعد کھولا تو پسند (لائیک) کے بٹن پر 5999 افراد کلک کر چکے تھے اور تقریباً 5500 نے اس پر تبصرہ لکھ چھوڑا تھا۔ مَیں نے پانچ ہزار سے کچھ زیادہ تبصرے پڑھنے جیسا بڑا کام نہیں کیا ( بلاشبہ جب میں یہ لکھ رہا تھا تو مزید بھی شامل ہوگئے)۔ البتہ کسی حد تک انہیں دیکھنے کے بعد مجھے اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ زیادہ تر تبصرے انہوں نے کیے جنہوں نے پسند (لائیک) کے بٹن پر کلک کیا۔ ان تبصروں میں چند ایک (حسنی مبارک کی) آمرانہ حکومت کے حامیوں کے بھی تھے اور کچھ نے جناب غنیم کی شخصیت سے عقیدت مندی پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔

فیس بُک کا یہ سلسلہ (تھریڈ) آج کے حالات کی علامات کو ظاہر کرتا ہے۔ اب جبکہ مبارک آمرانہ حکومت گرچکی ہے، اس کے جرائم کا احتساب اور اس کے رفقا کی نشاندہی پر اصرار ہونے لگا ہے۔ میدان التحریر (تحریر سکوائر) میں ہونے والی بات چیت، گانوں اور شاعری میں ان چوروں کے خلاف غم و غصے کا عنصر ہمیشہ رہا جنہوں نے آمرانہ حکومت کی کرپشن سے فائدہ اٹھایا۔ اب آمرانہ حکومت کے حامیوں کی فہرستیں پریس اور بلاگز میں گردش کررہی ہیں۔ مبارک اور اس کے قریب ترین رشتہ دار (بیٹا جمال اور علاء) ہمیشہ ان فہرستوں میں سب سے اوپر ہوتے ہیں۔ مختلف مضامین میں ان کی ذاتی دولت کے اعدادوشمار کم از کم 2 سے 3 ارب ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 70 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں۔ (زیادہ بتائے گئے اعداد و شمار مظاہرین نے بہت بار سائنز پر لکھ کر اٹھائے)۔ معزول ہونے والی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور مشرقِ وسطیٰ میں سٹیل کے سب سے بڑے مرکزِ کشش احمد عزکے پاس خیال کیا جاتا ہے کہ 18 ارب ڈالر ہیں؛ سابق وزیرِسیاحت زہیر جرانہ کے پاس 13 ارب ڈالر؛ ہاوٴسنگ کے وزیر احمد المغربی کے پاس 11 ارب ڈالر؛ سابق وزیرِداخلہ حبیب عادل، جس سے ایک بدلگام’پولیس اسٹیٹ‘کے نگران ہونے کی وجہ سے خاصی نفرت کی جا تی تھی، 8 ارب ڈالر بٹورنے میں کامیاب ہوا۔۔۔ ساری عمر سول ملازمت کرنے والے نے جو ہاتھ مارا ہے اسے مناسب کہا جا سکتا ہے! یہ اعدادوشمار غلط بھی ہو سکتے ہیں، یہ ان سے بہت کم یا بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید ہمیں بالکل درست رقم کا پتہ نہ چلے کیونکہ زیادہ تر رقم مصر سے باہر ہے۔ اور بیرونی حکومتیں صرف اسی صورت میں مبارک آمرانہ حکومت کے ارکان کے مالی معاملات کی تفتیش کریں گی اگر مصر کی حکومت ایسا کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے۔ درست اعدادوشمار جو بھی ہوں مبارک آمرانہ حکومت کی مالی بدعنوانی سے انکار ممکن نہیں۔ مبارک کے کم سے کم اعداد وشمار کا جو حوالہ دیا گیا ہے (نیویارک ٹائمز میں ) وہ ”صرف“ 2 سے 3 ارب ڈالر ہے، اور یہ ایسے شخص کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جو 1950ء میں 22 سال کی عمر میں فضائیہ میں شامل ہوا اور ’عوامی خدمت‘ کے ساٹھ سالہ کیریئر پر سوار ہو گیا۔

آمرانہ حکومت کے یاروں کے اربوں کی تلاش بعد از مبارک دور میں ایک فطری رجحان ہے لیکن یہ سیاسی نظام کی ازسرِنو تعمیر کی کوششوں کو بھٹکا بھی سکتا ہے۔ ظاہر ہے وہ جنرلز جواب مصر کے حکمران ہیں خوش ہوں گے کہ سارا غبار سیاست دانوں پر نکل رہا ہے۔ مبارک دور میں پرلے درجے کے بدعنوانوں میں اب ان(جرنلوں) کا نام شامل نہیں۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ فوج کی اعلیٰ سطحیں اس طرح کے نظام ( یہ نظام بعض اوقات ایک دوسرے میں گھُسے ہوتے ہیں) سے فائدہ اٹھا رہی ہیں جس طرح کے نظام نے ان سویلین سیاست دانوں کو سیراب کیا جو اب عوام کی نظروں میں ہیں مثلاً احمدعز اور حبیب العادلی۔

سیاسی نظام کا بے تحاشہ استعمال کرکے ذاتی فائدے کے حصول کو بدعنوانی کا نام دینا کُل تصویر کو نظر انداز کرکے اس کے جُز کو دیکھنے جیسا ہے۔ بلا شبہ ایسا استحصال مصری شہریوں پر ظلم ہے لیکن اسے بدعنوانی کہنے سے ایسا لگتا ہے کہ مسئلہ کردار میں گڑبڑ ہے بصورت دیگر نظام ہمواری کے ساتھ کام کرتا رہتا۔ اگر ایسا ہے تو مبارک آمرانہ حکومت کے جرائم کو برے کردار کا شاخسانہ قرار دیا جا سکتا ہے یعنی افراد بدل دیں اور مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن لازمی نہیں کہ آمرانہ حکومت کے ساتھ اصل مسئلہ یہی تھا کہ حکومت کے اعلیٰ اہلکار عام معنوں میں چور تھے۔ لازمی نہیں کہ وہ خزانے سے براہِ راست چراتے ہوں۔ بلکہ وہ سیاست اور نجکاری کے ملاپ سے سیراب ہوئے۔ یہ نظام شکنی کم اور معمول کی بات زیادہ تھی۔ مبارک کے مصر کا لبِ لباب یہی ہے کہ یہ ایک نیو لبرل ریاست تھا۔

اگرچہ اب لبرل ازم عام استعمال ہونے والی اصطلاح ہے لیکن پھر بھی ایک لمحہ رک کر اس پر غور کرنا کہ اس کے معنی کیا ہیں، مناسب ہوگا۔ اپنی کتاب نیولبرل ازم کی مختصر تاریخ (A Brief History of Neoliberalism) میں سماجی جغرافیہ دان ( geographer social ) ڈیوڈ ہاروے اس کا خاکہ یوں پیش کرتا ہے ”سیاسی معاشی عملی ضابطہٴ عمل (practices) کا وہ نظریہ جو تجویز کرتا ہے کہ انسانوں کی فلاح کو ایک ایسے رسمی ڈھانچے کے اندر،جس کی خصوصیت نجی ملکیت کے محکم حقوق، آزاد منڈیاں اور آزاد تجارت ہو، انفرادی کاروباری تنظیم کاری (انٹرپرینیور شپ )کی آزادیاں دے کر اوراسے با ہنر بنا کر سب سے بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے“ نولبرل ریاستیں ضمانت دیتی ہیں، ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کے ذریعیبھی، منڈی کے ’مناسب افعال‘ کی، اور جہاں ضرورت ہو اسے پیدا کرتی ہیں (مثلاً زمین، پانی، تعلیم، صحت، سوشل سیکورٹی یا ماحولیاتی آلودگی)۔ منڈیوں کی حرمت کی ضمانت ہی ریاست کے جائز افعال کی حد سمجھی جاتی ہے، اور ریاستی مداخلت ہمیشہ منڈیوں کے ماتحت ہوتی ہے۔ نہ صرف سامان اور خدمات کی پیداوار بلکہ سارا انسانی ڈھنگ منڈی کے نصرام تک محدود ہوجاتا ہے۔ منڈی بذاتِ خود ایک مقصد بن جاتی ہے، اور چونکہ ریاستوں کا جائز فعل منڈیوں کا دفاع اور انہیں نئے حلقہٴ اثر میں لے جانا ہوتا ہے اس لیے اگر لوگ ایسا چناوٴ کریں کہ جو منڈیوں کے بے قید افعال میں رکاوٹ ڈالے تو جمہوریت احتمالی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ یا انسانی endeavor کے لیے مخصوص دائرے (مثلاً تعلیم اور صحت) منڈی کی منطق کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک خالصتاً نیولبرل ریاست فلسفیانہ لحاظ سے منڈی کو اختیار دیتی ہے، یہاں تک کہ اپنے شہریوں سے بڑھ کر۔ بطور نظریہ نیو لبرل ازم اتنا ہی یوٹوپیائی (خیالی) ہے جتنا خیالی کمیونزم۔ حقیقی دنیا میں یوٹوپیائی نیولبرل ازم کا اطلاق بگڑے ہوئے سماج کی طرف لے جاتا ہے جیسا کہ یوٹوپیائی کمیونزم کے اطلاق نے کیا۔

بطور نولبرل ریاست مصر کی تاریخ پر دو مشاہدات بالترتیب یوں ہیں۔ اول، مبارک کا مصر مشرقِ وسطیٰ میں نیولبرل پالیسیوں کو لاگو کرنے والوں کی اولین صفوں میں سمجھا جاتا تھا (یہ اتفاقاً نہیں کہ بن علی کا تیونس بھی)۔ دوم، مبارک دور کی سیاسی معاشیات کی صورت حال اس سے مختلف تھی جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی تھی، اور یہی معاملہ چلّی سے لے کر انڈونیشیا تک تمام نیو لبرل ریاستوں کا تھا۔ سیاسی سائنسدان ٹیموتھے مچل نے ’ رولز آف ایکسپرٹس‘ میں ایک چشم کشا مضمون میں نیولبرل ازم کے مصری برانڈ پر لکھا ہے (اس میں ایک باب کا عنوان’ڈریم لینڈ‘ ہے جو مبارک کے لنگوٹیے ہونے کی وجہ سے اب بدنام ہوچکے احمد بھجت کی رہائشی تعمیرات پر لکھا گیا اور Merip میں شائع ہوا) ۔مچل نے اگرچہ نیولبرل ازم کو پیش کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس نیولبرل ازم کی تعریف عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جیسے ادارے کرتے تھے کہ یہ آزاد منڈی کی کامیابی کی روشن مثال ہے مگر پیمائش کے رائج طریقے نے مصری معیشت کی نہایت ناکافی تصویر پیش کی گئی۔ ”اصولاً“ وہ لوگ جن کے لیے دراصل مصری نیولبرل ازم سب سے زیادہ کارآمد رہا وہ سماج کے سب سے کمزور ارکان تھے، البتہ ان لوگوں کا نیولبرل سے ہونے والا تجربہ خوشگوار نہیں تھا۔ منظم مزدوروں کو بری طرح دبایا گیا۔ سرکاری تعلیم اور صحت کے نظام بے اعتنائی اور نج کاری کے ملاپ سے انحطاط پذیر ہوئے۔ زیادہ تر آبادی جمود کے سبب یا افراطِ زر میں میں اضافے کیتناسب سے اجرت میں ہونے والی کمی کا شکار ہوئی۔ سرکار کے مطابق گذشتہ سال بے روزگاری کی شرح تقریباً 9.4 فیصد تھی (نوجوانوں کے ہاں بہت زیادہ، جو 25 جنوری کے انقلاب کا ہراول دستہ بنے) اور آبادی کا 20 فیصد غربت کی اس لکیر ، جس کی حد 2 ڈالر یومیہ طے کی گئی تھی،سے نیچے رہتا تھا۔

امیروں کے لیے اصول بہت مختلف تھے۔ مصر نے اپنے سرکاری شعبے کو اس طرح نہیں سکیڑا جس طرح نیولبرل نظریے (ڈاکٹرائن) کے تحت متوقع تھا۔ وسائل کو مختصر اور پہلے سے مال دار ایلیٹ (بالائی طبقے) کی طرف منتقل کردیا گیا۔ مضبوط سیاسی تعلق داریاں رکھنے والوں کے لیے نج کاری نعمتِ غیرمتوقع ثابت ہوئی اور انہوں نے منڈی کی قیمت سے کہیں کم پر انہیں خریدا، یا سیاحت سے لے کر غیرملکی امداد تک مختلف ذرائع پر اجارہ دارانہ وصولیوں کے ذریعے کمایا۔ منافع کا بہت بڑا تناسب ان کمپنیوں نے حاصل کیا جنہوں نے بنیادی تعمیراتی مواد فراہم کیا جیسے سٹیل اور سیمنٹ، اور انہوں نے یہ حکومتی ٹھیکوں سے کیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیولبرل نظریے کی جانب سے تجریداً تجویز کردہ ریاست کے محدود کردار کا واسطہ حقیقت سے تھا۔ مبارک کے مصر میں کاروبار اور حکومت اس قدر ایک دوسرے میں گھسے ہوئے تھے کہ باہر سے مشاہدہ کرنے والے کو انہیں علیحدہ کرنا عموماً دشوار ہوتا ہوتا تھا۔ آسمان کو چھوتے منافعوں کے حصول کے لیے چونکہ سیاسی رشتے سب سے یقینی راستہ تھے اس لیے کاروباری لوگ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی، مبارک کی پارٹی) کے تحت جعلی انتخابات کے ذریعے سیاسی عہدہ حاصل کرنا اچھا آغاز ہوتا تھا۔

پیپلز اسمبلی اور کنسلٹیٹو کونسل میں نشستوں کے لیے جو بھی مقابلہ ہوتا وہ این ڈی اے کے اندر ہوتا۔ این ڈی اے کے علاوہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کینمائندگی سیاسی حساب کتاب کا معاملہ ہوتا جو کسی خاص انتخابات کے لیے کیا جاتا: 2005ء میں اخوان المسلمین سے وابستہ سمجھے جانے والے امیدواروں کو آنے دیا گیا (اور واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بجا دی) ؛ 2010ء میں این ڈی پی کا مکمل غلبہ کرادیا (اور اس سے سرکاری اثاثوں کو ’نجی‘ سرمایہ کاروں میں تقسیم کرنے کے نئے متوقع دور کی راہ ہموار کردی گئی)۔ (جاری ہے، دوسرا اور آخری حصہ یہاں جلد پیسٹ کر دیا جائے گا)

 

بشکریہ http://www.jadaliyya.com/pages/index/717/the-revolution-against-neoliberalism-

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s