تاریخ کو آگے بڑھانے والی قوت انقلاب ہے

[۱۹ فروری ۲۰۱۱ء کے سوشلسٹ ورکرکے اداریے کا (جلدی میں کیا گیا) ترجمہ]

تاریخ کو آگے بڑھانے والی قوت انقلاب ہے

انقلابِ مصر ان سب کے لیے ایک دھچکا ہے جن کے مطابق تبدیلی ناممکن ہے۔ جب عام لوگ ایک پرانے سماج کو اکھاڑ پھینکتے ہیں اور نئے کی تعمیر کا آغاز کرتے ہیں تو یہ پُر مسرت لمحے ہوتے ہیں۔

مصر کے عوام کی طرف سے حسنی مبارک کو نکال باہر کرنا ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔

امریکی سوشلسٹ ہال ڈریپر نے انقلاب کے بارے میں لکھا: “سماج کے آغاز ہی سے ایسے بے شمار نظریات رہے ہیں جو یہ ثابتکرتے ہیں کہ استبداد ناگزیر ہے اور جمہوریت و آزادی ناممکن ہے۔ کسی حکمران طبقے اور اس کے خادم دانشوروں کے لیے اس سے زیادہ موزوں کوئی نظریہ (آئیڈیالوجی) نہیں۔

آخری تجزیے میں، انہیں جھوٹا ثابت کرنے کا طریقہ بذاتِ خود جدوجہد ہے۔

نیچے سے ہونے والی یہ جدوجہد  اوپر سے آنے والے نظریات کی وجہ سے کبھی نہیں رکی، اور اس نے دنیا کو بار بار بدلا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے انقلابِ مصر کے بارے میں فرضی باتیں بھی کی ہیں اور درست تاریخی تماثیل کی نشاندہی بھی کی ہے، اگرچہ کچھ تفاصیل کو گڈمڈ کیا ہے۔

اس نے کہا ہے فیس بُک انقلاب کے بارے چند انتباہ ہیں،۔

مصر میں سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) کا کردار اتنا سنسنی خیز بنا ہوا ہے کہ یہ آسانی سے بھول گیا ہے کہ فرانسیسی ٹیوٹر کی مدد کے بغیر باسٹیل پر دھاوا بولنے میں کامیاب ہوئے۔۔۔ اور بالشویکوں نے ونٹر پیلس پر بلا تامل قبضہ فیس بُک پر ایک دوسرے کو تصاویر بھیجنے کے لیے کیا۔

انقلاب تاریخ میں حاوی ہیں۔ سرمایہ داری، وہ نظام جس میں آج ہم رہتے ہیں، جاگیرداری کے خلاف انقلابوں کے ایک سلسلے کا نتیجہ ہے۔

سماج کبھی سیدھی اور ہموار رفتار سے ترقی نہیں کرتے، بلکہ ایک دم آنے والے جھٹکوں کے سلسلوں سے کرتے ہیں۔ اور ہر موڑ پر عوام کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔

بلاشبہ سماجوں میں حکمرانوں کو بار بار الٹایا جاتا ہے۔ لیکن محض رہنما کی تبدیلی انقلاب نہیں ہوتی۔

انقلاب کا مطلب ہے بنیادی تبدیلی۔

ریاستوں کی ہیئت بدل جاتی ہے، نیا حکمران طبقہ پرانے کو بدل دیتا ہے اور کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔

یہ وہ چیزیں ہیں جو مصر میں پھیلتے انقلاب کے بارے میں اہم ہیں۔

انقلاب محض ریاستی اقتدار میں تبدیلی نہیں۔

یہ ریاستی اقتدار کو ڈرامائی چیلنجز درپیش کرتا ہے، لیکن یہ (چیلنجز) ایک وسیع عمل کا حصہ ہں۔

مبارک کو گرانا خطے میں امریکی مفادات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

اس کی کچھ حد تک وجہ حکمران طبقے میں اعتماد کی کمی کے سبب اوپری سطح پر بڑی تقسیم ہے۔

اس خطے کی سٹریٹجک اہمیت کا مطلب ہے کہ پورے مشرقِ وسطی میں، الجزائر سے لے کر ایران تک، ابھار عالمی سیاست کو ازسرِنو مرتب کرے گا، چاہے یہ ابھار کسی بھی طرح سے آگے بڑھے۔

اگر عوام ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رہے تو طاقت کا سیاسی توازن عالمی سطح پر غریبوں کے حق میں اور امیروں کے خلاف ہوگا۔

انقلاب کچھ اور بھی پھیلاتا ہے۔

جیسا کہ کارل مارکس نے وضاحت کی انقلاب صرف اس لیے ضروری نہیں کہ حکمران طبقے کو کسی دوسرے طریقے سے اکھاڑا نہیں جا سکتا، بلکہ اس لیے بھی کہ جو طبقہ اسے اکھاڑ پھینک رہا ہے صرف انقلاب میں ہی طویل عرصے سے اپنے اوپر پڑنے والی غلاظت سے چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے اور ایک نئے سماج کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

یہ ایک بصیرت (وژن) دیتا ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کو مظلوموں کا جشن مان کر مناتے ہیں۔

نہ صرف روزانہ کی سُستی دور ہوتی ہے بلکہ جدوجہد کا تجربہ اس تقسیم شدہ سماج میں عوام کو طویل عرصے سے اپنے اوپر موجود کچھ غلاظت پھینکنے کی طاقت دیتا ہے۔

اور یہ بہت اہم ہے کہ مزدوروں کی ہڑتالوں نے طاقت کا توازن اتنا بدل دیا کہ مبارک باہر دھکیلا گیا۔

اس سے مزدوروں کی طاقت کا پتا چلتا ہے، صرف تعداد میں ہی نہیں بلکہ منظم مزدوروں کے طور پر، جو پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس طاقت کو انقلاب کے مرکز پر لانا جدوجہد کو بڑھانے کے لیے بنیادی ہے۔

ہڑتالوں کی بڑھتی ہوئی تحریک خود تنظیمی (سیلف آرگنائزیشن) کا نیا ادارہ بن سکتی ہے۔

فیکٹری کمیٹیوں اور محلہ دفاعی کمیٹیوں سے عوام ایسی تنظیموں کی طرف بڑھ سکتے ہیں جو اِس وقت اوپر سے نیچے موجود حکام کا متبادل بن جائیں۔

مصر میں مزدوروں کی خود مختار تنظیم سازی کا آغاز اس عمل کا ایک حصہ ہے۔

یہ ایک آمر کو گرانے سے بڑھ کر نیچے سے آنے والے مزدور انقلاب کا امکان آشکار کرتا ہے۔

کروڑوں لوگوں پر عیاں ہے کہ ہمیں جلد از جلد ایک مختلف طرز کی دنیا چاہیئے۔

مصر کا انقلاب اسے حاصل کرنے کے امکان پر روشنی ڈالتا ہے۔

جیسا کہ آرٹسٹ اور انقلابی ولیم مورس نے لکھا، یہ ایک خواب نہیں بلکہ ایک مقصد ہے، مردوں اور عورتوں نے اس کے لیے جان دی ہے، قدیم زمانے میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے زمانے میں۔

وہ اس کے لیے قیدخانے میں گئے، کانوں میں کام کیا، جلا وطن ہوئے، برباد ہوئے۔

میرا یقین کرو، جب خوابوں کے لیے ایسی چیزیں برداشت کی جاتی ہیں تو خواب بالآخر سچے ہوجاتے ہیں۔

مترجم: رضوان عطا

۱۹ فروری ۲۰۱۱ء کے “سوشلسٹ ورکر” کے اداریے کا (جلدی میں کیا گیا) ترجمہ
تاریخ کو آگے بڑھانے والی قوت انقلاب ہے 

انقلابِ مصر ان سب کے لیے ایک دھچکا ہے جو سوچتے ہیں کہ تبدیلی ناممکن ہے۔ جب عام لوگ ایک پرانے سماج کو اکھاڑ پھینکتے ہیں اور نئے کی تعمیر کا آغاز کرتے ہیں تو یہ پُر مسرت لمحے ہوتے ہیں۔
مصر کے عوام کی طرف سے حسنی مبارک کو نکال باہر کرنا ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔
امریکی سوشلسٹ ڈال ہالپر نے انقلاب کے بارے میں لکھا: “سماج کے آغاز ہی سے ایسے بے شمار نظریات رہے ہیں جو یہ ‘ثابت’ کرتے ہیں کہ استبداد ناگزیر ہے اور جمہوریت و آزادی ناممکن ہے۔ کسی حکمران طبقے اور اس کے خادم دانشوروں کے لیے اس سے زیادہ موزوں کوئی نظریہ (آئیڈیالوجی) نہیں۔
آخری تجزیے میں، انہیں جھوٹا ثابت کرنے کا طریقہ بذاتِ خود جدوجہد ہے۔
نیچے سے ہونے والی یہ جدوجہد کبھی اوپر سے آنے والے نظریات کی وجہ سے کبھی نہیں رکی، اور اس نے دنیا کو بار بار بدلا ہے۔”
فنانشل ٹائمز نے انقلابِ مصر کے بارے میں فرضی باتیں بھی کی ہیں اور درست تاریخی تماثیل بھی دونوں کی نشاندہی بھی کی ہے، اگرچہ کچھ تفاصیل کو گڈمڈ کیا ہے۔
اس نے کہا ہے “فیس بُک انقلاب کے بارے چند انتباہ ہیں،”۔
مصر میں سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) کا کردار اتنا سنسنی خیز بنا ہوا ہے کہ یہ آسانی سے بھول گیا ہے کہ فرانسیسی ٹیوٹر کی مدد کے بغیر باسٹیل پر دھاوا بولنے میں کامیاب ہوئے۔۔۔ اور بالشویکوں نے ونٹر پیلس پر بلا تامل قبضہ فیس بُک پر ایک دوسرے کو تصاویر بھیجنے کے لیے کیا۔”
انقلاب تاریخ میں حاوی ہیں۔ سرمایہ داری، وہ نظام جس میں آج ہم رہتے ہیں، جاگیرداری کے خلاف انقلابوں کے ایک سلسلے کا نتیجہ ہے۔
سماج کبھی سیدھی اور ہموار رفتار سے ترقی نہیں کرتے، بلکہ ایک دم آنے والے جھٹکوں کے سلسلوں سے کرتے ہیں۔ اور ہر موڑ پر عوام کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔
بلاشبہ سماجوں میں حکمرانوں کو بار بار الٹایا جاتا ہے۔ لیکن محض رہنما کی تبدیلی انقلاب نہیں ہوتی۔
انقلاب کا مطلب ہے بنیادی تبدیلی۔
ریاستوں کی ہیئت بدل جاتی ہے، نیا حکمران طبقہ پرانے کو بدل دیتا ہے اور کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو مصر میں پھیلتے انقلاب کے بارے میں اہم ہیں۔
انقلاب محض ریاستی اقتدار میں تبدیلی نہیں۔
یہ ریاستی اقتدار کو ڈرامائی چیلنجز درپیش کرتا ہے، لیکن یہ ایک وسیع عمل کا ایک حصہ ہے۔
مبارک کو گرانا خطے میں امریکی مفادات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
اس کی کچھ حد تک وجہ حکمران طبقے میں اعتماد کی کمی کے سبب اوپری سطح پر بڑی تقسیم ہے۔
اس خطے کی سٹریٹجک اہمیت کا مطلب ہے کہ پورے مشرقِ وسطی میں، الجزائر سے لے کر ایران تک، ابھار عالمی سیاست کو ازسرِنو مرتب کرے گی، چاہے یہ ابھار کسی بھی طرح سے آگے بڑھے۔
اگر عوام ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رہے تو طاقت کا سیاسی توازن عالمی سطح پر غریبوں کے حق میں اور امیروں کے خلاف ہوگا۔
انقلاب کچھ اور بھی پھیلاتا ہے۔
جیسا کہ کارل مارکس نے وضاحت کی “انقلاب صرف اس لیے ضروری نہیں کہ حکمران طبقے کو کسی دوسرے طریقے سے اکھاڑا نہیں جا سکتا، بلکہ اس لیے بھی کہ جو طبقہ اسے اکھاڑ پھینک رہا ہے صرف انقلاب میں ہی طویل عرصے سے اپنے اوپر پڑنے والی غلاظت سے چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے اور ایک نئے سماج کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔”
یہ ایک بصیرت دیتا ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کو مظلوموں کا جشن مان کر مناتے ہیں۔
نہ صرف روزانہ کی سستی دور ہوتی ہے  بلکہ جدوجہد کا تجربہ اس تقسیم شدہ سماج میں عوام کو طویل عرصے سے اپنے اوپر موجود کچھ غلاظت پھینکنے کی طاقت دیتا ہے۔
اور یہ بہت اہم ہے کہ مزدوروں کی ہڑتالوں نے طاقت کا توازن  اتنا بدل دیا کہ مبارک باہر دھکیلا گیا۔
اس سے مزدوروں کی طاقت کا پتا چلتا ہے، صرف تعداد میں ہی نہیں بلکہ منظم مزدوروں کے طور پر، جو پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس طاقت کو انقلاب کے مرکز پر لانا جدوجہد کو بڑھانے کے لیے بنیادی ہے۔
ہڑتالوں کی بڑھتی ہوئی تحریک خود تنظیمی (سیلف آرگنائزیشن) کا  نیا ادارہ بن سکتا ہے۔
فیکٹری کمیٹیوں اور محلہ دفاعی کمیٹیوں سے عوام ایسی تنظیموں کی طرف بڑھ سکتے ہیں جو اس وقت اوپر سے نیچے موجود حکام کا متبادل بن جائیں۔
مصر میں مزدوروں کی خود مختار تنظیم سازی کا آغاز اس عمل کا ایک حصہ ہے
یہ  ایک آمر کو گرانے سے بڑھ کر نیچے سے آنے والے مزدور انقلاب کا امکان آشکارا کرتا ہے۔
کروڑوں لوگوں پر عیاں ہے کہ ہمیں جلد از جلد ایک مختلف طرز کی دنیا چاہیئے۔
مصر کا انقلاب اسے حاصل کرنے کے امکان پر روشنی ڈالتا ہے۔
جیسا کہ آرٹسٹ اور انقلابی ولیم مورس نے لکھا، “یہ ایک خواب نہیں بلکہ ایک مقصد ہے، مردوں اور عورتوں نے اس کے لیے جان دی ہے، قدیم زمانے میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے زمانے میں۔
وہ اس کے لیے قیدخانے میں گئے، کانوں میں کام کیا، جلا وطن ہوئے، برباد ہوئے۔
“میرا یقین کرو، جب خوابوں کے لیے ایسی چیزیں برداشت کی جاتی ہیں تو خواب بالآخر سچے ہوجاتے ہیں۔”

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s