دھوبی گھاٹ

’دھوبی گھاٹ‘

رضوان عطا

آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ممبئی ’دھوبی گھاٹ‘ کے ڈائریکٹر کے مطابق ان کی فلم کا پانچواں کردار ہے۔ فلم کا نام اس شہر میں واقع دنیا کی سب سے بڑی لانڈری کہلانے والے دھوبی گھاٹ پر رکھا گیا ہے۔ فلم ’دھوبی گھاٹ‘ ممبئی میں چار مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے تعلق، خواہشات اور احساسات کی کہانی ہے۔ ارون (عامر خان) ایک تنہا مصور ہے۔ مُنا (پراتیک ببر) نوجوان دھوبی ہے، ایک بھارتی نژاد امریکی اور بینکار لڑکی شائی ہے اور نئی شادی شدہ یاسمین (کریتی ملہوترا) ہے۔

ممبئی یوں ہی اتنا بڑا شہر نہیں بنا، معاشی مرکز میں روزگار کی تلاش بھارت کے ہر علاقے سے لوگوں کو یہاں کھینچ لائی ہے۔ یہ بھارت میں ثقافتوں، مذاہب اور قومیتوں کے ملاپ کی سب بڑی جگہ بھی ہے۔ یہاں تجربوں کا ہجوم ہے، انہی میں سے کرن راوٴ نے بطور ڈائریکٹر اپنی پہلی فلم کے لیے کچھ چن لیے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ارون کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش پر شائی کی اس سے ملاقات ہوتی ہے۔ اپنی مصوری پر تبصرہ کرنے والوں سے ارون بے زار ہے مگر شائی سے ملاقات کے بعد اسی سے ہی گفتگو ہونے لگتی ہیں اور پھر شائی ارون کے ساتھ اس کے فلیٹ میں ایک رات گزارتی ہے۔ صبح شائی مسرور ہے مگر ارون کی باتوں کا مطلب شائی کے نزدیک یہی نکلتا ہے، ”رات گئی، بات گئی“۔ وہ ناراض ہو کر چلی جاتی ہے۔

ارون فلیٹ بدل کر جہاں آیا ہے وہاں سے باہر کا نظارہ ایک مصور کے لیے دعوت کی طرح ہے مگر اس کے کینوس پر رنگ بکھیرنے کا باعث الماری میں پڑی وڈیو کیسٹیں بنتی ہیں۔ یہ ریکارڈنگز یاسمین کی ہیں جو یہاں رہتی تھی۔ اس کی زندگی کی جھلکیاں ان میں قید ہو گئی ہیں جسے ارون دیکھنا شروع کرتا ہے اور یاسمین کا تجربہ اس کی نئی پینٹنگ ہے۔ آخری کیسٹ میں پتا چلتا ہے کہ یاسمین، جسے بیاہ کر ممبئی لانے والا شوہر بے وفا نکلا ہے، خود کشی کے فیصلے کی اطلاع دے رہی ہے۔ ارون کی تصویر کا آخری حصہ مکمل ہو جاتا ہے۔

فلموں میں کام کرنے کی شدید خواہش رکھنے والا مُنا اس علاقے میں دھوبی کا کام کرتا ہے لیکن اسے ایک اور جز وقتی کام بھی کرنا پڑتا ہے اور وہ ہے چوہے مارنے کا کام۔ شہر کا کوڑا کرکٹ چوہوں کی بڑھوتری کا باعث بنتا ہے۔ انہیں مارنے پر ممبئی میں حکومت معاوضہ دیتی ہے۔ ممبئی میں روزگار کے لیے آنے والا مُنا رات کو یہی کام کرتا ہے۔

کچھ مختلف کرنے کی خواہش رکھنے والی شائی یہاں آ کر بینکار سے امیچور فوٹو گرافر بن گئی ہے۔ ممبئی کی عام زندگی اور رہن سہن کی فوٹو گرافی کے لیے اس کا سہارا وہی عام دھوبی بنتا ہے۔ مُنا کو شائی کے فوٹو گرافر ہونے کی خوشی اس لیے بھی ہے کہ وہ اداکار اور ماڈل بننا چاہتا ہے۔ وہ اس کا گائیڈ بن جاتا ہے اور پھر پسند کرنے والا، مگر یہ دھوبی ہے، اقرار تک نہیں کر پاتا۔ باوجود اس کے کہ شائی بھی اس کا خیال رکھنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک رات جب وہ چوہے مار رہا ہوتا ہے شائی اسے پہچان لیتی ہے۔ وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ چھونپڑ پٹی کے خستہ گھر میں آمد پر اسے پتہ چلتا ہے کہ اسے ممبئی میں لانے والا اور دیکھ بھال کرنے والا گینگ وار میں مارا گیا ہے۔ اب گھر کا بوجھ اسے اٹھانا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شائی اس ایک رات کے بعد ارون کو نہیں بھلا پائی۔ حقیقت جذبات کو مدھم کرتی ہے، وہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ اور بینکار ایک نہیں ہو سکتے۔

خرچ کو کم کرنے والی ”گوریلا تکنیک“ کی مدد سے بنائی جانے والی یہ فلم حقیقت کے قریب ہے۔ اس میں تو خودکشی کا فیصلہ بھی کردار شور و غوغے کے بغیر سناتا ہے۔ اداکاروں کے چہرے کے تاثرات میں بناوٹ نہیں۔ کہانی آہستگی اور روانی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

عامر خان جتنا معروف اداکار ہے اس تناسب سے کہانی میں اس کے کردار کی جگہ کم رکھی گئی ہے۔ ”خانز“ میں ایسا کردار صرف عامر خان ہی قبول کر سکتا ہے۔ ڈائریکٹر کرن راوٴ عامر خان کی بیوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ انہیں عامر خان کی بیوی کے طور پر جانتے ہیں لیکن وہ اپنی علیحدہ پہچان بنانا چاہتی ہیں۔ اس فلم کے ذریعے وہ اس میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اداکاروں میں سے صرف عامر خان معروف ہیں لیکن کرداروں کو سبھی نے خوب نبھایا ہے۔ اصل فلم کا خاصا حصہ انگریزی میں ہے۔ کرن کے مطابق یہ کمرشل فلم نہیں۔ یہ فلم ”مصالحے“ سے مبرا ہے، جس کے اگر آپ عادی ہیں تو اسے دیکھ کر بور ہوں گے۔

 

اشاعت: ہفت روزہ ہم شہری ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء

 

رضوان عطا

آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ممبئی ’دھوبی گھاٹ‘ کے ڈائریکٹر کے مطابق ان کی فلم کا پانچواں کردار ہے۔ فلم کا نام اس شہر میں واقع دنیا کی سب سے بڑی لانڈری کہلانے والے دھوبی گھاٹ پر رکھا گیا ہے۔ فلم ’دھوبی گھاٹ‘ ممبئی میں چار مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے تعلق، خواہشات اور احساسات کی کہانی ہے۔ ارون (عامر خان) ایک تنہا مصور ہے۔ مُنا (پراتیک ببر) نوجوان دھوبی ہے، ایک بھارتی نژاد امریکی اور بینکار لڑکی شائی ہے اور نئی شادی شدہ یاسمین (کریتی ملہوترا) ہے۔

ممبئی یوں ہی اتنا بڑا شہر نہیں بنا، معاشی مرکز میں روزگار کی تلاش بھارت کے ہر علاقے سے لوگوں کو یہاں کھینچ لائی ہے۔ یہ بھارت میں ثقافتوں، مذاہب اور قومیتوں کے ملاپ کی سب بڑی جگہ بھی ہے۔ یہاں تجربوں کا ہجوم ہے، انہی میں سے کرن راوٴ نے بطور ڈائریکٹر اپنی پہلی فلم کے لیے کچھ چن لیے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ارون کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش پر شائی کی اس سے ملاقات ہوتی ہے۔ اپنی مصوری پر تبصرہ کرنے والوں سے ارون بے زار ہے مگر شائی سے ملاقات کے بعد اسی سے ہی گفتگو ہونے لگتی ہیں اور پھر شائی ارون کے ساتھ اس کے فلیٹ میں ایک رات گزارتی ہے۔ صبح شائی مسرور ہے مگر ارون کی باتوں کا مطلب شائی کے نزدیک یہی نکلتا ہے، ”رات گئی، بات گئی“۔ وہ ناراض ہو کر چلی جاتی ہے۔

ارون فلیٹ بدل کر جہاں آیا ہے وہاں سے باہر کا نظارہ ایک مصور کے لیے دعوت کی طرح ہے مگر اس کے کینوس پر رنگ بکھیرنے کا باعث الماری میں پڑی وڈیو کیسٹیں بنتی ہیں۔ یہ ریکارڈنگز یاسمین کی ہیں جو یہاں رہتی تھی۔ اس کی زندگی کی جھلکیاں ان میں قید ہو گئی ہیں جسے ارون دیکھنا شروع کرتا ہے اور یاسمین کا تجربہ اس کی نئی پینٹنگ ہے۔ آخری کیسٹ میں پتا چلتا ہے کہ یاسمین، جسے بیاہ کر ممبئی لانے والا شوہر بے وفا نکلا ہے، خود کشی کے فیصلے کی اطلاع دے رہی ہے۔ ارون کی تصویر کا آخری حصہ مکمل ہو جاتا ہے۔

فلموں میں کام کرنے کی شدید خواہش رکھنے والا مُنا اس علاقے میں دھوبی کا کام کرتا ہے لیکن اسے ایک اور جز وقتی کام بھی کرنا پڑتا ہے اور وہ ہے چوہے مارنے کا کام۔ شہر کا کوڑا کرکٹ چوہوں کی بڑھوتری کا باعث بنتا ہے۔ انہیں مارنے پر ممبئی میں حکومت معاوضہ دیتی ہے۔ ممبئی میں روزگار کے لیے آنے والا مُنا رات کو یہی کام کرتا ہے۔

کچھ مختلف کرنے کی خواہش رکھنے والی شائی یہاں آ کر بینکار سے امیچور فوٹو گرافر بن گئی ہے۔ ممبئی کی عام زندگی اور رہن سہن کی فوٹو گرافی کے لیے اس کا سہارا وہی عام دھوبی بنتا ہے۔ مُنا کو شائی کے فوٹو گرافر ہونے کی خوشی اس لیے بھی ہے کہ وہ اداکار اور ماڈل بننا چاہتا ہے۔ وہ اس کا گائیڈ بن جاتا ہے اور پھر پسند کرنے والا، مگر یہ دھوبی ہے، اقرار تک نہیں کر پاتا۔ باوجود اس کے کہ شائی بھی اس کا خیال رکھنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک رات جب وہ چوہے مار رہا ہوتا ہے شائی اسے پہچان لیتی ہے۔ وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ چھونپڑ پٹی کے خستہ گھر میں آمد پر اسے پتہ چلتا ہے کہ اسے ممبئی میں لانے والا اور دیکھ بھال کرنے والا گینگ وار میں مارا گیا ہے۔ اب گھر کا بوجھ اسے اٹھانا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شائی اس ایک رات کے بعد ارون کو نہیں بھلا پائی۔ حقیقت جذبات کو مدھم کرتی ہے، وہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ اور بینکار ایک نہیں ہو سکتے۔

خرچ کو کم کرنے والی ”گوریلا تکنیک“ کی مدد سے بنائی جانے والی یہ فلم حقیقت کے قریب ہے۔ اس میں تو خودکشی کا فیصلہ بھی کردار شور و غوغے کے بغیر سناتا ہے۔ اداکاروں کے چہرے کے تاثرات میں بناوٹ نہیں۔ کہانی آہستگی اور روانی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

عامر خان جتنا معروف اداکار ہے اس تناسب سے کہانی میں اس کے کردار کی جگہ کم رکھی گئی ہے۔ ”خانز“ میں ایسا کردار صرف عامر خان ہی قبول کر سکتا ہے۔ ڈائریکٹر کرن راوٴ عامر خان کی بیوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ انہیں عامر خان کی بیوی کے طور پر جانتے ہیں لیکن وہ اپنی علیحدہ پہچان بنانا چاہتی ہیں۔ اس فلم کے ذریعے وہ اس میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اداکاروں میں سے صرف عامر خان معروف ہیں لیکن کرداروں کو سبھی نے خوب نبھایا ہے۔ اصل فلم کا خاصا حصہ انگریزی میں ہے۔ کرن کے مطابق یہ کمرشل فلم نہیں۔ یہ فلم ”مصالحے“ سے مبرا ہے، جس کے اگر آپ عادی ہیں تو اسے دیکھ کر بور ہوں گے۔

One thought on “دھوبی گھاٹ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s